

ہمارے زمانے میں ڈاکٹر سہیل احمد خان، زاہد ڈار اور انتظار حسین یہاں مستقل بیٹھتے تھے البتہ کشور ناہید، جاوید شاہین، اکرام اللہ، مظفر علی سید اور سجاد باقر رضوی کبھی کبھار بیٹھنے والوں میں شامل تھے سنا ہے کہ ناصر کاظمی، احمد مشتاق، ابن انشا اور امانت علی خاں بھی اپنے زمانے میں اس میز پر بیٹھا کرتے تھے، حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں شرکت کے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگیں تو دائیں طرف سیڑھیوں کے قریب ایک سرخ و سفید رنگ کا مفلوک الحال بوڑھا شخص اپنی جائے نماز، لوٹے اور دیگر کئی چیزوں سمیت بیٹھا نظر آتا یہ خان فضل الرحمان خان تھے اور یہی ان کا مستقل ٹھکانہ تھا جبکہ سیڑھیوں کے بائیں جانب کچن سے ملحقہ دیوار کے ساتھ ایک لمبے اور خستہ صوفے پر اسرار زیدی کی نشست تھی جہاں ان کے علاوہ شہرت بخاری، اختر حسین جعفری، سیف زلفی اور صفدر جعفری بیٹھے نظر آتے۔

اس زمانے میں ادیب شاعر روزانہ کی بنیاد پر پاک ٹی ہاؤس آیا کرتے اپنے اپنے گروپوں سے منسوب میزوں پر بیٹھ کر چائے کا لطف اُٹھاتے اور نئے نئے فلسفوں پر تبادلۂ خیالات کرتے تھے ایسے میں ایک شخص ایسا بھی تھا جسے میں اب تک نہ جان پایا تھا وہ ٹی ہاؤس کے اندر کم کم ہی بیٹھا کرتا میں نے اکثر اسے ٹی ہاؤس کے سامنے سر راہ نصب لوہے کے پائپوں سے بنی ریلنگ پر اکیلے بیٹھے دیکھا تھا تنہا تنہا، بجھا بجھا اور اُداس اداس، اپنے اردگرد سے بیزار اور اپنی دھن میں مگن۔ میں نے آتے جاتے کئی بار اس کے بارے میں سوچا کہ آخر وہ کون ہے؟ کوئی تیسرے درجے کا شاعر، کوئی جنسی افسانہ نگار، کسی بی کلاس اخبار کا ادبی رپورٹر یا پھر ادیبوں کے پیچھے لگایا گیا کسی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ؟ یہ جنرل ضیا الحق کا آخری زمانہ تھا اس لیے خفیہ والوں کی طرف سے ادیبوں کی جاسوسی کوئی نئی بات نہ تھی یہی وجہ ہے کہ مجھے اس پراسرار شخص پر کسی خفیہ والے کا گمان گزرتا تھا۔

بڑا سا چکور چہرہ، بڑی اور گہری سلوٹوں سے اٹی کشادہ پیشانی، آخری عمر تک گھنے مگر کھچڑی ہوتے بال، موٹے اور سیاہی مائل ہونٹ، معمول سے بڑے کان، چہرے پہ کافی جگہ گھیرے ہوئے چپٹی ناک، درمیانہ قد، سانولی رنگت، گھنی بھنوؤں کے نیچے بڑی بڑی آنکھیں جن میں اداسی، بیزاری، تنہائی اور اکتاہٹ گھل مل گئی تھی۔ وہ اکثر شلوار قمیض اور پینٹ شرٹ پہنے نظر آتا ایک دو بار میں نے اسے انگریزی سوٹ میں بھی ملبوس دیکھا جسے پہن کر وہ مزید دیہاتی نظر آنے لگتا، آدم بیزاری کو چھوتی ہوئی اس کی کم آمیزی کو دیکھ کر یہ شخص اُکھڑا ہوا اور کھردرا دکھائی دیتا تھا، بظاہر گھریلو زندگی کی طرف سے بے سکون اور جدید شہری زندگی سے اکتایا ہوا یہ شخص ٹی ہاؤس کی ریلنگ پر گھنٹوں خاموش بیٹھا رہتا، باہر سے دیکھنے میں وہ مجھے کبھی شاعر نہ لگا اور رہی اس کی اندر کی دُنیا تو مجھے یقین تھا کہ وہ اتنی آسانی سے کسی کو اپنے اندر تک رسائی نہ دیتا ہوگا۔ جب میں نے نیا نیا ٹی ہاؤس آنا شروع کیا ایک روز میں نے اس کی خاموشی میں مخل ہونے کی کوشش کی تھی اس نے بڑی رکھائی سے میرے سلام کا جواب دیا اور منہ دوسری طرف پھیر لیا گویا اس نے اپنی جانب سے گفتگو کا دروازہ بند کر دیا تھا۔
میں چلتے چلتے اچانک رکا اور اسے حیرانی سے دیکھنے لگا، وہ اردگرد سے بے خبر ٹانگیں لٹکائے یوں بیٹھا تھا جیسے اپنے سامنے قرطاس و قلم رکھے نوائے سروش سننے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک لمحے میں میری نظروں میں احمد راہی کی سپر ہٹ فلمیں سسی پنوں، مرزا جٹ، ہیر رانجھا، چھومنتر، یکے والی، باجی، ناجو، شہری بابو، نکے ہندیاں دا پیار اور ماہی منڈا بجلی کی طرح کوند گئیں، میرے دل و دماغ میں یادوں کی کتاب کے سنہری ورق پھڑ پھڑانے لگے میرے حافظے کے آنگن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزری ایک ایسی ہی یادگار شام اُترنے لگی جب میں اپنے والدین کے ہمراہ احمد راہی کی مشہور فلم سسی پنوں دیکھنے گیا تھا یہ 1980ء کا زمانہ تھا اور میں نے یہ فلم اپنے مرحومین والدین کے پہلو میں بیٹھ کر دیکھی تھی، یہ فلم بینی کے عروج کے دن تھے شام ہوتے ہی لوگ جوق در جوق سینما ہالوں کا رخ کیا کرتے، ان میں بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں اور مرد سبھی شامل ہوتے تھے اس فلم نے میرے ننھے ذہن پر اس لیے بھی گہرے اثرات مرتب کیے کہ فلم میں کسی کا باپ اپنی معصوم بیٹی کو صندوق میں بند کر کے دریا میں پھینک دیتا ہے یہ جذباتی منظر آنے والے کئی سالوں تک میرے ذہن پر نقش رہا، اس وقت میں یہ نہیں جانتا تھا کہ احمد راہی کون ہے اور آنے والے زمانے میں میرے ان سے گہرے مراسم قائم ہوں گے؟
1990 ء کی دہائی میں جب میں تعلیم کی غرض سے لاہور میں موجود تھا لاہور کی تہذیبی زندگی کی شام ہو رہی تھی، تانگے بھر بھر کے سینما ہالوں کی طرف آنے والی عورتیں گھروں تک محدود کر دی گئی تھیں، فلمی سکرین پر سلطان راہی کی بڑھک اور سینما ہالوں پر مردوں کی جنسی نا آسودگی نے غلبہ حاصل کر لیا تھا۔ لکشمی چوک کے پہلو میں واقع رائل پارک کی رونقیں اگرچہ دھندلانے لگی تھیں تاہم ثقافتی زندگی کے اس اہم مقام پر دیگر مصنفین کی فلموں کے ساتھ ساتھ احمد راہی کی مشہور فلموں کے بڑے بڑے سائز کے پوسٹرز ابھی تک فلمی دنیا پر حکمرانی کر رہے تھے ان میں سب سے بڑا پوسٹر راہی صاحب کی مشہور فلم ”یکے والی“ کا تھا پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی ثقافتی زندگی کا یہ مرکز ویران ہونے لگا لکشمی چوک اور اس کے گرد و نواح میں واقع سینما پہلے تو ڈرامہ ہالز میں بدلے (جہاں ایک اور طرح کی فحاشی اور دلگیری فروغ پا رہی تھی) اور آخر میں ہماری ثقافتی زندگی کے یہ نشان گوشت خوری کے اڈوں میں بدل گئے۔
اس کایا کلپ کے نتیجے میں یوں لگتا تھا جیسے پوری قوم اپنی ذہنی زندگی سے دستبردار ہو چکی ہو۔ نامور فن کار گمنامی کے اندھیروں میں جا چھپے، فلم کے بڑے بڑے ڈائریکٹرز کو ہم نے مرغی کا گوشت بیچتے اور چائے کے کھوکھے چلاتے دیکھا انہی ایام میں ایک روز میں ایک بہت بڑے نامور ڈائریکٹر کو درزی کے روپ میں دیکھ کر دنگ رہ گیا تب اچانک مجھے محسوس ہوا کہ احمد راہی کی کم آمیزی، اداسی اور مایوسیوں کا سبب کیا ہے؟
ایک سہ پہر کے آس پاس پاک ٹی ہاؤس جانا ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ احمد راہی چائے کا کپ سامنے رکھے خلاؤں میں گھور رہے ہیں انہیں تنہا دیکھ کر ایک انجانی خوشی میرے رگ و پے میں سرایت کر گئی محتاط قدموں سے چلتا ہوا میں ان کی میز کے قریب پہنچا انہیں سلام کیا اور بیٹھنے کی اجازت چاہی انہوں نے اس اچانک مداخلت پر اکتائی نظروں سے میرے سراپا کا جائزہ لیا اور خاصے تکلیف دہ انتظار کے بعد کہا ”بیٹھو“۔ آج انہوں نے سفید شلوار قمیض پر گرے رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا مگر ان کا لہجہ پنجاب کی دیہی عورتوں جیسا تھا اور ان کی کم آمیزی انتظار حسین، منیر نیازی اور سہیل احمد خاں کی طرح خود ساختہ نہ تھی ”چائے پئیں گے؟“ سناٹے میں آواز اُبھری مگر میں نے شکریے کے ساتھ انکار کر دیا جواباً انہوں نے ایک لمبی ہونہہ کہی اور واپس اپنے خاموشی کے محل میں پناہ گزیں ہو گئے۔

مجھے معلوم تھا کہ ان کا تعلق امرتسر سے ہے، امرتسر پہلوانوں، اداکاروں، شمشیر زنوں، گتکے بازوں، شاعروں، ادیبوں، کلاسیکل گلوکاروں، ترقی پسندوں، انقلابیوں، رئیسوں، مذہبی پیشواؤں، کھلاڑیوں اور سیاست دانوں کا شہر۔ اس شہر نے آغا حشر، صوفی تبسم، صفدر میر، منٹو، اے حمید، سیف الدین سیف، باری علیگ، شہزاد احمد، تبسم کاشمیری اور احمد راہی جیسے تخلیق کار ہی پیدا نہیں کیے بل کہ امید علی خان اور غلام حسن شگن (کلاسیکل سنگرز)، راجیش کھنہ، اکشے کمار (اداکار)، گاما، امام بخش اور بھولو (پہلوان)، بشن سنگھ بیدی (کھلاڑی)، کپِل شرما (کامیڈین)، مختار بیگم، نسیم بیگم، شمشاد بیگم اور فریدہ خانم (گلوکارائیں)، مسعود پرویز اور حسن طارق (ہدایت کار)، فضل الرحمن خان (کرکٹر) اور مولا بخش کشتہ جیسے شاعر کا تعلق بھی امرتسر سے تھا۔ امرتسر جس کے میٹھے پانیوں کی شیرینی اس کے باشندوں کے لہجوں سے ٹپکتی تھی، میں اس شہر کے جتنے فرزندوں سے ملا یا ان کے بارے میں پڑھا وہ سب کے سب کھلے ڈلے اور قہقہہ مار کر ہنسنے والے لوگ تھے، امرتسر کا غلام مصطفی اپنے قہقہوں کے باعث صوفی تبسم کہلایا میں نے عطا الحق قاسمی، شہزاد احمد اور تبسم کاشمیری کے قہقہوں سے محفلوں کو کشتِ زعفران بنتے دیکھا تھا میں راہی صاحب کے سامنے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ کیسے امرتسری ہیں جو ہر وقت خاموش اور اداس رہتے ہیں، جاوید شاہین کے بعد یہ دوسرے شخص تھے جو امرتسری ہونے کے باوجود ہر وقت لیے دیے رہتے تھے۔
لاہور سے صرف 28 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع احمد راہی کا امرتسر ایک تہذیبی شہر تھا جس میں ایک باری علیگ نامی ادیب اور صحافی رہتا تھا جو منٹو، احمد راہی اور اے حمید سمیت ہر شاعر، ادیب، صحافی، ترقی پسند اور باغی کا گرو تھا جو بھی نوجوان اس کی صحبت میں بیٹھتا وہ چند ہی روز میں اس میں بجلیاں بھر دیتے اگر باری علیگ نہ ہوتے تو ہم منٹو، اے حمید اور احمد راہی نامی کسی ادیب و شاعر سے آگاہ نہ ہوتے، باری علیگ کی صحبت نہ ملتی تو ممکن ہے منٹو باغی کی حیثیت سے تختہ دار پر جھول چکے ہوتے اور احمد راہی کسی دکان پر پشمینے کی شالیں بیچتے بیچتے دنیا سے رخصت ہو جاتے۔

چائے احمد راہی کے سامنے پڑی پڑی ٹھنڈی ہو چکی تھی مگر انہوں نے ایک گھونٹ بھی اپنے ہونٹوں سے نہ لگایا میں سمجھ گیا کہ چائے تو ٹی ہاؤس میں بیٹھنے کا ایک بہانہ ہے ورنہ تو وہ آج ممنوعہ چشموں کے پانی سے سرشار تھے میرے پاس امرتسر، ماہنامہ سویرا، ترنجن اور فلم نگری سمیت گفتگو کے کئی جذباتی منطقے موجود تھے مگر میں نے ان کے مزاج کی سرشاری کو بھانپتے ہوئے ان کے آبائی شہر امرتسر کی جادوئی سرزمین پر اترنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی پیدائش، نام، بچپن اور ابتدائی ادبی زندگی کے حوالے سے میرا سوال سن کر پہلی بار ان کے چہرے پر مسکراہٹ طلوع ہوئی، ان کی ذات کے گرد بڑی محنت سے اُٹھائی گئی مغائرت کی دیوار آہستہ آہستہ گرنے لگی، امرتسر محض ایک آبادی نہ تھی یہ ان کے خوابوں کا شہر تھا نومبر 1923ء میں وہ اسی شہر کے کوچہ دھرم شالہ (کڑہ بھائی) میں پیدا ہوئے والدین نے نام غلام احمد رکھا مگر خاندان کے روحانی پیشوا نے غلام احمد کو خورشید احمد سے تبدیل کر دیا مگر جب آگے چل کر ان کی ذات میں شاعر کا ظہور ہوا تو وہ احمد راہی کی تخلیقی شناخت کے ساتھ سامنے آئے۔
اس روز انہوں نے اپنے بچپن کے دوستوں، اپنے خوابوں کے شہر کی افسانوی گلیوں، الف لیلوی محلوں، اساطیری چہروں، سرسبز کھیتوں، میٹھے پانیوں اور پھل دار باغوں کا ذکر نہایت وارفتگی سے کیا، محمدیہ پرائمری سکول، مڈل سکول خزانہ گیٹ، ایم اے او سکول اور کالج کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں ایک بچے کی طرح چھلکنے لگیں یوں لگتا تھا کہ زندگی کی ساری تلخیاں اور سختیاں ان کے چہرے تک محدود تھیں اندر سے وہ ایک بچے کی طرح معصوم اور نرم تھے۔ میں نے اس زمانے کے منٹو اور سیف الدین سیف کے بارے میں پوچھا تو ان کی آنکھوں اور لہجے میں ایک خاص طرح کی چمک لوٹ آئی: ”سیف صاحب میرے دوست تھے اور اُستاد بھی، ہماری ملاقات ایم اے او سکول سے شروع ہوئی اور ساری عمر جاری رہی، میں اپنی ابتدائی شاعری انہی کو دکھایا کرتا تھا ازاں بعد فلم نگری میں بھی انہوں نے میری مدد کی۔“


سویرا کا پہلا شمارہ 1947ء میں چوہدری نذیر کے اشاعتی ادارے ‘نیا ادارہ’ کے زیر اہتمام شائع ہوا اس زمانے میں ترقی پسند ادب اور نئے ادب کے ترجمانوں کے درمیان فکری اختلاف میں شدت پیدا ہونے لگی تھی، دونوں گروہوں کے اپنے اپنے پلیٹ فارمز موجود تھے اور اب دونوں نے اپنے اپنے تصور ادب کی ترویج کے لیے نئے نئے رسائل بھی جاری کرنا شروع کر دیے تھے، سویرا، ادب لطیف، ساقی، فنون، اوراق اور ادبی دنیا اپنی اپنی شناخت کے ساتھ ادبی منظر نامے پر موجود تھے، ظہیر کاشمیری، فکر تونسوی، حنیف رامے، احمد ندیم قاسمی، ساحر لدھیانوی، صلاح الدین محمود، عارف عبدالمتین، احمد راہی اور محمد سلیم الرحمن مختلف اوقات میں سویرا کے مدیر رہے، بنیادی طور پر یہ رسالہ ترقی پسند ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے منظر عام پر آیا تھا مگر آگے چل کر نہ صرف اس کی نظریاتی سمت تبدیل ہو گئی بل کہ مختلف مدیران کے بدلنے سے پرچے کے نئے رنگ و روپ اور بلندیاں سامنے آئیں، شروع میں اس کی پیشانی پر لکھا جاتا تھا "ترقی پسند ادب کا ترجمان” ازاں بعد اس نظریاتی سلوگن کی جگہ "آرٹ اور کلچر کے ترجمان” نے لے لی، صلاح الدین محمود کے زمانے میں اس کا آغاز آیاتِ قرآنی سے ہونے لگا، ساحر لدھیانوی کے باغیانہ اداریوں نے جہاں حکومتی ایوانوں میں ہلچل پیدا کی اور ادارے کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی وہیں احمد ندیم قاسمی کے اپنے ادارے میں، پرچے کی نظریاتی شناخت ختم کرتے ہوئے لکھا کہ سویرا ”کسی معنک منزل کی طرف اشارہ نہیں کرتا“، فاضل مدیر نے سویرا کو نئے ادب کی منزل قرار دیا گویا انہوں نے ترقی پسندوں اور جدیدیوں کے درمیان موجود شناخت کی دیوار ہی گرا دی۔
شروع میں تو اس پرچے میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، پریم چند، سجاد ظہیر، اختر حسین رائے پوری، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، منٹو، جیلانی بانو، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، فیض احمد فیض، احتشام حسین، ممتاز حسین، بلونت سنگھ، عزیز احمد، ظہیر کاشمیری، عبداللہ ملک، سلام مچھلی شہری، ضیا جالندھری اور دیگر ترقی پسند اہل قلم شائع ہوتے تھے لیکن نظریاتی شناخت کے خاتمے کے ساتھ ہی ڈاکٹر خورشید رضوی اور اشفاق احمد سے لے کر ہر طرح کے اہل قلم اس پرچے میں شائع ہونے لگے بالخصوص خورشید رضوی صاحب کا مضمون ”عربی ادب قبل از اسلام“ سترہ اٹھارہ قسطوں میں شائع ہوا۔ احمد راہی غالباً 53-1951ء میں ”سویرا“ کے ایڈیٹر رہے اس دوران انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ نہ صرف پنجابی ادب کے نامور اہل قلم کو پرچے کے ساتھ وابستہ کیا بلکہ انہوں نے امرتا پریتم، بلونت سنگھ، زہرہ نگاہ، حنیف رامے، ادا جعفری، احمد ندیم قاسمی، فراق گورکھپوری، کیفی اعظمی، فکر تونسوی اور ممتاز مفتی جیسے نئے ادیبوں پر تنقیدی مضامین لکھ کر انہیں ”سویرا“ کے قارئین کے وسیع حلقے میں متعارف کرایا۔
پاک ٹی ہاؤس مکمل خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا اچانک الہی بخش کی آواز سنائی دی ”چائے لیں گے؟“ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور راہی صاحب سے سوال کیا ”کیا امرتسر اب بھی یاد آتا ہے؟“ انہوں نے اداس نظروں سے مجھے دیکھا اور بولے ”میں اپنے خوابوں کے دیس کو کیسے بھول سکتا ہوں؟ اس شہر کے گلی کوچے، شناسا چہرے اور کمپنی باغ اب بھی میرا پیچھا کرتے ہیں، 1947ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ آگ کے دریا سے گزر کر میں لاہور پہنچا، لاہور نے میرے لیے اپنی بانہیں پھیلائیں، مجھے تحفظ دیا، عزت اور شہرت دی مگر امرتسر آج بھی خوابوں میں میرا پیچھا کرتا ہے، میرا شہر لاہور سے صرف 28 کلومیٹر دور ہے میں وہاں پیدل جا سکتا ہوں، میں اسے ایک نظر دیکھنے کے لیے بلک رہا ہوں لیکن اسے دوبارہ دیکھنا میرے لیے ممکن نہیں رہا“ انڈیا کے مشہور اداکار بلراج ساہنی پاکستان آئے تو انہوں نے راہی صاحب سے ملاقات کی خواہش کی دونوں ایک دوسرے سے کبھی نہ ملے تھے ساہنی نے راہی کی نظمیں سن رکھی تھیں جب کہ راہی نے ان کی فلمیں دیکھی تھیں جب راہی صاحب نے مہمان اداکار کی فرمائش پر امرتسر کے حوالے سے اپنی نظم سنائی تو وہ صوفے پر سر رکھے دیر تک روتے رہے پھر بولے ”ان آنسوؤں میں سے آدھے میں نے اپنے لیے بہائے ہیں اور آدھے راہی صاحب کے لیے“ دونوں امرتسر کو یاد کر کے دیر تک روتے رہے آخر بلراج ساہنی گلوگیر آواز میں بولے ”کاش میں پورے کا پورا امرتسر اٹھا کر راہی صاحب کی ہتھیلی پر رکھ سکتا“
”سویرا“ کی ادارت کے زمانے ہی میں ان کی پنجابی نظموں کا مجموعہ ”ترنجن“ منظر عام پر آیا تھا اس کتاب کی اشاعت (1952ء) کے ساتھ انہیں علمی و ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی ملی اور ان کا شمار جدید پنجابی نظم کے بانیوں میں ہونے لگا، ترنجن کے گیتوں اور نظموں میں ایسی لوک چاشنی تھی کہ کتاب شاعر کی زندگی ہی میں کلاسک کے درجے پر فائز ہو گئی، اس مجموعے نے پنجابی زبان کے بارے میں پایا جانے والا یہ تاثر ختم کر دیا کہ یہ زبان نازک احساسات و جذبات کے اظہار کے لیے موزوں نہیں، راہی صاحب نے تقسیم کے پس منظر میں ہونے والے فسادات (جن سے متاثر ہونے والے شہروں میں ان کا اپنا شہر امرتسر سر فہرست تھا) کے دوران عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادیوں کو اعلیٰ تخلیقی اور شاعرانہ پیرائے میں منظوم کر کے لوگوں کو رُلا کر رکھ دیا تھا، عورتوں کو جس زور زبردستی سے اغوا کیا گیا اور ان کی عصمت دری کی گئی اور انہیں ناپسندیدہ مردوں کے ساتھ زندگیاں بسر کرنا پڑیں، ان عورتوں کے خوابوں کے ریزہ ریزہ ہونے کی تصویریں راہی صاحب نے نہایت دل سوزی اور تخلیقی مہارت سے تخلیق کی ہیں۔
نہ کوئی سہریاں والا آیا
نہ ویراں ڈولی ٹوری
جیہدے ہتھ جیہدی بانہہ آئی
لے گیا زورا زوری
احمد راہی نے ان فسادات کے دوران امرتسر سے لاہور آتے ہوئے ظلم کی جتنی شکلیں دیکھیں وہی ان نظموں کا خمیر قرار پائیں، ان نظموں کو بڑی آسانی سے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلے حصے میں لڑکیوں کے پہلے عشق کی کیفیات کو سامنے لایا گیا ہے، اندر کے اضطراب کے زیر اثر کبھی دھوپ اور کبھی چھاؤں میں بیٹھنا، محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے حیلے بہانوں سے منڈیر پر بار بار جانا، تنہائی میں کچھ یاد کر کے ہنسنا اور محبت کی تکالیف سے لطف لینا جب کہ دوسرے حصے میں محبت کے لازمی نتیجے کے طور پر جدائی اور دکھ کی کیفیات کو منظوم کیا گیا ہے، نوجوان عورتوں کے جذبات کی تصویر کشی کرتے ہوئے شاعر پنجابی کی ثقافتی اقدار کو نہیں بھولا، دوسرے حصے میں انہی محبت کرنے والی لڑکیوں پر آزادی کے تناظر میں ڈھائے گئے مظالم کو پیش کیا گیا ہے گویا ”ترنجن“ ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جو سینکڑوں شاعروں کے مجموعوں پر بھاری ہے عام طور پر احمد راہی شہرت کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتے تھے تاہم ترنجن ان کا ایک ایسا غیر معمولی کارنامہ تھا کہ وہ عمر بھر اس کے نشے میں رہے، انہوں نے ایک ایسے زمانے میں پنجابی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا جب ادبی اور سیاسی ہر دو حوالوں سے پنجابی کو کم تر زبان سمجھا جاتا تھا پنجابی زبان کو معتوب بنائے جانے کے پس منظر میں امریکی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
میں نے جب اس حوالے سے راہی صاحب سے سوال کیا تو انہوں نے میری بات کی تائید کرتے ہوئے کہا ”اس زمانے میں ترقی پسندوں کی کثیر تعداد پنجاب سے تعلق رکھتی تھی اس لیے جب ان کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع کی گئی تو حکومت نے ترقی پسندوں کی حب الوطنی کے ساتھ ساتھ ان کی زبان (پنجابی) کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا، انجمن ترقی پسند مصنفین اور کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگی تو قیادت کو زندانوں میں بند کرنے کے ساتھ ساتھ ایک طرف پنجابی زبان کو پاکستان مخالف لابی سے نتھی کیا گیا تو دوسری طرف مقامی زبانوں کو اردو زبان کی حریف بنا کر پیش کیا گیا۔
میں نے ان کی بات کاٹ کر کہا ”معاف کیجیے راہی صاحب! اس زمانے میں شریف کنجاہی کی پنجابی شاعری کا مجموعہ پہلے بھارت میں شائع ہوا پھر آٹھ سال بعد پاکستان میں اس کے چھپنے کی نوبت آئی، ایسے کشیدہ ماحول میں آپ کی ترنجن پاکستان میں کیسے شائع ہو گئی؟ راہی صاحب نے چونک کر میری طرف دیکھا پھر نرم لہجے میں بولے ”ترنجن کے پاکستان سے شائع ہونے کی دو وجوہات تھیں، پہلی یہ کہ کمیونسٹ پارٹی کا ممبر ہونے کے باوجود میں نے قیامِ پاکستان کی حمایت کی تھی اور دوسری بات یہ کہ ترنجن ایک شاعری کی کتاب تھی اس میں ایسا مواد شامل نہیں تھا جو حکومت اور اس کے خفیہ اداروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا، ترنجن کی اشاعت سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ ترقی پسندوں کے خلاف ہونے والی داروگیر جو پنجابی زبان کی ترویج و ترقی کے راستے کی رکاوٹ بنی ہوئی تھی اس ماحول میں پنجابی زبان میں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور پنجابی زبان ایک دم مین سٹریم کا حصہ بن گئی۔

“ میں نے کہا ”ترنجن پر بات چل نکلی ہے تو ذرا یہ بھی بتاتے چلیے کہ ایک مرد کی شاعری ہونے کے باوجود اس کے اظہار کا پیرایہ نسوانی کیوں ہے کیا یہ صوفی شعراء کی شعری روایت کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش ہے؟ راہی صاحب نے ٹھنڈی چائے کے کپ پر سرسری سی نظر ڈالی اور کرسی پہ پہلو بدل کر بولے ”صوفی شاعروں کے نسوانی لہجے کی روایت انہی کے فلسفے میں تلاش کرنا چاہیے جب کہ میرا مسئلہ صرف اتنا تھا جب میرے ذہن میں اس کتاب کا آئیڈیا آیا اور میں نے اس کا نام ”ترنجن“ تجویز کیا تو اس کا پیرایہ اظہار بھی اسی وقت طے ہو گیا تھا آپ پنجابی ہیں اور جانتے ہیں کہ ”ترنجن“ ایک ایسی جگہ ہے جہاں بیٹھ کر عورتیں چرخہ کاتی ہیں، راز و نیاز کرتی ہیں، دلوں میں پوشیدہ کہانیاں سناتی ہیں اور اپنے دکھوں اور خوابوں کا اظہار کرتی ہیں، میں نے اس ترنجن کے آباد ہونے اور اجڑنے کے مناظر نظم کیے ہیں، عورتوں کے دکھ، خواب اور آرزوئیں انہی کے لہجے میں بیان ہو سکتی تھیں، میں نے ترنجن میں اظہار کے نئے اسالیب ایجاد کیے ہیں، آج راہی صاحب کی کم گوئی کا دور دور تک پتہ نہ تھا بل کہ وہ خوش گوئی کا عمدہ مظاہرہ کر رہے تھے ۔ میں بھی میسر آنے والے اس موقعے کے رس کا آخری قطرہ نچوڑنے کی کوشش کر رہا تھا ”بقول منٹو آپ کے گرو باری علیگ کو نہ صرف پنجابی زبان سے محبت تھی بل کہ وہ پنجابی کو پنجاب کی قومی زبان بنوانے کے لیے بھی سرگرم تھے ایسے میں آپ نے ترنجن کا فلیپ باری صاحب کی بجائے منٹو سے کیوں لکھوایا؟ وہ مسکرائے اور بولے ”یہ ایک غلط فہمی ہے کہ منٹو نے ترنجن کا فلیپ لکھا یہ فلیپ نہیں تھا اور نہ ہی میں نے ان سے فلیپ لکھنے کے لیے کہا تھا، یہ محض ایک تبصرہ تھا جو انہوں نے ترنجن کی اشاعت کی خبر پڑھنے کے بعد کتاب کو پڑھے بغیر لکھا تھا، منٹو کی اس تحریر کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے یہ تحریر پنجابی زبان میں لکھی تھی اور مادری زبان میں یہ ان کی واحد تحریر ہے۔“
”اور کرشن چندر نے بھی تو ترنجن کے حوالے سے پنجابی زبان میں کچھ لکھا تھا؟ میرے پوچھنے پر راہی صاحب بولے ”یہ تحریر بھی میری کتاب کی اشاعت کے بعد اس پر لکھا گیا تبصرہ ہے، پنجابی زبان میں لکھا گیا یہ تبصرہ روزنامہ ”امروز“ میں شائع ہوا تھا، منٹو کی پنجابی تحریر ہو یا کرشن چندر کی دونوں ایک طرح سے نادر تحریریں ہیں“ اسی نوٹ پر ہماری یہ ملاقات اختتام کو پہنچی مگر آنے والے دنوں میں اس ملاقات سے ان گنت ملاقاتوں کا راستہ کھل گیا۔
1989 ء میں جب میں ڈاکٹر سہیل احمد خان کی زیر نگرانی جدید غزل کے نامور شاعر اقبال ساجد پر ایم اے کا تحقیقی مقالہ لکھ رہا تھا تو مرحوم شاعر کی شخصیت اور فن کے حوالے سے رائے لینے کے لیے میں بہت سے اہل قلم سے ملا اسی دوران مجھے راہی صاحب سے ملاقات کا خیال آیا کیوں کہ دونوں شاعر نہ صرف ایک ہی کالونی میں رہتے تھے بل کہ دونوں کے درمیان محض ایک دیوار کی دوری تھی، یہ ریواز گارڈن کے فلیٹس کا این بلاک تھا جہاں احمد راہی اور اقبال ساجد کے علاوہ پیام شاہ جہان پوری، بیدار سرمدی اور عارف محمود سمیت ایک ایسے شاعر بھی آباد تھے جنہوں نے دروازے پر لگی نیم پلیٹ پر اپنے اپنے ”بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر“ بھی لکھ رکھا تھا اس روز میں اقبال ساجد کے فن اور شخصیت پر گفتگو کے لیے راہی صاحب کے دولت کدے پر پہنچا تو ادب اور شوبز کے اتنے بڑے شخص کو اس علاقے میں رہائش پذیر دیکھ کر مجھے دلی صدمہ ہوا۔ اگرچہ انسانی آزادیوں میں یقین رکھنے کے حوالے سے ان فلیٹس کی خاصی شہرت تھی اور لوگ ایک دوسرے کے معاملات میں نہ ہونے کے برابر مداخلت کرتے تھے تاہم ان فلیٹس کی خستہ حالی نے مجھے ملول کیے رکھا جگہ جگہ سے پانی کے پائپ ٹوٹے ہونے کے باعث گندہ پانی آبشار بن کر بلندی سے گر رہا تھا اور
ادھر ادھر پڑے کوڑے کے ڈھیر بھی لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا منہ چڑا رہے تھے.
میں کوڑے اور گندے پانی سے بچتا بچاتا جب راہی صاحب کے گھر پہنچا تو وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے میرا ہی انتظار کر رہے تھے، یہ فلیٹ دو کمروں پر مشتمل تھا کمرے میں دو پرانی کرسیاں، چھوٹی میز اور ایک عدد بیڈ بھی پڑا تھا یہ کمرہ یقینا ان کا بیڈ روم رہا ہو گا۔ بستر پر بچھی چادر اور سرہانوں کے غلاف سامنے خاصے میلے تھے جب کہ میز پر سوئی دھاگہ، میک اپ، ہیئر برش اور شیوِنگ کا سامان بکھرا پڑا تھا کچھ ہی دیر میں ایک نفیس قسم کی خاتون میرے لیے چائے لائیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ راہی صاحب کی بیگم ہیں، بیگم صاحبہ کی جن باتوں نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا ان میں پہلی چیز راہی صاحب کے مقابلے میں ان کی کم عمری تھی، دوسری بات یہ تھی کہ وہ شوہر کی نسبت خوش لباس تھیں، تیسری اہم چیز ان کا تحکمانہ انداز تھا اور اپنے اس مخصوص انداز میں وہ راہی صاحب سے پیش آ رہی تھیں۔ چائے پینے کے دوران ادھر ادھر کی چند باتیں ہوئیں میں زیادہ تر دیواروں پہ لگی تصویریں دیکھتا رہا جن کا تعلق ان کے فلمی کیریئر سے تھا-
ہم چائے پی چکے تو میں نے اقبال ساجد کی غزل کے حوالے سے دو تین سوال کیے، جواب میں انہوں نے ایک ہی بات کہی ”میں تو شاعر ہوں آپ یہ باتیں کسی نقاد سے پوچھیں“ میں نے فنی نوعیت کے سوالات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اقبال ساجد کی نجی زندگی کے بارے میں سوال کرنے کا فیصلہ کیا اور پوچھا کہ ”کئی برسوں سے آپ دونوں ساتھ ساتھ رہ رہے تھے ہمسائے کی حیثیت سے اقبال ساجد کو آپ نے کیسا پایا؟“ راہی صاحب کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھتے رہے جیسے کسی سخت ردعمل کو برداشت کرنے کے لیے مجھے ذہنی طور پر تیار کر رہے ہوں، پھر بولے ”ہمسائے سے زیادہ وہ ایک چور تھا وہ شراب کی بوتل خریدنے کے لیے گاہے بگاہے ہمسایوں کی چیزیں چوری کرتا رہتا تھا جن میں ہماری قیمتی اشیاء بھی شامل ہوا کرتی تھیں“ سچی بات تو یہ ہے کہ ایک نئے نئے مرحوم ہونے والے شاعر، جو اتفاق سے ان کا ہمسایہ بھی تھا، کے بارے میں راہی صاحب کی یہ باتیں مجھے بالکل اچھی نہ لگیں میں نے ان سے اجازت لی اور واپس چلا آیا۔
راہی صاحب سے مل کر واپسی آتے ہوئے مجھے ایک واقعہ یاد آیا ایک روز اورینٹل کالج میں ڈاکٹر سہیل احمد خان کی کلاس جاری تھی کہ کلاس روم کا دروازہ زور سے کھٹکھٹایا گیا پھر آواز آئی ”جواز جعفری کو باہر بھیجو“ سچ تو یہ ہے کہ اس واردات پر میں شرم سے پانی پانی ہو گیا اور سوچنے لگا کہ میرے ملنے والا کوئی شخص ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ باہر آیا تو سامنے اقبال ساجد کھڑا تھا ”آپ میرے کلاس روم تک کیسے پہنچ گئے؟“ میں نے حیرت اور غصے سے کہا ”میں ڈاکٹر خواجہ زکریا صاحب سے ملنے آیا تھا سوچا آپ سے بھی ملتا چلوں“ اس نے بغل میں پیتل کا ایک جگ نما برتن دبا رکھا تھا میں نے پوچھا ”یہ کہاں سے خریدا ہے؟“ بولا ”میری بیوی نے مجھے شراب کے لیے پیسے نہیں دیے اس لیے میں اس کا یہ جگ چوری کر کے لایا اسے بیچ کر شراب پیوں گا۔“ اس واقعے کے یاد آتے ہی چوری کے الزامات کے سلسلے میں مجھے راہی صاحب کا ہم نوا ہونا پڑا۔
اسی دوران میں پہلے روزنامہ ”مساوات“ اور پھر روزنامہ ”جنگ“ سے وابستہ ہو گیا جنگ پبلشرز نے پہلے تو میرا مرتب کردہ اقبال ساجد مرحوم کا اولین شعری مجموعہ ”اثاثہ“ اور اس کے بعد میرا شعری مجموعہ ”دہلیز پہ آنکھیں“ شائع کیے اور ازاں بعد مجھے کلیاتِ استاد دامن مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی، اس دوران میں نے استاد دامن کے فن و شخصیت کو سمجھنے کے لیے جنگ فورم میں ایک یادگار مذاکرہ منعقد کیا جس میں فخر زمان، منیر نیازی، ڈاکٹر سہیل احمد خان اور احمد راہی سمیت بڑے بڑے دانشور اور ناقدین کو دعوت دی اس موقعے پر راہی صاحب نے استاد دامن کے حوالے سے اپنی یادوں کو تازہ کیا۔
اس تقریب کے کچھ ہی عرصے بعد میں نے روزنامہ ”جنگ“ سے استعفیٰ دے دیا اور اردو زبان و ادب کا لیکچرار بن کر جہلم چلا گیا اور اگلے پانچ سالوں میں میری اور راہی صاحب کی کوئی یادگار ملاقات نہ ہو سکی البتہ ہماری ملاقاتیں اس وقت پھر بحال ہوئیں جب 1995ء میں ایم اے او کالج لاہور سے وابستہ ہوا تو مجھے رہائش کے لیے گھر کی ضرورت پڑی اتفاق سے ان دنوں راہی صاحب کے بالکل سامنے والا فلیٹ خالی پڑا تھا چنانچہ کالج سے قریب ہونے اور راہی صاحب سے ملاقاتوں کو سامنے رکھتے ہوئے میں فوراً اس فلیٹ میں منتقل ہو گیا اگلی صبح جب وہ لنگی اور بنیان پہنے گھر کے سامنے کھڑے تھے اور میں کالج جانے کے لیے نکل رہا تھا تو راہی صاحب مجھے دیکھ کر حیران ہوئے لیکن جب میں نے انہیں ان کے ہمسائے میں منتقل ہونے کی خبر دی تو وہ بہت خوش ہوئے اور بولے ”یہ آپ نے اچھا فیصلہ کیا گپ شپ کے لیے کوئی بندہ تو میسر آیا“ ان کے ہمسائے میں چلے آنے کے بعد مجھے ان کے مزاج اور شخصیت کے بارے میں کئی نئی باتوں کا پتہ چلا مثلاً اس پورے عرصے میں، میں نے انہیں کالونی کے کسی آدمی سے بات کرتے شاید ہی کبھی دیکھا تھا.
دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان چند برسوں کے دوران میں نے کسی ایسے شاعر یا ادیب کو نہیں دیکھا جو ان سے کبھی ملنے آیا ہو، اس کے علاوہ شوبز انڈسٹری کے لوگوں کا آنا جانا بھی نہ ہونے کے برابر تھا وہ عملاً تنہائی اور بے روزگاری کا شکار تھے ان کی بیگم نوکری پیشہ تھیں، بچے پڑھنے اور بیگم آفس چلی جاتیں تو وہ گھر پر اکیلے رہ جاتے بلا ضرورت گھر سے کم ہی نکلتے میں نے انہیں دکان سے کبھی سودا سلف لاتے بھی نہیں دیکھا شروع شروع میں میرے حوالے سے ان کا رویہ خاصا محتاط تھا لیکن آہستہ آہستہ ان کی شخصیت کے گرد چڑھی احتیاط کی تہیں پیاز کے چھلکوں کی طرح اترتی چلی گئیں، میری اور ان کی قربت بڑھی تو میں نے محسوس کیا کہ ان کے اور بیگم کے باہمی تعلقات آئیڈیل نہیں رہے۔

بیگم کے سخت رویے سے لگتا تھا کہ راہی صاحب بیگم کے نزدیک ایک شوہر سے زیادہ کچھ بھی نہ تھے انہیں اندازہ تک نہ تھا کہ وہ کتنے بڑے تخلیق کار کی شریکِ حیات ہیں یہ ایک بے جوڑ شادی تھی جسے وقت کی ستم ظریفی نے مزید غیر دلکش بنا دیا تھا۔ ایک روز نہ جانے کیسے گفتگو میں ان کے بیٹے کا ذکر آ گیا وہ اس کا نام سن کر اچانک پھٹ پڑے اور گالیاں کسی قدرتی چشمے کے پانی کی طرح ان کے ہونٹوں سے ابلنے لگیں اس روز مجھے اندازہ ہوا کہ ایک بوڑھا باپ جوان بیٹے سے کس قدر مایوس ہے۔ راہی صاحب کی ایک بات جو مجھے آج بھی اچھی لگتی ہے کہ انہوں نے میاں بیوی کے تعلقات میں در آنے والی سردمہری کے باوجود اپنی بیگم کے بارے میں کبھی ایک لفظ نہ کہا۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی کے آخری سالوں میں احمد راہی ادھیڑ عمری کی سرحد پر کھڑے تھے، ان کے مزاج کے اچھے موسم گزر چکے تھے، بظاہر شاعری کا خوش رنگ پرندہ بھی ان کے دل کی شاخ سے اڑ چکا تھا اور مجھے یوں لگتا تھا کہ اپنے مزاج کی خشکی، کم گوئی اور کم آمیزی کے باعث وہ عشق و عاشقی کے لیے بھی مناسب شخص نہ تھے مگر ایک روز فلمی نغمہ نگار خواجہ پرویز نے ان کے معاشقوں کا تذکرہ کر کے مجھے حیران کر دیا، ان کے بقول جوانی میں راہی صاحب اپنے معاشقوں کے حوالے سے خاصے مشہور تھے ان کا پہلا عشقیہ سکینڈل ایک مغنیہ کے ساتھ سامنے آیا ،
انہوں نے کئی عشق کیے اس ملاقات میں خواجہ پرویز نے احمد راہی اور امرتا پریتم کی عشقیہ داستان سے بھی پردہ اٹھایا اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ امرتا راہی صاحب کی محبت میں مسلمان ہونے کے لیے بھی تیار ہو گئی تھی۔ راہی صاحب بھی عجیب آدمی تھے اتنی ساری خوبصورت عورتوں سے عشق کرنے کے بعد ایک ایسی لڑکی سے شادی کے لیے تیار ہو گئے جو عمر میں ان سے پچیس برس چھوٹی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمروں کا یہ فرق مزید زیادہ لگنے لگا تھا، شروع شروع میں یہ شادی خاصی خوشگوار رہی مگر آگے چل کر فلم نگری کی بربادی، راہی صاحب کی بے روزگاری اور شراب نوشی نے گھریلو زندگی میں نئے جھگڑوں کو جنم دیا لڑائی بڑھتی تو وہ گھر چھوڑ کر چلے جاتے اور جب کئی روز بعد گھر لوٹتے اور بیگم انہیں ممنوعہ چشموں کے پانی سے سیراب دیکھتیں تو گھریلو جنگ پھر سے شروع ہو جاتی وہ بیگم سے شراب نہ پینے کے نئے عہد و پیمان کرتے مگر جہاں کہیں انہیں ممنوعہ چشموں کا پانی میسر آتا وہ سارے عہد و پیمان بھول جاتے ایسے مواقع پر ان کے گھر سے انہی کا لکھا ایک مشہور گانا ٹیپ ریکارڈر پر اونچی آواز میں بار بار سننے کو ملتا،
کوئی نواں لارالا کے مینوں رول جا
جھوٹھیا! وے اک جھوٹُھ ہور بول جا
ان دنوں میرے ساتھ والے فلیٹ میں دو پڑھی لکھی خواتین رہتی تھیں جب مذکورہ گانا کئی بار دہرایا جا چکا تو خاتون مجھ سے کہنے لگیں ”لگتا ہے آج پھر آپ کے دوست کے گھر میں پانی پت کی جنگ جاری ہے۔“ ایک بار ان کی بیگم نے مجھے بتایا کہ راہی کو ان کے لمبے بال بہت پسند تھے اور وہ ان کے بالوں میں کنگھی کیا کرتے تھے وہ اکثر ان کی پسند کے رنگوں کے لباس انہیں تحفے میں دیا کرتے تھے۔ میرے نزدیک ان گھریلو جھگڑوں کا سبب مالی مشکلات تھیں راہی صاحب ہمیشہ سے بے روزگار نہ تھے انہوں نے فلم سے بہت پیسہ کمایا مگر زندگی میں کوئی پلاننگ نہ ہونے کے باعث سب کچھ اڑا دیا وہ ایک ایسے شخص تھے جنہیں اپنے کل کی ذرا پرواہ نہ تھی۔ ان دنوں وہ گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے لگے تھے پاک ٹی ہاؤس جانا تقریباً چھوڑ چکے تھے البتہ کبھی کبھار الحمد پبلشرز پر نظر آتے وہاں ڈاکٹر خواجہ زکریا، شہزاد احمد، اے جی جوش، اختر شمار سمیت بہت سے لوگ آتے مگر راہی صاحب چپ سادھے ہر ایک کو دیکھا کرتے۔
ایک بار وہاں موجود اختر شمار نے پوچھا کہ ”راہی صاحب! آپ نے ادبی حلقوں میں آنا جانا کم کر دیا ہے؟“ بولے ”منافقت بہت بڑھ گئی ہے اور میں منافقوں سے دور رہتا ہوں“ وہ چپ چاپ بیٹھے سگریٹ پیتے رہتے کبھی کبھار کوئی ایسا جملہ کہتے کہ محفل کشتِ زعفران بن جاتی، ایک بار ایک شاعر نے کہا ”آپ کا ایک مجموعہ ہے جب کہ کئی نوجوانوں کے پچاس پچاس مجموعے شائع ہو چکے ہیں“ وہ سگریٹ کا لمبا کش لیتے ہوئے بولے ”سورنی کے بارہ بچوں سے شیرنی کا ایک ہی اچھا ہے“ ان کا جواب سن کر لوگ دیر تک ہنستے رہے۔
ایک روز وہ اپنے گھر پر تنہا تھے مجھے دیکھا تو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی وہ اکیلے بیٹھے ممنوعہ چشموں کے پانی سے لطف اندوز ہو رہے تھے آج ان کا موڈ خوشگوار تھا اور انہیں کارِ جہاں کی کچھ پرواہ نہ تھی میں نے موقع غنیمت جان کر پوچھا کہ ”آپ نے ’سویرا‘ چھوڑ کر فلم نگری کا رخ کیوں کیا؟“ آپ تلخ کا گھونٹ گلے میں اتارتے ہوئے بولے ”سویرا میں نے ساحر لدھیانوی کے کہنے پر بیکاری سے بچنے کے لیے جوائن کیا تھا مگر یہاں تنخواہ صرف پچیس روپے ماہوار تھی جس سے میرا گزارا بڑی مشکل سے ہوتا تھا، ’سویرا‘ چھوڑنے کی ایک وجہ ترقی پسند اہل قلم کی پکڑ دھکڑ تھی اور تیسری فلم نگری میں میری بڑھتی ہوئی مصروفیات بھی تھیں“

میں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ”آپ فلم میں کس کے وسیلے سے پہنچے، پہلی فلم کون سی تھی اور فلمی گیت، کہانیاں اور مکالمے لکھنے کا تجربہ کیسا رہا؟“ احمد راہی دور خلاؤں میں گھورتے ہوئے بولے ”میں اپنی فلمی کامیابیوں کا کریڈٹ اپنے دوست منٹو کو دیتا ہوں، فسادات کے باعث لاہور کے اسٹوڈیوز ویران و برباد پڑے تھے ایسے میں منٹو کو لاہور کی ایک فلم کے لیے کہانی لکھنے کی دعوت دی گئی، 1950ء میں بننے والی اس فلم کا نام ”بیلی“ تھا منٹو نے فلم میں نغمہ نگاری کے لیے میرا انتخاب کیا، اس فلم میں رشید عطرے کی موسیقی اور عنایت حسین بھٹی کی آواز میں میرا لکھا گیت (رناں والیاں دے پَکّن پروٹھے تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے) سپر ہٹ ثابت ہوا یوں اس فلم سے مجھے بریک تھرو ملا“ ہدایت کار مسعود پرویز کی ہدایات میں تقسیم ہندوستان کے موضوع پر بننے والی یہ فلم ناکام ہو گئی تو منٹو لاہور کی فلم نگری کو خیر باد کہہ گئے مگر راہی صاحب کا ادبی سفر جاری رہا آگے چل کر ان کی دو فلمیں ”پرواز“ اور ”جرم“ بھی زیادہ اچھا بزنس نہ کر سکیں مگر راہی صاحب کو ان فلموں کے گیت لکھنے کے باعث مستند نغمہ نگار تسلیم کر لیا گیا تھا۔ ان کی اصل کامیابیوں کا آغاز فلم ”ماہی منڈا“ کے گیتوں سے ہوا ”یکی والی“ نے ان کی شہرت کو گھر گھر پہنچایا اور ”چھومنتر“ کے گیتوں نے تو گویا فلم بینوں کے دلوں پر منتر ہی کر دیا۔
ان کے معاصر نغمہ نگاروں میں سیف الدین سیف، حزیں قادری، وارث لدھیانوی اور بابا عالم شاہ پوش جیسے شاعر موجود تھے مگر راہی صاحب نے اپنی فلم ”بیلی“ سے لے کر آخری فلم ”نکی جئی ہاں“ تک جو تخلیقی گیت لکھے وہ جذبات و احساسات سے لبریز، غنائیت سے بھرپور اور اپنے ثقافتی پس منظر کے سبب مقبولیت کی بلندیوں تک جا پہنچے۔ میں نے کہا ”راہی صاحب! کیا آپ کو اندازہ تھا کہ فلم ”ہیر رانجھا“ کامیابیوں کی نئی تاریخ رقم کرے گی؟“ وہ کچھ دیر خاموش رہے جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوں آخر انہوں نے کہنا شروع کیا ”1950ء سے 1970ء کے دوران میں بیلی، کیکے والی، باجی، باجی، نکے ہوندیاں دا پیار، مرزا جٹ، پاکیزہ، سسی پنوں، مراد بلوچ، وچھوڑا، ناجو، گڈو، اَچا شملہ جٹ دا، چھومنتر، یار بیلی، اک پردیسی، ماہی منڈا، شہری بابو، مٹی دیاں مورتاں سمیت درجنوں فلموں کی کہانیاں اور گیت لکھ چکا تھا، 1970ء میں جب اداکار اعجاز درانی نے ہیر وارث شاہ بنانے کا اعلان کیا تو یہ اس موضوع پر بننے والی پہلی کلر فلم ضرور تھی مگر یہ اس داستان پر انحصار کرتی ہوئی پہلی فلم نہ تھی اس سے پہلے اس عشقیہ داستان پر کئی فلمیں، تھیٹر، ریڈیو اور ٹی ڈرامے بن چکے تھے اور ہدایت کار مسعود پرویز نے ایک بار پھر اس موضوع کا انتخاب کیا تھا جو بطور مصنف اور گیت نگار میرے لیے بہت بڑا چیلنج تھا۔

میں نے اس موضوع پر بننے والی ساری فلموں کو سامنے رکھتے ہوئے وارث شاہ کی ہیر کو نئے اسلوب اور جدت طرازی سے پردہ اسکرین پر اتارا اور کہانی کے ظاہری و باطنی رُوپ کو اس طرح سنوارا کہ فلم اپنے اسکرین پلے، با معنی مکالموں اور بہترین گیتوں کے باعث پنجابی سینما کی تاریخ میں کلاسیک کے درجے پر فائز ہو گئی، فردوس اور اعجاز نے ہیر رانجھا کے کردار ایسی خوبی سے نبھائے کہ پنجاب کے لوگ وارث شاہ کے ہیر رانجھے کو انہی کی شکلوں میں تصور کرنے لگے“ ”آپ اپنی کامیابی کا کریڈٹ کس کو دینا چاہیں گے؟“ ایک لمحے کو وہ رُکے پھر ذہن پر زور دیے بغیر کہا ”نور جہان کو…… میرے گیت ادبی و تخلیقی اعتبار سے کتنے ہی بلند پایہ کیوں نہ ہوتے اگر نور جہان کی مترنم آواز نہ ہوتی تو میرے گیتوں کو کبھی لا زوال شہرت نہ ملتی، یہ نور جہان کی آواز ہی تھی جس نے اس فلم کے گیتوں کو لافانی بنا دیا۔“
”خواجہ خورشید انور تو اردو فلموں کے موسیقار تھے وہ پنجابی فلم کے میوزک کے لیے کیسے مان گئے؟ احمد راہی سامنے دیوار پر لگی ہیر رانجھا کے سیٹ کی تصویر کو دیکھتے ہوئے بولے ”خواجہ خورشید انور بہت بڑے موسیقار تھے ایک بار اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر ہیر رانجھا کے گیت احمد راہی نہ لکھتا تو میں یہ فلم کبھی سائن نہ کرتا‘ اس موقعے پر راہی صاحب نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا جن دنوں ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اسی عرصے میں ان کی فلم ہیر رانجھا ابھی زیرِ تکمیل تھی اور بیوی چونکہ ان کی زندگی میں نئی نئی داخل ہوئی تھی اس لیے ان کا خیال تھا کہ فلم کی کامیابی یا ناکامی کا سہرا بیگم ہی کے سر بندھے گا وہ خود تو انڈر پریشر تھے ہی انہوں نے یہ بات کر کے بیگم کو بھی پریشان کر ڈالا، فلم ریلیز ہوئی تو ہر طرف اس کی کامیابی کی دھوم مچ گئی وہ ہاروں سے لدھے پھدھے گھر پہنچے اور سارے کے سارے ہار اپنی بیگم کے گلے میں ڈال دیے۔
احمد راہی نے اپنی زندگی کے چالیس برس فلم انڈسٹری کو دیے جن میں سے تیس برس ان کے قلم نے فلم کی قلمرو پر حکمرانی کی ان کی لکھی فلموں اور گیتوں کی آمدنی سے لوگوں نے بڑے بڑے سٹوڈیوز کھڑے کیے- انہوں نے خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، بابا چشتی سمیت دیگر موسیقاروں کے ساتھ مل کر جو نغمے تخلیق کیے ان میںمیری چنی دیاں ریشمی تنداں/ کوئی نواں لارالا کے مینوں رول جا/ آندا تیرے لئی ریشمیرومال/ سنجے دل والے بوہے/رُکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی/ نہ عشق نوں لیکاں لاویں/ سُن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے/ چن ماہیا تیری راہ پئی تکنی آں/مٹیارو نی میرے ہاں دی او/ ماہی وے مینوں لال چڑھا دے چوڑا/ ونجھلی والڑیا ایہہ گل بھلیں نہ/تیرے نال میں لائیں اکھیاں / اک روویں توں بدلا/ ڈھول بلوچا موڑ مہاراں/ اکھیاں وے راتیں سون نہ دیندیاں/ زلفاں دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا /برے نصیب میرے ویری ہویا پیار میرا/ چندا توری چاندنی میں جیا جلا جائے رہے/ اب یہاں کوئی نہیں آئے گا جیسے لازوال نغمے شامل ہیں انہوں نے سو سے زائد فلموں میں لگ بھگ تین سو گیت لکھے جن میں دو تہائی سے زیادہ گیت پنجابی ہیں، ان فلموں میں سے تقریباً پچیس فلموں کے وہ اکلوتے نغمہ نگار تھے انہوں نے فلم انڈسٹری کو اس وقت سہارا دیا جب تقسیمِ ملک کے تناظر میں ہونے والے فسادات کے نتیجے میں سٹوڈیوز ویران پڑے تھے اور وہ اس وقت فلم کو خیرباد کہہ کر باہر آ گئے جب فلم میں سماجی موضوعات کی بجائے ذات برادری پر فلمیں بننے لگیں اور شاعری و موسیقی کی جگہ فحاشی نے لے لی۔
1997, 98 ء کی بات ہے میں گرمی کی چھٹیاں گزار کر لاہور لوٹا تو مجھے راہی صاحب کہیں نظر نہ آئے معلوم ہوا انہوں نے گھر تبدیل کر لیا ہے کالج سے فارغ ہو کر گھر آتے ہوئے وہ مجھے ریواز گارڈن کے پوش ایریا میں ایک خوبصورت اور کشادہ گھر کے سامنے کھڑے مل گئے بڑی محبت سے ملے اور بتانے لگے کہ وہ اس گھر میں منتقل ہو گئے ہیں اور ایک خوبصورت گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ گاڑی بھی خرید لی ہے میں نے چھیڑتے ہوئے کہا ”کیا بات ہے راہی صاحب! کہیں کوئی خزانہ تو ہاتھ نہیں لگ گیا“، مسکرا کر بولے ”بیٹی کو بہت اچھی جاب مل گئی ہے“ میں نے مبارک باد دی اور چلا آیا آج ان کے چہرے پر خوشی کے رنگوں کے درمیان زردی کی ایک تہہ بھی بکھری ہوئی تھی اور ان کی آواز بھی کمزور لگ رہی تھی۔

کچھ عرصہ آتے جاتے یہیں ان سے ملاقات ہو جایا کرتی تھی مگر ایک روز وہ اس گھر کو بھی خالی کر گئے تھوڑی سی جستجو کے بعد پتہ چلا کہ مزنگ منتقل ہو گئے ہیں میں تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچا تو ان کا نیا گھر دیکھ کر مجھے ایک بار پھر دلی صدمہ ہوا یہ اوپر والا پورشن تھا جس تک پہنچنے کے لیے ایک تنگ اور غیر آرام دہ سیڑھی کا سہارا لینا پڑتا تھا راہی صاحب بیمار تھے اور ان سیڑھیوں پر بہت مشکل سے آ جا رہے تھے وہ پہلے ہی بیمار اور گوشہ نشین تھے اور دشوار گزار سیڑھیوں نے انہیں زمین پر بسنے والوں سے الگ تھلگ کر دیا تھا، ان کی بیماری کا بہت کم لوگوں کو پتہ چل سکا یار دوست تو پہلے ہی انہیں فراموش کر چکے تھے ان کے گیتوں کو لازوال کہنے والوں اور نظموں پہ جان چھڑکنے والوں کو ان کی موت کی خبر ہی نہ ہو سکی، یوں امرتسر کے کوچہ دھرم شالہ سے شروع ہونے والی زندگی کی کہانی میو ہسپتال کے لائل پور وارڈ میں پھیپھڑوں کے عارضے سے سسکتے سسکتے اپنے انجام سے جا ملی۔



