latest newsWorld

ریاض میں آرامکو تنصیب کے قریب آگ، صنعاء میں دھماکے؛ سعودی عرب اور حوثیوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

ریاض/صنعاء: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب آگ اور دھوئیں کے گہرے بادل دیکھے گئے ہیں، جبکہ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں بھی متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں تیزی آ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک عینی شاہد نے ریاض میں آرامکو کی تنصیب کے قریب آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتے دیکھا۔ حوثیوں نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ انہوں نے آرامکو کی تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ تاہم سعودی حکام یا آرامکو کی جانب سے حملے یا تنصیب کو پہنچنے والے نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب یمنی دارالحکومت صنعاء میں ہفتے کے روز کم از کم پانچ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عینی شاہدین نے شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سننے اور جنگی طیاروں کو پرواز کرتے دیکھا۔ حوثیوں کے زیرانتظام المیسرہ ٹی وی نے ان واقعات کو سعودی فضائی حملوں سے جوڑا، تاہم جانی یا مالی نقصان کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

حوثی ذرائع کے مطابق سعودی فضائی حملوں میں صنعاء کے علاوہ شمال مغربی صوبے صعدہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ٹیلی کمیونیکیشن کے بعض مراکز پر حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے آرامکو کی ینبع میں تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حوثیوں کے دعوے کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب نے اس وقت طائف اور ینبع کی سمت داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم آرامکو کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

یمن میں کئی برس کی نسبتاً خاموشی کے بعد رواں سال جولائی میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی۔ حوثی گروپ صنعاء سمیت شمال مغربی یمن کے بڑے حصے پر قابض ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ حالیہ دنوں میں تعز کے محاذ سمیت مختلف علاقوں میں بھی شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تازہ کشیدگی کے تناظر میں خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم بحری راستوں کے تحفظ پر بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت لانے کے لیے تیاریوں کا آغاز کیا ہے، جبکہ حوثیوں کے حملوں سے سعودی تنصیبات کو لاحق خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے انسانی بحران کو بھی سنگین کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے اور متاثرہ علاقوں میں خوراک کے عدم تحفظ کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button