latest newsPakistan

خواتین کا سکوٹی اور موٹر سائیکل کی جانب بڑھتا رجحان، خودمختاری کی نئی راہ

اسلام آباد(ہم شہری) صبح کے اوقات میں سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے تو ایک خاتون ہیلمٹ درست کرتے ہوئے اسکوٹی کا ہینڈل سنبھال کر گاڑیوں کے ہجوم میں شامل ہوجاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا سفر ہے، تاہم بہت سی خواتین کے لیے موٹر سائیکل یا سکوٹی چلانا محض آمدورفت نہیں بلکہ خودمختاری کی علامت بن چکا ہے۔

کئی برسوں سے سکول، کالج، دفاتر، بازار اور اسپتال جانے والی خواتین کو والد، بھائی، شوہر یا ڈرائیور کی دستیابی پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ کسی سواری کے نہ ملنے کا مطلب کلاس سے محرومی، دفتر پہنچنے میں تاخیر یا ضروری کام ملتوی کرنا بھی ہوسکتا تھا۔ تاہم اب زیادہ تعداد میں خواتین اسکوٹی اور موٹر سائیکل چلا کر اپنی روزمرہ نقل و حرکت پر خود اختیار حاصل کر رہی ہیں۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی عالیہ کے مطابق خواتین کے لیے سڑکوں پر غیر ضروری توجہ اور لوگوں کا گھورنا اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر جگہ انہیں دیکھا اور پرکھا جا رہا ہو۔

بیوٹی ایکسپرٹس ریحانہ اور نگہت نے بتایا کہ اہل خانہ کی حوصلہ افزائی نے انہیں ابتدائی جھجک پر قابو پانے میں مدد دی۔ نگہت کے مطابق اسکوٹی چلانے سے ان کی روزمرہ زندگی کافی آسان ہوگئی ہے، اب انہیں پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظار یا ہر سفر کے لیے شوہر پر انحصار نہیں کرنا پڑتا، جبکہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنی والدہ کو بھی ساتھ لے جا سکتی ہیں۔

تاہم خواتین کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کے ساتھ سڑکوں پر ہراسانی کے واقعات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ اسکوٹی سوار رابعہ ساجد نے بتایا کہ بعض مرد خواتین کا پیچھا کرتے، بلاوجہ ہارن بجاتے، خطرناک انداز میں اوورٹیک کرتے یا نامناسب جملے کستے ہیں۔ ان کے مطابق جب کبھی انہیں محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھا کر رہا ہے تو انہوں نے راستہ تبدیل کیا اور بعد ازاں اس سڑک سے گریز کیا۔

خواتین کے یہ تجربات اس تضاد کو نمایاں کرتے ہیں کہ ایک طرف انہیں تعلیم، روزگار اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی ترغیب دی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب محض آزادانہ سفر کرنے پر بھی بعض خواتین کو ہراسانی اور خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حکومتی سطح پر مفت، رعایتی یا بلاسود اقساط پر اسکوٹیز اور الیکٹرک بائیکس کی فراہمی جیسے اقدامات نے خواتین کے لیے ایک بڑی رکاوٹ یعنی مالی استطاعت کو کم کرنے میں مدد دی ہے، تاہم صرف سواری تک رسائی خواتین کی محفوظ نقل و حرکت کی ضمانت نہیں۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کی اے ایس آئی عذرا کے مطابق دارالحکومت کی سڑکوں پر خواتین کا تحفظ ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی، گشت میں اضافہ اور سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی سے سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہراسانی یا عدم تحفظ کی صورت میں خواتین پولیس ہیلپ لائنز 15 اور 1815 سے مدد حاصل کرسکتی ہیں۔

راولپنڈی کے تحفظ مرکز سے وابستہ وکٹم سپورٹ آفیسر لاہر مرزا نے بھی کہا کہ پولیس کی مسلسل نگرانی اور گشت میں اضافے سے سڑکوں پر خواتین کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button