latest newsPakistan

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ وکیل ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور ان کی قانونی ٹیم کے درمیان ملاقات کا انتظام کیا جائے۔

جج طاہر عباس سپرا نے پیر کو کیس کی سماعت کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔ سماعت میں سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور وکلا ریاست علی آزاد اور ایمل خان بھی موجود تھے۔

دورانِ سماعت وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی ٹیم کو اپنے مؤکلوں سے ملاقات کی اجازت دیے بغیر مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی ٹیم میں ریاست علی آزاد، زینب جنجوعہ اور ایمل خان شامل ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمات کی روزانہ سماعت ضروری ہے۔ جج نے استغاثہ سے استفسار کیا کہ مقدمے میں کتنے گواہ پیش کیے جائیں گے، جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ گواہوں کی تعداد 9 ہے۔ عدالت نے استغاثہ کو ہدایت کی کہ ملزمان کی اپنے وکلا تک رسائی یقینی بنائی جائے۔

ہادی علی چٹھہ نے سوال اٹھایا کہ انہیں اور ایمان مزاری کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ آٹھ ماہ سے جیل میں ہیں اور موجودہ صورتِ حال میں اپنے دفاع اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضے کیسے پورے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے جیل میں وکلا اور مؤکلوں کی ملاقاتوں کی رازداری پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ملاقات کے مقامات پر کیمرے نصب ہیں۔ ہادی علی چٹھہ نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں پیش ہونے کا موقع دیا جائے تاکہ عدالت ان کے مقدمے کا فیصلہ کر سکے۔

عدالت نے مزید کارروائی 14 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17 ستمبر کو سپریم کورٹ سے ایک علیحدہ سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ضمانت ملنے اور سزائیں معطل ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں کوہسار پولیس اسٹیشن میں درج رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق مقدمے میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

پولیس نے دونوں ملزمان کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

27 ستمبر کو عدالت نے عدالتی دستاویزات پر دستخط اور ان کی ترسیل میں سہولت فراہم نہ کرنے اور ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہ کرنے پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے پاور آف اٹارنی پر دستخط کرنے کے بعد یہ معاملہ حل ہوگیا تھا۔

29 ستمبر کو عدالت نے جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ختم کردی تھی، جبکہ ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے دلائل کے لیے سماعت مقرر کی گئی تھی۔

7 اکتوبر کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مقررہ راستے کی مبینہ خلاف ورزی اور ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر لوگوں کو اکسانے سے متعلق مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ دفاعی وکلا نے اس کارروائی پر قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے اعتراضات اٹھائے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button