گورنر راج یا ایمرجنسی لگی تو پی ٹی آئی اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائے گی: جنید اکبر

اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو پی ٹی آئی اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائے گی۔
جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ استعفے نہ دینے والے ارکان کی تعداد 36، 56 یا 70 ہو، پارٹی ہر صورت اسمبلیوں سے استعفے دے گی۔ ان کے مطابق پارٹی میں قیادت کی کوئی کمی نہیں۔
جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ وزیراعظم کے کہنے پر شروع نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کے کہنے پر اسے ملتوی کیا جائے گا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ شروع کرنے سے قبل طویل وقت اس لیے رکھا گیا تاکہ مذاکرات یا کوئی درمیانی راستہ نکل سکے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات چاہتی ہے، تاہم مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے مطالبات کیے گئے جبکہ ان کے مطالبات کو شامل نہیں کیا گیا۔ جنید اکبر نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی میں پی ٹی آئی کی تقریریں غائب ہوجاتی ہیں اور اسے سیاسی اسپیس نہیں مل رہی۔
پی ٹی آئی رہنما نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے اور دہشت گردوں سے مذاکرات یا انہیں سہولت دینے والوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں انتظامی افسران کی تقرری اور تبادلوں میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ جنید اکبر کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے 7 ڈپٹی کمشنرز کے تبادلوں کے بعد انہیں مبینہ طور پر چارج نہ لینے کی ہدایات دی گئیں۔
جنید اکبر نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرتی ہے تو پی ٹی آئی اس کا سیاسی طور پر جواب دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنی حکومت بچانے کے لیے بھی تیار ہے اور اسمبلیوں سے استعفوں کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔



