لاہور میں مبینہ بھتہ وصولی پر سوشل ویلفیئر کا نائب قاصد گرفتار، ملازم معطل
لاہور (شیخ طاہر علی) پنجاب حکومت کی جانب سے گراں فروشی کی روک تھام کے اقدامات کے باوجود لاہور میں پرائس کنٹرول کے نام پر مبینہ ماہانہ وصولی کا معاملہ سامنے آگیا۔ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے نائب قاصد محمد اشرف کو چوبرجی میں واقع ایک بیکری سے مبینہ طور پر ماہانہ وصول کرتے ہوئے پکڑا گیا، جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے حوالات میں بند کردیا گیا۔ محکمہ نے ملازم کو معطل کرتے ہوئے واقعے کی انکوائری کا حکم بھی دے دیا ہے۔



ذرائع کے مطابق بدھ کے روز متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر چوبرجی میں واقع ایک بیکری کی چیکنگ کے لیے پہنچے تو بیکری عملے نے محمد اشرف کو پرائس کنٹرول سے وابستہ ملازم بتایا۔ اس پر پوچھ گچھ کی گئی تو مبینہ ماہانہ وصولی کا معاملہ سامنے آیا، جس کے بعد نائب قاصد کو ڈپٹی کمشنر آفس لے جایا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد اشرف کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا گیا، جس میں اس نے مبینہ ماہانہ وصولی کے علاوہ سوشل ویلفیئر افسر اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ علی جنجوعہ کے لیے کام کرنے کا بھی اقرار کیا۔ حکام نے اس سے ان مقامات کی تفصیلات بھی حاصل کیں جہاں سے مبینہ طور پر ماہانہ وصولی کی جاتی تھی۔
واقعے کے بعد سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی ڈویژنل ڈائریکٹر نے محمد اشرف کو فوری طور پر معطل کردیا، جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر ایمپلی مینٹیشن ارشاد وحید کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا۔ علی جنجوعہ نے گزشتہ روز انکوائری میں پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل سیالکوٹ میں بھی سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا ایک ملازم مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
دوسری جانب علی جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ نائب قاصد کے معاملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور محمد اشرف نے پکڑے جانے کے بعد جھوٹا بیان دیا۔
معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، اس لیے متعلقہ افسر کے خلاف الزامات کو ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔



