بھارتی یوٹیوبر دھروو راٹھی کا اغوا کا الزام، 23 گھنٹے حراست میں رکھنے کا دعویٰ

بھارتی یوٹیوبر دھروو راٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا اور تقریباً 23 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔ ان کے مطابق سادہ لباس میں ملبوس افراد انہیں گھر سے زبردستی لے گئے اور کارروائی کی قانونی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔
دھروو راٹھی نے 11 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو میں بتایا کہ 10 اکتوبر کی صبح تقریباً 7 بجے، جب وہ سو رہے تھے، لگ بھگ 20 افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔
یوٹیوبر کے مطابق انہیں چپل پہننے کا موقع بھی نہیں دیا گیا، جس کے باعث انہیں معمولی چوٹیں آئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حراست کے دوران ان کے والدین کے فون بھی لے لیے گئے اور انہیں اپنے فون تک رسائی، وکیل سے رابطے یا ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
دھروو راٹھی نے ویڈیو میں بھارتی پاسپورٹ دکھاتے ہوئے اپنی شہریت سے متعلق افواہوں کو مسترد کیا اور کہا کہ انہیں بھی دیگر شہریوں کی طرح قانونی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے رہائی کے بعد اپنی رہائش گاہ کے اطراف لوگوں کی موجودگی اور نگرانی کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا۔
راٹھی نے اس کارروائی کو جمہوری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورت حال کا موازنہ بھارت میں ایمرجنسی کے دور سے بھی کیا۔
دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق دھروو راٹھی کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے پیش نظر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور پوچھ گچھ کے بعد راٹھی کو رہا کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کے سلسلے میں کئی سیاسی رہنماؤں اور ہزاروں مظاہرین کو بھی مختلف مقامات سے حراست میں لیا گیا تھا۔



