column and articlelatest news

ادبِ ایشیا کے نوبیل چراغ : ہان کانگ ، خاموشی میں چیختی ہوئی انسانیت

خالد منصور

جنوبی کوریا کی ادیب ہان کانگ کی تحریر کو پڑھنا محض ایک کہانی پڑھنا نہیں، بلکہ انسانی وجود کے ان تاریک گوشوں میں اترنا ہے جہاں لفظ ختم ہونے لگتے ہیں اور خاموشی بولنے لگتی ہے۔ ان کے ہاں جسم صرف جسم نہیں، یادداشت بھی ہے؛ خاموشی صرف خاموشی نہیں، احتجاج بھی ہے؛ اور ماضی محض گزر جانے والا وقت نہیں بلکہ ایک ایسا سایہ ہے جو انسان کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔

2024 ء میں ہان کانگ کو نوبیل انعام برائے ادب دیا گیا۔ نوبیل کمیٹی نے ان کے ادب کو ایسی شاعرانہ نثر قرار دیا جو تاریخی صدمات کا سامنا کرتی ہے اور انسانی زندگی کی ناپائیداری کو نمایاں کرتی ہے۔ وہ جنوبی کوریا کی پہلی ادیب ہیں جنہیں ادب کا نوبیل انعام ملا۔

ہان کانگ 1970ء میں جنوبی کوریا کے شہر گوانگجو میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد بھی معروف ناول نگار تھے۔ انہوں نے 1993ء میں شاعری سے ادبی سفر شروع کیا اور 1995ء میں افسانوی نثر کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کے ادب میں شاعری، فنونِ لطیفہ اور موسیقی کے اثرات بھی نمایاں دکھائی دیتے ہیں لیکن ہان کانگ کا اصل ادبی سفر ان سوالات سے عبارت ہے جو انسان صدیوں سے اپنے آپ سے پوچھتا آیا ہے۔

انسان ہونا کیا ہے؟ جسم پر انسان کا کتنا اختیار ہے؟ تشدد کے بعد یادداشت کس طرح زندہ رہتی ہے اور کیا خاموشی بھی مزاحمت کی ایک زبان ہوسکتی ہے؟ ہان کانگ ان سوالات کے آسان جواب نہیں دیتیں۔ وہ خود کہتی ہیں کہ ناول لکھتے ہوئے وہ سوال کے جواب تک پہنچنے کے بجائے سوال کے آخری سرے تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ہان کانگ کا عالمی ادبی تعارف ان کے شہرۂ آفاق ناول The Vegetarian سے ہوا۔ 2007ء میں کورین زبان میں شائع ہونے والے اس ناول نے 2016ء میں انٹرنیشنل بُکر پرائز جیت کر ہان کانگ کو عالمی ادب کے منظرنامے پر نمایاں کردیا۔

ناول کی مرکزی کردار یونگ ہئے ایک دن گوشت کھانا چھوڑ دیتی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی ذاتی فیصلہ ہے، مگر ہان کانگ کے فن میں یہی معمولی فیصلہ پورے معاشرے کے لیے ایک سوال بن جاتا ہے۔

یونگ ہئے کا گوشت کھانے سے انکار رفتہ رفتہ خاندان، ازدواجی زندگی، جسم، جنس، سماجی توقعات اور فرد کی آزادی کے بڑے سوالات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کا خاموش احتجاج اس معاشرے کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے جو فرد سے مطابقت اور فرمانبرداری کا تقاضا کرتا ہے۔

یہاں ہان کانگ گوشت کھانا چھوڑنے کی کہانی نہیں لکھ رہیں؛ وہ انسان کے اپنے جسم اور اپنی ذات پر اختیار کی کہانی لکھ رہی ہیں۔ناول میں جسم ایک میدان بن جاتا ہے، جہاں خواہش، تشدد، سماجی جبر اور آزادی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ بُکر پرائز کے مطابق یہ کتاب شرم، خواہش اور دوسروں کے اعمال کو سمجھنے میں ہماری ناکامی جیسے موضوعات کو بھی سامنے لاتی ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ The Vegetarian قاری کو ختم ہونے کے بعد بھی چھوڑتی نہیں۔ اس کی خاموش عورت بہت دیر تک ہمارے اندر سوال کرتی رہتی ہے۔

اگر The Vegetarian فرد کے اندرونی احتجاج کی داستان ہے تو Human Acts اجتماعی تشدد اور تاریخی یادداشت کا ناول ہے۔

یہ ناول 1980ء کے گوانگجو جمہوری تحریک کے پس منظر میں لکھا گیا، وہی شہر جہاں ہان کانگ خود پیدا ہوئی تھیں۔ اس واقعے میں فوجی کریک ڈاؤن کے دوران طلبہ اور عام شہری ہلاک ہوئے۔ ہان کانگ نے اس تاریخی المیے کو محض اعداد و شمار یا سیاسی تاریخ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انسانی جسم، غم، یادداشت اور زندہ بچ جانے والوں کے تجربے کے ذریعے بیان کیا۔

یہاں تاریخ کتاب کے صفحات پر نہیں رہتی۔ وہ لاشوں میں اترتی ہے، ماؤں کی آنکھوں میں ٹھہر جاتی ہے اور بچ جانے والوں کی یادداشت میں زندہ رہتی ہے۔ ہان کانگ کے لیے تشدد کا اختتام گولی چلنے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد بھی اس کی بازگشت نسلوں تک انسانوں کے اندر رہتی ہے۔اسی لیے Human Acts پڑھتے ہوئے سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کیا ہوا تھا؟ بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ جو کچھ ہوا، اس کے بعد انسان کیسے زندہ رہتا ہے؟

ہان کانگ کے ادب میں تشدد کے ساتھ ساتھ غم کی انتہائی خاموش شکل بھی موجود ہے۔ The White Book اسی خاموشی کا ایک خوب صورت نمونہ ہے۔

یہ کتاب ایک ایسی بڑی بہن کی یاد سے جنم لیتی ہے جو پیدائش کے صرف دو گھنٹے بعد دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔ راوی سفید اشیا، رنگ، یاد اور موت کے ذریعے اس مختصر زندگی کو دوبارہ چھونے کی کوشش کرتی ہے۔ سفید رنگ یہاں محض رنگ نہیں رہتا۔ وہ دودھ ہے، برف ہے، کفن ہے، روشنی ہے
اور ایک ایسی زندگی کی یاد بھی ہے جو پوری طرح شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔

ہان کانگ غم کو بلند آواز میں بیان نہیں کرتیں۔ وہ اسے چھوٹے چھوٹے سفید استعاروں میں تقسیم کردیتی ہیں۔ یوں قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ کبھی کبھی سب سے گہرا دکھ وہ ہوتا ہے جسے بیان کرنے کے لیے چیخ کی نہیں، صرف ایک خاموش رنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہان کانگ کے اہم ناولوں میں We Do Not Part بھی شامل ہے، جس میں جنوبی کوریا کے جیجو جزیرے کے قتلِ عام کی تاریخی یاد اور اس کے انسانی اثرات کو دو خواتین کی کہانی کے ذریعے دیکھا گیا ہے۔ یہاں بھی ماضی ختم نہیں ہوتا۔ وہ موجودہ زندگی میں واپس آتا ہے، سوال کرتا ہے، زخمی کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ اجتماعی سانحات صرف تاریخ کی کتابوں میں محفوظ نہیں رہتے وہ خاندانوں، رشتوں اور انسانوں کی داخلی دنیا میں بھی منتقل ہوتے ہیں۔

ہان کانگ کی پوری تخلیقی دنیا میں یادداشت ایک زندہ کردار کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ وہ بھولی ہوئی تاریخ کو دوبارہ آواز دیتی ہیں اور ان لوگوں کے دکھ کو لفظ دیتی ہیں جن کی آواز شاید تاریخ کے شور میں دب گئی تھی۔

ہان کانگ کی نثر کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی شاعرانہ کیفیت ہے۔ وہ منظر کو صرف بیان نہیں کرتیں، اسے محسوس کرواتی ہیں۔ ان کے ہاں لمس، بو، رنگ، جسم اور خاموشی سب معنی اختیار کرلیتے ہیں۔وہ خود کہہ چکی ہیں کہ لکھتے ہوئے وہ حسی تجربات، خاص طور پر سماعت، لمس اور بصری تصویروں کو اپنے جملوں میں شامل کرنے پر بہت زور دیتی ہیں۔ اسی لیے ان کے جملے بعض اوقات مختصر ہونے کے باوجود دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔

ان کے ہاں پھول صرف پھول نہیں، درخت صرف درخت نہیں، سفید رنگ صرف سفید رنگ نہیں اور خاموش انسان صرف خاموش انسان نہیں۔ ہر چیز کے پیچھے ایک دوسری دنیا چھپی ہوتی ہے۔

ہان کانگ کا نوبیل انعام صرف ایک ادیب کی عالمی پذیرائی نہیں بلکہ کورین ادب کے اس سفر کی بھی علامت ہے جس نے ترجمے کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں تک رسائی حاصل کی۔

The Vegetarian کے انگریزی ترجمے نے انہیں عالمی قارئین تک پہنچایا اور 2016ء میں انٹرنیشنل بُکر پرائز جیتا۔ اس کے بعد Human Acts، The White Book اور We Do Not Part سمیت ان کی دیگر تخلیقات بھی دنیا کی متعدد زبانوں میں پہنچیں لیکن ہان کانگ کی اصل طاقت شاید انعامات سے کہیں آگے ہے۔

وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ادب ہمیشہ شور پیدا کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ کبھی ادب کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ کسی بھولی ہوئی چیخ کو محفوظ کرلے۔ کوئی چیخ جو تاریخ نے نہیں سنی، کوئی آنسو جس کا شمار نہیں ہوا، کوئی جسم جس پر تشدد ہوا۔ کوئی عورت جس نے خاموشی سے انکار کیا، کوئی بچہ جو دنیا میں آکر چند لمحوں بعد چلا گیا اور کوئی شہر جو خون اور یادداشت کے درمیان آج بھی اپنے ماضی کو اٹھائے ہوئے ہے۔ہان کانگ انہی خاموش آوازوں کی ادیب ہیں۔

ان کے ادب میں انسان بہت کمزور بھی ہے اور حیرت انگیز طور پر مزاحمت کرنے والا بھی۔ جسم فنا ہونے والا ہے، یادداشت زخمی ہو سکتی ہے، تاریخ انسان کو کچل سکتی ہے مگر لفظ، کبھی کبھی، ان سب کے بعد بھی باقی رہ جاتا ہے۔

یہی ہان کانگ کی ادبی دنیا کا سب سے روشن چراغ ہے وہ دکھ کو صرف بیان نہیں کرتیں، اسے انسانی یادداشت کا حصہ بنا دیتی ہیں۔اور شاید اسی لیے ہان کانگ کو پڑھتے ہوئے ہمیں جنوبی کوریا کی تاریخ کے ساتھ ساتھ اپنی ہی انسانیت کا چہرہ بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button