column and articlelatest news

ادبِ افریقا کے نوبیل چراغ : عبدالرزاق گرناہ : ایک انسان، صرف ایک خبر نہیں

خالد منصور

ذکر ہے افریقی ادبی افق پر ایک درخشاں ستارے کا جس کی تحریروں میں افریقا کی نوآبادیاتی تاریخ، ہجرت کے زخم، جلاوطنی کی بے قراری اور شناخت کی پیچیدگیاں ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ افریقا میں جنمے عبدالرزاق گرناہ (Abdulrazak Gurnah)  نے برطانیہ میں سکونت اختیار کی اور انگریزی زبان میں ایک ایسی ادبی دنیا تخلیق کی جس کا مرکز مشرقی افریقا اور بحرِ ہند کے خطے کا تاریخی و انسانی تجربہ ہے۔

نوبیل کمیٹی نے انہیں "نوآبادیات کے اثرات اور ثقافتوں اور براعظموں کے درمیان خلیج میں پناہ گزینوں کی قسمت کے بارے میں پُراثر فکشن” کے لیے ادب کا نوبیل انعام دیا۔

عبدالرزاق گرناہ 1948ء میں زنجبار میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں زنجبار برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زیرِ اثر تھا، جبکہ اس خطے کی تاریخ عرب، افریقی، ہندوستانی اور یورپی تہذیبوں کے باہمی میل جول سے تشکیل پائی تھی۔ گرناہ کا بچپن اور جوانی ایسے معاشرے میں گزرا جہاں زبان، مذہب، نسل، تجارت اور نوآبادیاتی سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے تھے۔ یہی تاریخی پس منظر بعد میں ان کے فکشن میں بار بار سامنے آیا۔

زنجبار کے معاشرے کو سمجھنا گرناہ کے ادب کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ان کے کردار اکثر ایسے افراد ہوتے ہیں جو دو یا اس سے زیادہ دنیاوں کے درمیان کھڑے نظر آتے ہیں: افریقا اور یورپ، ماضی اور حال، وطن اور پردیس، اپنی شناخت اور دوسروں کی عائد کردہ شناخت کے درمیان۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق ان کی مادری زبان سواحلی تھی اور وہ بعدازاں انگریزی میں تخلیق کرنے والے اہم افریقی ادیبوں میں شامل ہوئے۔ یہ لسانی صورتِ حال خود ان کے ادب کے بنیادی سوالات میں سے ایک کو جنم دیتی ہے کہ انسان کی شناخت زبان سے کس طرح تشکیل پاتی ہے؟

گرناہ انگریزی کو صرف برطانوی یا یورپی زبان کے طور پر استعمال نہیں کرتے، بلکہ اسے افریقی تاریخ، سواحلی ثقافت اور بحرِ ہند کی یادداشتوں کو بیان کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے ہاں زبان ایک پل بن جاتی ہے، جو مختلف ثقافتوں اور تاریخی تجربات کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔

گرناہ 1960ء کی دہائی کے آخر میں زنجبار سے برطانیہ منتقل ہوئے۔ اس وقت زنجبار میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اور انقلاب کے نتیجے میں معاشرے میں شدید سیاسی اور سماجی اضطراب پیدا ہوا۔

برطانیہ پہنچنے کے بعد گرناہ نے ایک ایسے تارکِ وطن کی زندگی کا تجربہ کیا جس کے لیے نیا ملک مواقع کے ساتھ ساتھ اجنبیت بھی لے کر آتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے ناولوں میں ہجرت محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا نام نہیں۔ یہ ایک داخلی سفر بھی ہے۔ تارکِ وطن اپنے وطن سے دور ہو کر صرف جغرافیہ نہیں کھوتا بلکہ اسے اپنی زبان، یادداشت، تعلقات اور شناخت کو بھی نئے سرے سے سمجھنا پڑتا ہے۔

گرناہ کے ادب کا ایک مرکزی موضوع نوآبادیات ہے۔ لیکن وہ نوآبادیاتی تاریخ کو صرف ماضی کا ایک باب سمجھ کر بیان نہیں کرتے۔

ان کے نزدیک استعمار کے اثرات سیاسی آزادی حاصل ہونے کے بعد بھی انسانی زندگی میں باقی رہتے ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں قائم ہونے والی طاقت کی ساخت، زبان، تعلیم، نسل پرستی اور ثقافتی تصورات بعد کی نسلوں کی زندگی پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔

اسی لیے ان کے ناولوں میں ماضی اور حال الگ الگ زمانے نہیں بلکہ ایک دوسرے میں پیوست دکھائی دیتے ہیں۔

1994ء میں شائع ہونے والا گرناہ کا ناول Paradise ان کی اہم ترین تصانیف میں شمار ہوتا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار یوسف ایک نوجوان لڑکا ہے جو مشرقی افریقا کے ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔ کہانی میں تجارت، مذہب، غلامی، نوآبادیاتی طاقت اور مشرقی افریقا کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔

یہ ناول اس لیے بھی اہم ہے کہ گرناہ نے افریقا کو صرف ایک خوب صورت اور رومانوی سرزمین کے طور پر پیش نہیں کیا۔ ان کے ہاں افریقی معاشرہ اپنے داخلی تضادات، طبقاتی فرق، تجارتی مفادات اور بیرونی طاقتوں کے دباؤ سمیت سامنے آتا ہے۔ Paradise کو 1994ء کے Booker Prize کے لیے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

گرناہ کے اہم ناولوں میں By the Sea بھی شامل ہے، جو 2001ء میں شائع ہوا۔ اس ناول میں ایک افریقی شخص برطانیہ میں پناہ گزین کی حیثیت سے اپنی زندگی اور ماضی کی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہاں گرناہ نے پناہ گزین کی زندگی کو محض سیاسی یا معاشی مسئلہ نہیں بنایا بلکہ اس کے اندر چھپی یادداشت، خوف، خاموشی اور شناخت کے سوالات کو نمایاں کیا ہے۔

ناول یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جب کوئی انسان اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو جائے تو وہ اپنے ماضی کو کہاں رکھتا ہے؟ کیا جغرافیہ بدلنے سے ماضی ختم ہوجاتا ہے؟ گرناہ کے کرداروں کے لیے جواب اکثر نفی میں ہوتا ہے۔ ماضی ان کے ساتھ سفر کرتا ہے۔

2005 ء کا ناول Desertion بھی گرناہ کے ادبی سفر میں خاص مقام رکھتا ہے۔ اس میں محبت کی ایک کہانی کو نوآبادیاتی تاریخ اور ثقافتی فاصلے کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

ناول کے ذریعے گرناہ یہ دکھاتے ہیں کہ ذاتی تعلقات بھی طاقت کے تاریخی نظام سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتے۔ دو افراد ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں، مگر ان کے درمیان موجود تہذیبی اور نوآبادیاتی تاریخ ان کے تعلق پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔

یہی گرناہ کی فنی خصوصیت ہے کہ وہ بڑے تاریخی موضوعات کو انسانی رشتوں اور ذاتی زندگی کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔

2020 گرناہ کا ناول Afterlives شائع ہوا اور ان کے نوبیل انعام سے کچھ ہی عرصہ پہلے سامنے آیا۔ یہ ناول مشرقی افریقا میں جرمن نوآبادیاتی دور اور اس کے اثرات کے پس منظر میں مختلف کرداروں کی زندگیوں کو پیش کرتا ہے۔ جنگ، استعمار، تشدد، محبت، خاندان اور بقا کے سوالات اس کے بنیادی عناصر ہیں۔

عنوان Afterlives بھی معنی خیز ہے: تاریخ ختم ہوجانے کے بعد بھی اس کے اثرات انسانوں کی زندگی میں باقی رہتے ہیں۔ استعمار، جنگ اور تشدد گزرے ہوئے واقعات ضرور بن سکتے ہیں، لیکن ان کے نتائج نسلوں تک پہنچتے ہیں۔

2017 ء میں شائع ہونے والا Gravel Heart بھی گرناہ کی اہم تخلیق ہے۔ اس میں ایک ایسے نوجوان کی کہانی سامنے آتی ہے جو اپنے خاندان، وطن اور اپنی ذات کے درمیان پیچیدہ تعلقات کا سامنا کرتا ہے۔

یہ ناول اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ ہجرت صرف سرحد پار کرنے کا نام نہیں۔ کبھی کبھی انسان اپنے ہی خاندان، معاشرے اور ماضی میں اجنبی بن جاتا ہے۔ گرناہ کے کردار اسی داخلی اجنبیت کا سامنا کرتے ہیں۔

عبدالرزاق گرناہ کے ادب کو صرف ’’افریقی ادب‘‘ کہہ دینا ان کی تخلیقی دنیا کو محدود کردے گا۔ ان کی بہت سی کہانیاں بحرِ ہند کے وسیع تاریخی اور ثقافتی خطے سے وابستہ ہیں۔

زنجبار، مشرقی افریقا، عرب دنیا، ہندوستان اور یورپ کے درمیان صدیوں سے تجارت، ہجرت اور ثقافتی رابطے موجود رہے ہیں۔ گرناہ اسی دنیا کو اپنے ادب میں زندہ کرتے ہیں۔ ان کے کردار ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ثقافتیں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ مسلسل باہم رابطے میں ہیں۔

اسی لیے ان کے ادب میں شناخت کبھی ایک سادہ سوال نہیں رہتی۔ ایک شخص بیک وقت افریقی، سواحلی، مسلمان، تارکِ وطن، برطانوی معاشرے کا فرد یا کسی خاندان کا وارث ہوسکتا ہے۔

گرناہ کے ادب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ پناہ گزین کو صرف سیاسی خبر یا اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھتے۔ ان کے ناولوں میں پناہ گزین ایک مکمل انسانی شخصیت ہے جس کی اپنی یادیں، محبتیں، غلطیاں، خواب، خوف اور ماضی ہوتا ہے۔

وہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ جب ایک شخص اپنا وطن چھوڑتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک جسم سرحد پار نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ ایک پوری زندگی، ایک زبان، ایک تاریخ اور بے شمار یادیں بھی سفر کرتی ہیں۔

2021ء میں عبدالرزاق گرناہ کو ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق ان کا ادب نوآبادیات کے اثرات، ثقافتوں اور براعظموں کے درمیان خلیج اور پناہ گزینوں کی قسمت کو غیر متزلزل اور ہمدردانہ انداز میں بیان کرتا ہے۔

نوبیل انعام ان کے پورے ادبی سفر کا اعتراف تھا۔ یہ صرف ایک ناول یا ایک موضوع کی پذیرائی نہیں تھی بلکہ اس تخلیقی آواز کا عالمی اعتراف تھا جو کئی دہائیوں سے افریقا اور یورپ کے درمیان انسانی تعلقات، نوآبادیاتی تاریخ اور ہجرت کے تجربے کو بیان کررہی تھی۔

افریقی ادب میں نوآبادیات کا موضوع نیا نہیں، لیکن گرناہ نے اسے ایک مختلف زاویے سے دیکھا۔ ان کے ہاں نوآبادیات صرف حکمران اور محکوم کی کہانی نہیں بلکہ یادداشت، زبان، شناخت اور انسانی تعلقات میں موجود ایک پیچیدہ ورثہ ہے۔

وہ افریقا کو بھی ایک یکساں اور جامد معاشرہ نہیں سمجھتے۔ ان کے افریقا میں مختلف زبانیں، مذاہب، نسلیں اور ثقافتیں ایک دوسرے سے ملتی اور ٹکراتی ہیں۔ یہی پیچیدگی ان کے ادب کو عالمی بناتی ہے۔

عبدالرزاق گرناہ کا چراغ ہمارے سامنے ایک ایسا افریقا روشن کرتا ہے جو صرف جغرافیہ نہیں بلکہ یادداشت اور شناخت کی سرزمین ہے۔ان کی تحریروں میں زنجبار کی گلیاں، بحرِ ہند کی ہوائیں، نوآبادیاتی ماضی، ہجرت کی تنہائی اور نئے وطن کی اجنبیت ایک ہی ادبی منظرنامے میں جمع ہو جاتے ہیں۔

گرناہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ صرف کتابوں میں محفوظ نہیں ہوتی، وہ انسانوں کے جسم، زبان، خاندان، خواب اور خاموشیوں میں بھی زندہ رہتی ہے۔

اگر وولے سوینکا نے افریقی ادب کو سیاسی اور ثقافتی مزاحمت کی آواز دی، اور ڈورس لیسنگ نے افریقی تجربے کو نوآبادیاتی معاشرے اور انسانی نفسیات کے آئینے میں دیکھا، تو عبدالرزاق گرناہ نے اسی تاریخی سفر کو ہجرت، جلاوطنی اور شناخت کے سوالوں تک پہنچایا۔ ان کا نوبیل چراغ ہمیں بتاتا ہے کہ وطن سے دور ہو جانے کے بعد بھی وطن انسان کے اندر زندہ رہتا ہے اور ادب اس زندہ یادداشت کو آواز دینے کا سب سے طاقتور وسیلہ بن سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button