
یہ غالباً انیس سو چوراسی یا پچاسی کی بات ہے کہ ایک روز مجھے ملتان سے کسی اختر شمار نامی شاعر کا خط ملا یہ ایک نئے شاعر کا دوسرے نو آموز شاعر سے پہلا رابطہ تھا مگر خط کے مضمون سے لگتا تھا جیسے ہم سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں، میں نے غالبؔ کی سی گرم جوشی سے اس خط کا جواب لکھا اور شام تک ڈاک کے سپرد بھی کر دیا اگلے چند روز میں نہ صرف اس خط کا جواب آیا بل کہ اس کے ہمراہ اختر شمار کے ہائیکو کا مجموعہ ’’روشنی کے پھول‘‘ بھی تھا جسے دیکھ کر میں قدرے سہم سا گیا ارے یہ تو صاحبِ دیوان شاعر ہے۔ انہی دنوں ایک بین الکلیاتی مشاعرے میں شرکت کے لیے خانیوال جانا ہوا یہیں میری دو ایسے شاعروں سے ملاقات ہوئی جو آنے والے دنوں میں ہماری زندگیوں پر پھیل گئی۔ ان میں ایک تو سانولہ سلونا جوان تھا اور دوسرا گورا چٹا، لمبا تڑنگا اور جوشیلا بل کہ غصیلا شاعر، جس نے ایسی توانا اور ڈرامائی آواز میں غزل پڑھی کہ مشاعرہ درہم برہم کر دیا۔ ان میں پہلا جوان اطہر ناسک اور دوسرا اختر شمار تھا۔ یہ اختر شمار کی جوانی کے آغاز کے دن تھے وہ جوش، جذبات اور خوابوں سے بھرا ہوا تھا بات کرتے ہوئے میز پہ مکے مارتا، ہوا میں اُنگلی لہراتا، بار بار آواز کی لے بلند ہو جاتی، وہ جسے چاہتا مسترد کر دیتا اور جسے چاہتا گلے لگا لیتا۔ اسی مشاعرے میں میری رضی الدین رضی اور شوکت مہدی سے بھی ملاقات ہوئی۔

میں اورئینٹل کالج لاہور سے ایم اے اردو کرنے پہنچا تو وہ پہلے سے شہر میں موجود تھا میری رہائش پنجاب یونیورسٹی کے وولز ہوسٹل میں تھی مگر وہ کہاں رہتا تھا یہ اس نے کبھی نہیں بتایا البتہ مجھے اتنا معلوم تھا کہ وہ لکشمی چوک میں واقع روزنامہ آفتاب سے منسلک ہے پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ لیکچرر بنا اور اس کی پوسٹنگ قصور میں ہو گئی مگر وہ شام تک واپس آ جاتا تھا، شام ہوتے ہی بہت سے دوست میرے کمرے میں یا پھر پاک ٹی ہائوس میں اکٹھے ہوتے اور رات گئے تک یہ محفل برپا رہتی، انہی دنوں منصور آفاق اور افضل عاجز لاہور میں وارد ہوئے، احمد لطیف، حمید اختر کے میگزین سے وابستہ تھا، اصغر عابد اور حامد یزدانی بھی شہر میں تھے، کبھی کبھار اس منڈلی میں ارشد نعیم بھی شریک ہو جاتا، ہم میں سے کسی کے پاس لاہور میں اپنا گھر نہ تھا سو ہم ٹی ہائوس میں جمع ہوتے یہی ہمارا ڈرائنگ روم تھا، ٹی ہائوس بند ہونے لگتا تو ہم پرانی انارکلی میں اُٹھ آتے یہاں سے باجماعت آوارگی کرتے ہوئے کبھی ریگل، کبھی بھاٹی اور کبھی لکشمی چوک تک جاتے، چلتے پھرتے غزلیں کہتے اور یہ غزلیں ایک دوسرے کو سناتے، دوستوں کی تنقید اور تحسین کا سامنا کرتے، اختر شمار اپنے ساتھ ملتان سے ہائیکو کی سوغات لایا تھا لہٰذا اختر شمار، اصغر عابد، حامد یزدانی اور میں روزانہ کی بنیاد پر ہائیکو کہتے اور ایک دوسرے کو سنایا کرتے۔
اختر شمار کے جارحانہ انداز سے لگتا تھا کہ جیسے وہ لاہور میں رہنے نہیں بل کہ اسے فتح کرنے آیا ہے وہ ایک ایسا جرنیل تھا جس کے لشکر میں اطہر ناسک نامی صرف ایک سپاہی تھا اور وہ بھی لڑے بغیر ہتھیار ڈالنے پہ آمادہ تھا اس کا لشکر میدان میں اترنے سے پہلے ہی تتر بتر ہو چکا تھا سچ تو یہ ہے کہ اسے سپہ گری سے زیادہ لاہور فتح کرنے میں دلچسپی تھی۔ وہ لاہور پہنچا تو اس کے کندھوں پر کئی موروثی دشمنیوں کا بوبجھ تھا وہ معرکے جو ملتان اور اس کے گرد و نواح میں غیرفیصلہ کن رہ گئے تھے وہ اب لاہور کے قلب میں لڑے جانے والے تھے۔
جیسے جیسے ملتان، میلسی، کبیر والا اور خانیوال سے تعلق رکھنے والے اس کے پرانے حریف لاہور میں جمع ہوتے گئے ان لڑائیوں میں شدت آتی چلی گئی، اختر شمارے نے لاہور کے نئے میدان میں ُپرانی لڑائیوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ چند نئے محاذ بھی کھولے۔ وہ ایک عمدہ تخلیق کار تھا مگر اس کی تخلیقی توانائیوں کا ایک بڑا حصّہ انہی معرکہ آرائیوں میں صرف ہو گیا، دراصل اس کا مزاج اٹھارہویں صدی کے معرکہ پسند اُستاد شاعروں جیسا تھا مگر اس کے حصے میں بیسویں صدی کا قدرے بدلا ہوا ماحول آیا، اس کے پاس لشکر تھا نہ کہیں سے کمک آنے کی اُمید، اس کے باوجود ایک وقت میں کئی محاذ کھول لیتا تھا۔ بعض محاذ اس لیے بھی کھلتے کھلتے رہ گئے کہ اس کے مقابل جو دشمن تھے وہ ’’خاندانی‘‘ نہ تھے۔ ناراض خوئی اور محاذ آرائی کے حوالے سے وہ قریباً ایک ابنارمل شخص تھا، ایک سیال شخص، ناممکن کے خواب دیکھنے والا، دنیا کو فتح کرنے کے خواب، سراپا بے چین، نامطمئن، مضطرب، مسلسل حرکت میں رہنے والا عمدہ فن کار، بغیر سوچے آگ کے دریا میں کود پڑتا پھر تنکوں کے سہارے ڈھونڈتا، اس کی شعری انا زمین و آسمان سے بھی بڑی تھی یہ اَنا اسے دوستوں سے کھل کر بات نہ کرنے دیتی، اس نے دوستوں سے اپنے پرابلم شیئر نہ کیے، کبھی کسی سے مدد نہ مانگی، تنگ دستی میں بھی کسی سے ادھار نہ لیا، زندگی کے ہر قہر کو اکیلے برداشت کیا، وہ غیرت اور انا کے پاٹوں کے مابین تنہا پستا رہا، وہ ہم سب کے درمیان اکیلا زندگی بسر کرتا رہا۔
میں نے اور شمار نے زندگی کا بہت سا وقت اکٹھے بسر کیا، ہم نے لکشمی چوک میں بیٹھ کر ٹکاٹک (یہ انڈے اور پیاز کی بھجیا ہوتی تھی) کھائے، انار کلی سے نسبت روڈ اور چوبرجی سے ریگل تک کے ہوٹلوں سے سیراب ہوئے، چائنیز لنچ ہوم سے لے کر پاک ٹی ہائوس، شیزان، کیپری، یونیورسٹی کیفے ٹیریا، نیشنل ہوٹل، ریلوے اسٹیشن، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی کینٹینوں کی چائے سے لطف اُٹھاتے ہوئے گھنٹوں مکالمے کیے، سڑکوں پر آوارہ گردی کی، جی بھر کے قہقہے لگائے اور آپس میں اُداسی کے تبادلے کیے۔ اختر شمار عمر میں مجھ سے پانچ چھ سال بڑا تھا مگر اس نے کم از کم میرے سامنے بڑا بننے کی کبھی کوشش نہ کی ہاں ایک موقعہ ایسا ضرور آتا جب وہ بڑا ہونے کا پورا پورا فائدہ اُٹھاتا اور وہ موقعہ کسی بھی مشاعرے کے روز آیا کرتا تھا اور منتظمین مشاعرہ سے تقدم و تاخر کے سلسلے میں ذرا سی بھی چوک ہو جاتی تو وہ مشاعرہ گاہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا۔ اپنے کالموں میں منتظمین کا جلوس نکال دیتا۔ اکثر مشاعروں میں مجھے اس کے بعد پڑھایا جاتا ایسے میں وہ خاموش رہتا مگر اس کے جسم کے روئیں روئیں میں بہتے غصے کو صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ عام دنوں میں وہ اپنے دوستوں سے نہایت محبت سے پیش آتا مگر مشاعرے کے دن اس کا رویہ اچانک شجاعانہ ہو جاتا یوں معلوم ہوتا جیسے وہ شاعر نہیں ہے بل کہ سپاہی محاذِ جنگ پہ آیا ہوا ہے۔ ناراض ہو جاتا تو کبھی کھل کر اظہار نہ کرتا بل کہ اس کی ناراضی کی اطلاع ہمیں اس کے کالموں سے ملتی جن میں وہ کبھی ناراض کرنے والوں کے نام لے کر اور کبھی نام لیے بغیر ان کے خلاف لکھا کرتا، اس کے اس قسم کے کالم پڑھ کر اس سے شکوہ کرنے کی بجائے خود کشی کرنے کو جی چاہتا تھا۔
ڈاکٹر اختر شمار اپنے سامنے موجود ہر چھوٹے بڑے شخص سے ’’جی بسم اللہ‘‘ کہہ کر بات کرتا اور اپنے غیرموجود دوست کے لیے ہمیشہ ’’بیچارہ‘‘ کا لفظ استعمال کرتا۔ وہ اپنے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والے ہر نوجوان شاعر کو اپنا برخوردار تصور کرتا، اس کے کندھے تھپتھپاتا اور یک طرفہ طور پر اسے اپنا شاگرد سمجھتا، یہی وجہ ہے کہ نوجوان شاعر اس مربیانہ سرپرستی کو بھانپتے ہی بدکنے لگتے ایسے میں بڑے حسرت آمیز لہجے میں کہتا ’’یار جواز! ہمارے ملک میں تاثیر نہیں ہے‘‘ وہ مجھے اپنا سب سے قریبی دوست سمجھتا اور سب سے بڑا حریف بھی۔ دوستوں کی کامیابیوں کا سن کر چند لمحے خاموش رہتا اور پھر بجھے ہوئے دل کے ساتھ مبارک باد دیتا اس کا اندازہ ایسا ہوتا تھا کہ یہ کامیابی دراصل اس کا استحقاق تھا جسے کوئی دوست لے اُڑا ہے۔ ہم دونوں نے تقریباً تین دہائیاں مل کر بسر کیں ہم نے مل کر دور دراز کے سفر کیے، بڑے بڑے مشاعرے پڑھے، ادبی کانفرنسوں اور جشنوں میں شریک ہوئے۔ اسے مین سٹریم میں رہنے کا شوق تھا کسی ادبی تقریب میں جاتا کچھ دیر بیٹھتا، پھر گھڑی پہ یوں نظر ڈالتا جیسے ضروری کام میں تاخیر ہو رہی ہو جلدی سے ویسپا کو سٹارٹ کرتا اور اگلی تقریب کے لیے روانہ ہو جاتا، وہ ہر گروپ کے شعراء سے میل جول رکھنے کا آرزومند تھا اور ادب کی لمحہ لمحہ بدلتی صورت حال سے باخبر رہنا چاہتا تھا آخری سالوں میں اس کے اندر کا پرانا صحافی اس کے شاعر پہ غالب آ گیا تھا اس کا بین ثبوت ’’بجنگ آمد‘‘ تھا۔ جرنلزم کا مرض وہ ملتان سے اپنے ساتھ لایا تھا اس پرچے کے ذریعے اس نے دوست کم اور دشمن زیادہ بنائے۔ معاصرانہ جنگ میں یہ اس سب سے مؤخر ہتھیار تھا وہ اپنی شعری حیثیت کے حوالے سے اس قدر حساس تھا کہ اپنا ادبی مرتبہ طے کرنے کا موقعہ ناقدین کو دینے کی بجائے وہ یہ فریضہ بھی خود ہی طے کر بیٹھا تھا۔ ’’بجنگ آمد‘‘ کی اشاعت نے اسے اہم بنا دیا تھا اب ادیب و شاعر اس سے ڈرنے لگے تھے اور سرکاری نشریاتی اداروں کے مشاعروں میں اسے بلایا جانے لگا تھا، منتظمین مشاعرہ اس سے سہمے رہتے اور یہی وہ چاہتا تھا۔
ممتاز مفتی مرحوم نے اشفاق احمد اور افتخار عارف کے خاکے لکھتے ہوئے ان دونوں کے اندر کی طوائفوں کو تلاش کیا تھا میرا خیال ہے کہ ایسی طوائف ہر تخلیق کار کے اندر موجود ہوتی ہے اور یہ طوائف اپنی تمام تر نرگسیت سمیت اختر شمار کے اندر بھی چھپی بیٹھی تھی وہ جس جگہ موجود ہوتا اس کا جی چاہتا کہ ساری محفل کا رُخ اس کی طرف پھیر دیا جائے ہر کوئی اُسی کو دیکھے اسی کی تعریف کرے مگر افسوس وہ لطیفہ تراش شاعروں کے شہر میں موجود تھا جو اپنی شاعری کی بجائے اپنے لطیفوں اور فقرے بازی کے بل پر محفلیں ہائی چیک کر لیا کرتے تھے ایسے میں کم گو اختر شمار اکیلا رہ جاتا۔ شعر و سخن کی دنیا میں نام پیدا کرنے سے پہلے اسے چھوٹے چھوٹے کئی کام کرنے پڑے، تعلیم سے لے کر ذاتی اخراجات تک خود اُٹھانا پڑے، پرائمری سکولوں میں پڑھایا، ملوں کے اندر شفٹوں میں کام کیا، ریلوے اسٹیشنوں پر سویا مگر اپنی شعری انا اور تخلیقی شخصیت پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا۔ لوگوں کو اصل اختر شمار کا پتہ اس وقت چلتا جب کسی مشاعرہ گاہ میں وہ مائیک کے سامنے موجود ہوتا اس کی بلند، گھمبیر اور ڈرامائی آواز دلوں کو تسخیر کرنے لگتی، اشعار پھول بن کر ہر طرف بکھرنے لگتے، وہ سننے والوں کو کسی اور دنیا کی سیاحت پر لے جاتا جہاں سے واپسی کے لیے سامعین کا جی نہ چاہتا، یہ دنیا ایک پناہ گاہ تھی سامعین کے لیے بھی اور اختر شمار کے لیے بھی۔ اس کے اشعار میں مزاحمت تھی، طنطنہ تھا، انا تھی، محبت تھی، آنسو تھے اور سب سے بڑھ کر اختر شمار تھا، ہر شعر میں اس کی انفرادیت تھی اور ہر شعر پر اس کے دستخط تھے۔ لاہور میں کچھ دوست اسے ملازمت کے حصول میں مدد فراہم کرنے اور اس نئے شہر میں اس کا ہاتھ تھامنے کا دبے دبے لفظوں میں کریڈٹ لینا چاہتے ہیں مگر وہ شاید بھول جاتے ہیں کہ لالہ کی حنا بندی کے یہ سارے انتظامات فطرت خود کرتی ہے۔

سرکاری اعزازات کے حوالے سے اختر شمار خاصا حساس واقع ہوا تھا ان اعزازات کے لیے وہ مقدور بھر منصوبہ بندی بھی کیا کرتا مگر جب ادبی اشرافیہ کے سامنے اس کے ارادے ٹوٹتے نظر آتے تو بڑے دکھ کے ساتھ کہتا کہ اسے ان اعزازات کی ذرّہ برابر بھی پروا نہیں، شعری مرتبہ ایوارڈ سے نہیں تخلیقی سرمائے سے طے ہوتا ہے اور اس کے شعری مرتبے کا اُس سے زیادہ کسی کو علم نہیں تھا۔ وہ ایک سیلف میڈ انسان تھا وہ ذاتی محنت اور جدوجہد کے ذریعے پرائمری سکول کے استاد سے تدریس کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچا تھا میرے نزدیک وہ محنت کے ذریعے اپنا مقام بنانے والوں کے لیے روشن ترین مثال بنا، قصور کالج سے گورنمنٹ کالج لاہور یہاں سے ایف سی کالج کے شعبۂ اردو کے چیئرمین کے منصب پر فائز ہوا اور پھر وہیں سے الازہر یونیورسٹی (مصر) تک پہنچا۔ جن دنوں وہ مصر روانہ ہونے والا تھا جدائی کے احساس سے ہماری ملاقاتیں بڑے تواتر سے ہونے لگی تھیں ہم روزانہ رات کو پرانی انارکلی میں بیٹھتے یوسف ہوٹل سے کھانا کھاتے اور پٹھان کے ہوٹل کی کڑک چائے پیتے، وہ ہمیں بھی مصر بلانے کے خواب دکھایا کرتا، اُس مشاعرے کا خاکہ کھینچتا وہاں پہنچنے کے بعد جسے مصر میں منعقد ہونا تھا، مصر پہنچا تو یوں لگتا تھا کہ ہم بھی اگلی فلائٹ سے مصر روانہ ہو رہے ہیں مگر وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسے شاعر کو مصر بلایا جس کے خلاف وہ روزانہ کی بنیاد پر گفتگو کیا کرتا تھا۔ کچھ عرصے بعد واپس آیا تو کئی روز تک ایک بار کشتِ زعفران بن گئی اور رہے باقی صاحب وہ اس مشقِ ستم پر ہمیشہ کی طرح مسکراتے رہے۔ اختر شمار دراز قامت اور وجیہہ شخص تھا آخری عمر میں کندھے جھکا کر چلنے لگا تھا مجھے اس انداز میں چلتا نظر آتا تو میں فوراً ٹوکتا کہ سیدھے چلا کرو، جب بھی میرے سامنے آتا تو فوراً سیدھا ہو جاتا اور کہتا ’’میں ذرا سیدھا کھڑا ہو جائوں ورنہ میرا یار ناراض ہوگا‘‘ نوجوانی کے زمانے میں وہ اپنے دراز قد اور سفید رنگت کے باعث نہایت سجیلا دکھائی دیتا تھا۔ راجا نیر اس کے ساتھ تصویر کھنچوانے سے ہمیشہ احتراز کرتا اور کہتا کہ ’’شمار کے ساتھ تصویر بنوانے کے بعد ہم دونوں دس (10) کا ہندسہ بن جاتے ہیں۔
میں ایک ایسی عورت کو جانتا ہوں جو اختر شمار کی بلند قامت اور مردانہ وجاہت کو بے حد پسند کرتی تھی مگر اس کے مزاج کی تندی اور ناراض خوئی سے دور بھاگتی تھی، اُسے بھی خوب صورت عورتیں پسند تھیں مگر وہ سیکنڈلز سے ڈرتا تھا، اسے ممنوعہ چشموں کا پانی پسند تھا مگر وہ محفل میں اس کی طرف دیکھتا تک نہ تھا، اسے قہقہے پسند تھے مگر وہ سنجیدہ رہنے کی اداکاری کرتا تھا، وہ اپنے اردگرد دوستوں کا مجمع دیکھنے کا تمنائی تھا مگر اسے تنہائی کا دکھ سہنا پڑتا، اسے کسی بڑے ادبی ادارے کی صدر نشینی کی خواہش تھی مگر زندگی اسے بوریا نشینی کی طرف لے گئی، وہ پرسکون زندگی کا خواہاں تھا مگر وقت نے اسے معرکہ آرائیوں کی طرف دھکیل دیا، اسے دوستوں سے محبت تھی مگر وہ انہیں بجنگ آمد کے ایڈیٹر کے روپ میں ملتا تھا، بجنگ آمد جس کا خوبصورت دفتر اس کا دیرینہ خواب تھا مگر یہ خواب کبھی پورا نہ ہوا، وہ بجنگ آمد کا ایڈیٹر بھی تھا اور ہاکر بھی۔
وہ دوستوں کے ساتھ خاندانی مراسم میں یقین نہ رکھتا تھا ہم کبھی اپنے خاندانوں کے ساتھ ایک دوسرے کے گھر نہیں گئے وہ ہمیشہ میری طرف اکیلا آتا میری بیگم کو بیٹی کہہ کر مخاطب کرتا اور اکثر کہتا ’’شکر ہے ہمارا دوست محفوظ ہاتھوں میں ہے‘‘
ایم اے کا امتحان دینے کے بعد میں فارغ تھا ایک روز اختر شمار نے لکشمی چوک میں واقع روزنامہ آفتاب پہنچنے کے لیے کہا۔ اخبار کا عملہ تین سے چار افراد پر مشتمل تھا، پہلا اختر شمار، دوسرا اطہر ناسک، تیسری رخسانہ نامی لڑکی اور چوتھا ایک کاتب جو کاپی پیسٹنگ کا کام بھی کرتا تھا یہاں کا کرتا دھرتا اطہر ناسک تھا میرے آنے پر سبھی نے خوشی کا اظہار کیا، مجھے چائے پیش کی گئی اور اس کے ساتھ ہی میری نوکری کا آغاز ہو گیا، تھوڑی ہی دیر میں مجھے پتہ چل گیا، یہ رُخسار نامی صحافی دراصل میری اور اختر شمار کی بھابی ہیں ہماری ایسی دو بھابیاں پہلے بھی موجود تھیں اطہر ناسک ایک رحم دل انسان تھا وہ ضرورت مند عورتوں کی مدد شادی کے ذریعے کیا کرتا تھا۔ اخبار کا دفتر تو پہلے فلور پر واقع تھا جب کہ اس سے اوپر والے فلور پر ایک ہی کمرہ تھا جس میں ممتاز شاہ نامی ایڈیٹر اپنی سرخ سفید سیکرٹری کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا دونوںاخباری ایریا میں کم کم ہی آیا کرتے عملاً یہاں اطہر ناسک کا سکہ چلتا تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اپنے مختلف قیام کے دوران بھی اخبار سے تنخواہ وصول کی ہو البتہ چھوٹا اخبار ہونے کے باعث مجھے یہاں اخباری صنعت کو قریب سے دیکھنے اور سیکھنے کے بہتر مواقع میسر آئے۔ کچھ ہی عرصے بعد میں یہاں سے روزنامہ ’’مساوات‘‘ چلا گیا میری نئی اسائنمنٹ پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کے انٹرویوز کرنا تھا۔ یہ ’’آفتاب‘‘ سے اور تو کچھ حاصل نہ ہوا البتہ یہاں میں نے اختر شمار کے ساتھ بہت سا یادگار وقت گزارا۔ اس زمانے میں رائل پارک کی وجہ سے یہ علاقہ ثقافتی اور کاروباری، مرکز ہوا کرتا تھا ہر طرف فلموں کے بڑے بڑے بورڈ آویزاں تھے کبھی کبھار آتے جاتے فلمی صنعت سے وابستہ چہرے بھی نظر آ جایا کرتے، اختر شمار کو فلم بینی کا چسکا تھا وہ ہر نئی فلم کو دیکھنا ضروری سمجھتا تھا تاکہ فلمی پیش رفت پر نظر رکھ سکے۔ اختر شمار کے ساتھ بہت سی فلمیں دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ فلموں میں نغمہ نگاری کرنے کے لیے لاہور وارد ہوا تھا، وہ فلمی گیتوں کو نہایت توجہ سے سنتا اور ان پر گفتگو کیا کرتا، کئی بار ہم نے فلمی سٹوڈیوز کے بھی چکر لگائے مگر کسی نے اس خوب صورت شاعر کے جوہر کو نہ پہچانا رفتہ رفتہ اس نے اس ناکامی پر صبر کر لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ نور جہاں کی آواز میں گایا گیا پنجابی گیت (میں ہاں حسن دی کلاشنکوف) اسی نے لکھا تھا جسے کسی اور شاعر کے نام سے فلم میں شامل کر لیا گیا مگر اکثر دوست اس کے اس دعوے کو نہ مانتے تھے۔ مگر میں صرف اس لیے اس دعوے پہ یقین رکھتا تھا کہ گیت میں ’’کلاشنکوف‘‘ کا لفظ موجود تھا جو اس زمانے کے اختر شمار کے مزاج کی نمائندگی کرتا تھا۔
اطہر ناسک اختر شمار کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک تھا دونوں ایک ہی علاقے (ملتان) سے تعلق رکھتے تھے، دونوں شاعر تھے اور بیدل حیدری کے شاگرد بھی۔ ان کے دوست اور دشمن مشترک تھے اطہر ناسک بلا کا سگریٹ نوش تھا مگر اختر شمار اس سے دور بھاگتا، دونوںکے مزاج میں بھی خاصا فرق تھا، اختر شمار گورا چٹا اور وجیہہ تھا جب کہ اطہر ناسک سانولہ تھا اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے جنہیں وہ عینک کی مدد سے چھپائے رکھتا، اختر کی نسبت اس کے بال قدرے لمبے ہوا کرتے، وہ خوش گپیوں کا شوقین اور خیالی پلائو پکانے کا ماہر تھا ہمیشہ تنگ دستی کا شکار رہتا کہ اس کی تنخواہ کئی بخروں میں بٹتی تھی، سارا مہینہ بچے کھچے سکے اور شیشے کے ایک جار میں ڈالتا جاتا اور مہینے کے آخری دنوں میں ان سکوں سے سگریٹ خریدتا اور رُخسانہ بھابی کے سگھڑاپے کی تعریف کیا کرتا، ڈینگیں مارنے کے سلسلے میں ناصر کاظمی اور اُستاد امانت علی خان کا پیر بھائی تھا، کبھی ’’اخبارِ جہاں‘‘ کو ماند کر دینے والا ویکلی نکال رہا ہے تو کبھی جنگ کے ٹکر کا روزنامہ شائع کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے، ہم آہستہ آہستہ اس کی گفتگو کے عادی ہو گئے تھے بل کہ جس روز وہ اس قسم کی باتیں نہ کرتا ہم فکرمند ہو جایا کرتے تھے۔ انیس سو ستانوے یا اٹھانوے کی بات ہے میں پی ٹی وی کے لیے ’’دستک نہ دو‘‘ نامی سریل لکھ رہا تھا ایک روز ٹی وی سٹیشن پر اخترشمار سے ملاقات ہو گئی اس نے بتایا کہ اطہر ناسک نے اپنا روزنامہ نکال لیا ہے مبارک باد دینے کے لیے جانا چاہیے، اتفاق سے اخبار کا دفتر پی ٹی وی کے سامنے تھا کیا دیکھتے ہیں کہ ساتھ ساتھ واقع دو کمروں میں سے ایک کے باہر چیف ایڈیٹر اطہر ناسک اور دوسرے پر ایڈیٹر رُخسانہ اطہر کے ناموں کی تختیاں آویزاں ہیں اس کے علاوہ یہاں بندہ نہ بدنے کی ذات، ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے، چائے پلائی اور پتہ چلا کہ نئے اخبار نے جنگ اور نوائے وقت کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں لہٰذا دونوں اخبارات کے مالکان نئے اخبار کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ چند ہفتوں کے بعد انارکلی میں اطہر ناسک سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کا اخبار تو اسی ہفتے مرحوم ہو گیا تھا۔ کئی برسوں بعد ایک پروفیسر دوست نے بتایا کہ اطہر ناسک کی پوسٹنگ لاہور کے ایک کالج میں ہے اور مقدر کا ستارا تو عروج پر ہے۔ اسی دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ اطہر ناسک ڈبل شاہ جیسا دھندہ کر رہا ہے لوگ اپنی گاڑیاں اور گھر بیچ بیچ کر رقم اس کے حوالے کر رہے ہیں اور وہ کئی کئی گنا زیادہ پیسے واپس کر رہا ہے، میں نے اختر شمار سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ’’تمہارے پاس پرانی خبریں ہیں آج کل تو وہ پولیس سے چھپتا پھر رہا ہے۔‘‘ جن دنوں اختر شمار مصر میں اردو پڑھا رہا تھا میں چوبرجی کے ایک بنک کے سامنے کھڑا تھا کہ مجھے سبز پوشوں کا ایک قافلہ آتا دکھائی دیا درویشوں نے اپنے پیر و مرشد پر سبز چادر تان رکھی تھی اور مرشد نے چادر سے چہرہ چھپایا ہوا تھا، میرے برابر پر پہنچ کر درویشوں کے قافلے کا سالار تیزی سے چادر کے نیچے سے میری طرف لپکا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجھ سے لپٹ گیا، چہرے سے پردہ ہٹا تو میں دنگ رہ گیا، یہ اطہر ناسک تھا جو اب پیری فقیری کی دنیا میں قسمت آزمائی کر رہا تھا۔
زندگی کے پچاس برس مکمل ہونے سے پہلے تک اختر شمار ایک نارمل شخص تھا، کبھی کبھی ہی سہی وہ ممنوعہ چشموں کے پانی سے سیراب ہوا کرتا، گوشت بھی شوق سے کھاتا تھا (البتہ ان دنوں میں گوشت سے مکمل پرہیز کیا کرتا تھا) اور خواتین کا حسن بھی اسے بے چین رکھتا تھا مگر آہستہ آہستہ وہ زندگی کی لذتوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک بار میں اور اختر شمار گجرات کے ایک کل پاکستان مشاعرے میں شریک ہوئے، ان دنوں ہم دونوں کے پاس گاڑیاں نہیں تھیں لہٰذا ہم دونوں نے ڈائیوو بس کے ذریعے یہ سفر کیا، واپسی پر لاہور کی ایک شاعرہ اسی بس میں سوار ہو گئی۔ میں اور اختر ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے بس اڈے سے روانہ ہو رہی تھی کہ وہ شاعرہ ہانپتی کانپتی بس میں سوار ہوئی اور ہمارے بائیں جانب برابر والی سیٹ پر آ بیٹھی، بس کو روانہ ہوئے دس پندرہ منٹ ہوئے تھے کہ دونوں کی نظروں کا تبادلہ ہوا، اختر شمار نے اپنا ہینڈ بیک اُٹھایا اور شاعرہ کے پہلو میں جا بیٹھا۔ اختر شمار ایک دم صوفی نہیں بنا جیسے جیسے اس کے بال سفید ہو رہے تھے اور جسمانی توانائیوں میں کمی آنے لگی تھی درویشی کی طرف اس کی رغبت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا شروع شروع میں وہ کھانے پینے کے حوالے سے سادگی کی طرف مائل ہوا میرے خیال میں یہی اس کی بیماری کے آغاز کے دن تھے مگر وہ اپنی بیماری کو ہم سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھا، درویشی کی طرف مائل ہونے کا ایک نفسیاتی سبب اس کے حریف تھے جو اس کے مقابلے میں دونوں ہاتھوں سے دنیا سمیٹ رہے تھے اور اپنی مادی کامیابیوں پر نازاں تھے تو ایسے میں اس نے دنیا کو تیاگنے کا مشکل فیصلہ کر لیا تاکہ حریفوں کو پیغام دے سکے کہ جس دنیا کو تم اس قدر اہمیت دیتے ہو میں اسے پائوں کی ٹھوکر پر رکھتا ہوں، اس نے درویشی پر کتابیں لکھنا شروع کیں اور درویشوں کی طرح اُٹھتے بیٹھتے ’’جی بسم اللہ‘‘ کی تکرار کرنے لگا، رہی اس کی ایک آدھ کتاب جو درویشانہ قرار دی جا رہی تھی میں نے اس کتاب کو حیرت سے پڑھا اس میں کوئی روحانی تجربہ سرے سے موجود نہیں تھا یہ کتاب کھانے پینے کے آداب سے متعلق سطحی سی کتاب تھی، ہم سال ہا سال اکٹھے بیٹھے مگر اس نے کبھی میرے ساتھ تصوف کے حوالے سے کوئی متاثر کن بات نہیں کی حتیٰ کہ اس کی تمام شاعری میں کہیں بھی روحانی واردات نظر نہیں آتی۔
ہمارا دوست ڈاکٹر غافر شہزاد حلقہ اربابِ ذوق کا سیکرٹری بنا تو اس نے تخلیق کاروں کے اعتراف فن کے لیے ’’ماہِ رواں کی ادبی شخصیت‘‘ کے نام سے ایک سلسلہ شروع کیا اس میں میرے سمیت چند دوستوں کے ساتھ شامیں منائی گئیں۔ جس دن اختر شمار کے اعزاز میں تقریب ہوئی محفل میں موجود بیشتر حضرات اسے صوفی ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے اس تقریب میں موجود میں واحد شخص تھا جس نے اختر شمار کو صوفی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا اوّل تو اس کی شاعری اس کے صوفی ہونے کی گواہی نہیں دیتی اور ثانیاً اس کا رویہ بھی غیرصوفیانہ ہے۔ صوفی اپنے ہاتھ اور زبان سے کسی کی دل آزاری نہیں کرتا جب کہ اختر شمار صبح سے لے کر شام تک کئی لوگوں کی دل آزاری کرتا ہے اور اس سلسلے میں اس کا سب سے بڑا ہتھکنڈہ اس کا کالم ہے۔ میرا خیال تھا کہ دن رات ’’جی بسم اللہ‘‘ کی گردان کرنے سے کئی صوفی نہیں بن سکتا لہٰذا بہتر ہے کہ اسے ایک خوب صورت رومانوی شاعر ہی رہنے دیا جائے۔ اس تقریب کے چند روز بعد میں آفس سے گھر پہنچا تو میری بیوی نے ایک کاغذ میری طرف بڑھاتے ہوئے رنجیدہ لہجے میں کہا ’’کیا تیس پینتیس سالہ دوستی کا یہ انجام ہونا تھا؟ میں نے کاغذ لے کر پڑھنا شروع کیا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا یہ ایک دوست کی دوسرے دوست کے بارے میں توہین آمیز تحریر تھی اس نے اسی کالم پہ بس نہیں کی بل کہ آنے والے دنوں میں میرا نام لیے بغیر بھی کچھ کالم لکھے جن کے جواب میں میں نے چپ سادھ لی، بالآخر اسے زیادتی کا احساس ہوا وہ میرے گھر آیا اور میری بیگم سے باقاعدہ معافی مانگی اور ہماری دوستی کے خشک پیڑ پر پھر سے بہار آ گئی۔
ڈاکٹر اختر شمار محنت اور خودداری کی نمایاں ترین مثال تھا، مِل کے ایک ورکر سے وہ پروفیسر بنا، صدر شعبہ کے مرتبے پر فائز ہوا، شہرت و ناموری نے اس کے قدم چومے، پاکستان کی طرف سے اردو پڑھانے مصر گیا اور لاہور میں اپنا گھر خریدا، یہ ساری جدوجہد اسے ایک کامیاب انسان ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ زندگی میں آسائشیں شامل ہو رہی تھیں مگر جھکتے ہوئے شانے، کمزور پڑتے لہجے اور کھانے پینے کے سلسلے میں غیر معمولی احتیاط اس کے اندر کی صورت حال کا پتہ دے رہی تھی مگر وہ انا پرست ایسا تھا کہ کبھی دوستوں سے اپنی بیماری کا تذکرہ نہ کرتا تھا اس کی گرتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر میں گاہے گاہے اسے دیکھنے ایف سی کالج یونیورسٹی جایا کرتا، آخری دنوں میں جب اس نے کالج آنا چھوڑ دیا تھا تو میں نے اسے دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا مگر وہ ملنے پر آمادہ نہ ہوا، مرنے سے ایک دو روز قبل ڈاکٹر شاہد اشرف نے بتایا کہ اختر شمار کی طبیعت ٹھیک نہیں اور رات سے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں زیر علاج ہے میرے فون کرنے پر اس کے بیٹے نے بتایا کہ واپس گھر جا کر بات کرائوں گا فی الحال ڈاکٹرز نے ملاقاتوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ میں نے شام کو فون کیا تو وہ گھر آ چکا تھا مگر مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا، مجھے کہا گیا آپ باتکریں وہ سن رہا ہے، تب مجھے احساس ہوا کہ شاید وہ بات کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا۔ میں اپنی بیگم اور ڈاکٹر شاہد اشرف کے ہمراہ جب فاتحہ خوانی کے لیے اختر شمار کے گھر گیا تو مجھے بیٹے نے یہ کہہ کر رُلا دیا کہ جب آپ بات کرنا چاہتے تھے اس وقت وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں رہے تھے، وہ کسی کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا اور یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ دوست اسے بیماری کی حالت میں دیکھیں، یہ ایک ایسی بیماری تھی جو جوانی کے زمانے سے اس کا پیچھا کر رہی تھی۔
انیس سو نوے میں میں ایم اے اردو کا طالب علم تھا اور جدید غزل کے اہم شاعر اقبال ساجد پر تحقیقی مقالا لکھنے میں مصروف تھا ان دنوں ہمارے دوستوں کے حلقے میں خوش فکر شاعر آصف ہمایوں بھی شامل تھے، انہیں معدے کی پرانی تکلیف تھی اور اس زمانے میں وہ گورنمنٹ کالج وہاڑی میں سوشیالوجی پڑھا رہے تھے۔ ایک روز اختر شمار، آصف ہمایوں کو ساتھ لے کر ملتان پہنچا تاکہ اپنے پیر صاحب سے ان کی بیماری کی تشخیص کروا سکے، ملتان کے نواح میں آموں کے خوب صورت باغات کے درمیان ایک بہتی ہوئی نہر کے کنارے، اینٹوں کے چولہے پر دال کی ہنڈیا پک رہی تھی اور نوجوان پیر صاحب کھانے پینے کے سلسلے میں سادگی اپنانے پر زور دے رہے تھے۔ کھانا کھانے کے بعد پیر صاحب نے اپنے مرید اختر شمار کی درخواست پر آصف ہمایوں کی بیماری کی تشخیص کی اور خاموش ہو گئے، اپنی پراسرار خاموشی کو طویل دیتے ہوئے انہوں نے مریض کی صحت کے حوالے سے کچھ رازدارانہ باتیں اخترشمار کے گوش گزار کیں تاکہ وہ خود ان باتوں سے اپنے دوست کو آگاہ کرے، پیر صاحب کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو کے بعد اخترشمار کچھ پریشان دکھائی دے رہا تھا بالآخر اس نے آصف ہمایوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہنا شروع کیا ’’بات اگرچہ تکلیف دہ ہے مگر یہی سچ ہے کہ آپ جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں اور آپ کے پاس زندگی کے صرف آخری دو ہفتے بچے ہیں لہٰذا آپ موت کو گلے لگانے سے پہلے اپنے انتہائی ضروری کام نمٹانا شروع کر دیں‘‘ اُس کہانی کادلچسپ ترین پہلو یہ ہے کہ آصف ہمایوں کو ہائپاٹائٹس سی کی بشارت سنانے کے محض چند برس بعد جواں سال پیر صاحب اسی مرض میں مبتلا ہو کر دنیا سے رُخصت ہو گئے اور اس واقعے کے تیس برس بعد اختر شمار بھی اسی بیماری کا شکار ہوا اور رہے آصف ہمایوں تو وہ نہ صرف زندہ ہیں بل کہ بہترویں سال گرہ کاکیک کاٹ چکے ہیں، وہ ہر روز نئی نئی نظمیں لکھتے ہیں اور روزانہ لمبی واک کرتے ہیں۔ اختر شمار اور جواں سال پیر نے آصف ہمایوں کے بارے میں جس بیماری کی تشخیص کی تھی اسے خود فریبی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے؟
آخری عمر میں اختر شمار کو سکون کی جستجو تھی جس کے لیے وہ آستانوں اور درگاہوںکے سفر کیا کرتا، اسے ہر وقت بابوں کی تلاش رہتی تھی، وہ بے سکون شہر سے نکل کر کہیں دور بس جانا چاہتا تھا، وہ شہرت اور ناموری جس کے لیے اس نے بہت سارے پاپڑ بیلے تھے اب وہ اس سے دامن چھڑا کر گمنام ہو جانا چاہتا تھا، وہ بظاہر دوستوںسے ملتا مگر اس نے اپنی بیماری اور کمزوری کو کبھی ان پر ظاہر نہ ہونے دیا اور جب انہیں اس کی ناقابل علاج بیماری کے بارے میں علم ہوا تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بہت سے فن کاروں اور ادیبوں کا انجام اس کے سامنے تھا اس لیے وہ نہیں چاہتا تھا کہ دوست اس کی صحت کے لیے اپیلیں کریں اور علاج کے لیے حکمرانوں کے دروازے پہ دستکیں دیں، مرنے کے لیے اس نے عاشورہ کے دن کا انتخاب کیا یہ ایسا دن تھا کہ موبائل سروس بند تھی اور میرے جیسے بہت سے دوست اپنے آبائی شہروں کی طرف گئے ہوئے تھے لہٰذا اُس کے جنازے میں شرکت ممکن نہ تھی اور سچ تو یہ ہے کہ وہ بھی یہی چاہتا تھا۔ ہری پور ہزارہ کے نواح میں اس کے مرشد قبر تیار کیے اس کا انتظار کرتے رہ گئے، خاندان والوں نے لاہور میں اس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور راولپنڈی کے قریب اس کے آبائی گائوں میں اسے دفن کر دیا، یہ تدفین اس کی مرضی کے خلاف تھی ویسے بھی وہ آناً فاناً چل بسا تھا لہٰذا وصیت کرنے کی مہلت ہی نہ ملی تھی، اب اس نے اپنے عزیزوں کے خواب میں آنا شروع کیا وہ سب سے ایک ہی بات کہہ رہا تھا ’’کہ وہ یہاں خوش نہیں ہے اسے وہاںلے جائیں جہاں اس کی قبر اس کا انتظار کر رہی ہے‘‘بالآخر اسے راولپنڈی کی قبر سے نکال کر ہری پور کی قبر میں دفنا دیا گیا اس کے ساتھ ہی اس نے خواب کے ذریعے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ختم کر دیا۔ وہ نہیںچاہتا تھا کہ لوگ اس کی عیادت یا تعزیت کریں یا پھر اس کی قبر پہ فاتحہ کے لیے آئیں تو اس نے قبر تبدیل کر کے اپنے اور دوستوں کے درمیان مزید فاصلے پیدا کر لیے۔ ادب میں اسے افسانہ بننے کا شوق مگر اس کی موت نے اسے واقعی افسانہ بنا دیا۔



