column and articlelatest news

خاکہ: آنریری وومن

ڈاکٹر جواز جعفری

​منو بھائی سے باقاعدہ دوستی تو بعد میں ہوئی مگر ان سے ملاقات کئی برس پہلے سے چلی آرہی تھی صبح کے اخبار کے ساتھ وہ چپکے سے ہمارے گھر میں داخل ہوتے اور ان کے خیالات کی روشنی ہر طرف پھیل جاتی، آنکھ کھلتی تو وہ پہلے سے میرے سرہانے موجود ہوتے میں جنگ اخبار کا صفحہ نمبر دو کھولتا اور ہم دونوں بغل گیر ہو جاتے ان کے خیالات، ادبی تصورات اور سیاسی نظریات سے میں پوری طرح آگاہ تھا، منو بھائی سے میری محبت کے بارے میں گھر کا ہر فرد آگاہ تھا سارا دن ان کے کالم کے مندرجات زیر بحث رہتے وہ خاندان کے کسی دور افتادہ فرد کی طرح ہمارے درمیان موجود رہے تھے اسی زمانے میں ایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ اخبار کے صفحہ دو سے باہر نکل کر سچ مچ ہمارے درمیان موجود ہوئے۔

​غالباً 1991ء کی بات ہے میں اور پنجابی زبان کے شاعر اور میرے دوست اعظم ملک روزنامہ "جنگ” لاہور سے وابستہ تھے (ہمارا تعلق بھی ایک ہی شہر سے تھا) منو بھائی ان دنوں جنگ میں کالم لکھا کرتے تھے وہ جب بھی اخبار کے دفتر آتے ان سے گھنٹوں گپ شپ رہتی انہی دنوں اعظم ملک نے چوہڑ کانہ کے کینال گیسٹ ہاؤس میں منو بھائی کے ساتھ ایک شام کا پروگرام بنایا اس تقریب میں لاہور سے نامور تجزیہ کار زبیر رانا اور یارِ عزیز منصور آفاق (ان دنوں میں اور منصور روم میٹ ہوا کرتے تھے) بھی شریک ہوئے۔ تقریب ختم ہوئی تو شام ہو چکی تھی میں نے لاہور سے آئے مہمانوں کو رات اپنے آبائی گھر میں ٹھہرنے کی دعوت دی جسے انہوں نے بخوشی قبول کر لیا میں نے لاہور کے ہنگاموں سے دور ایک چھوٹے سے پرسکون شہر میں ایک رات بسر کرنے پر منو بھائی بے حد خوش تھے دوسری طرف منو بھائی کی اچانک آمد نے میرے خاندان کے افراد کو سرشار کر دیا تھا میرے والد اور بھائیوں کی خوشی دیدنی تھی رات کا کھانا کھانے کے بعد زبیر رانا اور منصور آفاق تو جلد ہی نیند کی وادیوں میں جا پہنچے جب کہ میرے اور منو بھائی کے مابین رات گئے تک مکالمہ جاری رہا۔

​منو بھائی کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ لکنت کے مرض میں مبتلا تھے اس رات انہوں نے اپنے خاندان، بچپن، والدین، تعلیم اور صحافتی کیریئر کے بارے میں بہت سی باتیں کیں میں نے پہلی بار غور سے دیکھا وہ بات کرتے ہوئے ہکلاتے تھے دو چار جملوں کے بعد اٹکنے لگتے ایسے میں اپنی پلکوں کو تیز تیز جھپکاتے اور ساتھ ہی ان کے ہونٹوں کو جھٹکے سے لگنے لگتے، میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا "منو بھائی! یہ لکنت کب سے آپ کے ساتھ ہے؟” انہوں نے چہرے پر کم ہوتے ہوئے اعتماد کو بحال کیا اور بولے "یہ ہکلاہٹ تو عمر بھر میرے ساتھ رہی ہے، میں نے اس سے جان چھڑانے کی لاکھ کوششیں کیں مگر یہ پیر تسمہ پا بن کر میرے وجود سے لپٹی رہی” میں نے کہا "میں نے حال ہی میں لکنت کے بارے میں ایک ریسرچ پیپر پڑھا ہے جس کے مطابق دنیا میں آٹھ فیصد (دو سے پانچ برس کے) بچے کسی نہ کسی موقعہ پر بات کرتے ہوئے ہکلاتے ہیں جب کہ بڑی عمر کے لوگوں میں یہ تناسب ایک فیصد ہے” منو بھائی اُداسی سے مسکرائے اور بولے "بدقسمتی سے میرا شمار انہی ایک فیصد میں ہوتا ہے، بچپن میں اس ہکلاہٹ کے باعث میں نے بارہا توہین، شرمندگی اور اذیت کا سامنا کیا ہے، میرے ہم جولی مجھے منیرا تھتھا کہا کرتے تھے۔ (یاد رہے کہ ان کا نام منیر احمد قریشی تھا) جب میرے یار میری نقلیں اتارنے اور تضحیک کرنے میں حد سے بڑھنے لگے تو میں نے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا اور لڑکوں کی بجائے لڑکیوں کے ساتھ کھیلنے لگا وہ ہکلانے پر میرا مذاق نہ اڑاتی تھیں اور جب میں جملہ ادا کرتے ہوئے اٹک جاتا تو وہ میرا جملہ مکمل کرنے کی بجائے صبر اور انتظار کیا کرتی تھیں حتیٰ کہ وہ جملہ میں خود مکمل کر دیتا، اس کے علاوہ یہ لڑکیاں میری توہین کرنے والے لڑکوں سے میری جگہ لڑتی تھیں وہ میرے لیے ڈھال بن گئی تھیں۔

ماحول اگرچہ خاصا بوجھل ہو گیا تھا پھر بھی میں نے ایک آخری سوال کر ہی دیا "آپ کے والد موجود تھے پھر انہوں نے آپ کے علاج پر توجہ کیوں نہیں دی؟” منو بھائی کچھ دیر خاموش رہے پھر توانائی جمع کرتے ہوئے بولے "اس بیماری کا سبب بھی میرے والد ہی تھے میں چار پانچ برس کا تھا جب انہوں نے میری والدہ کو تھپڑ مارا ماں کے چہرے پر پڑنے والے اس تھپڑ نے میری قوتِ گویائی چھین لی کئی مہینوں ​تک میں بات نہ کر سکا اور جب بولا تو ہکلاہٹ میری شناخت بن چکی تھی” یہ واقعہ وزیرآباد میں پیش آیا تھا اور تھپڑ کھانے والی عورت جدید پنجابی شاعری کے بانی شریف کنجاہی کی بہن تھی۔

​دریائے چناب کے کنارے آباد وزیرآباد منو بھائی کا آبائی شہر تھا جو شاہ جہان کے گورنر وزیر خان کی نسبت سے وزیرآباد کہلایا انیسویں صدی میں وزیرآباد گوجرانوالہ، سیالکوٹ، شیخوپورہ، گورداس پور اور بعض دیگر علاقوں پر مشتمل ضلع کا ہیڈ کوارٹر تھا لیکن 1851ء میں اس کی یہ خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔ اس مردم خیز شہر نے صرف منو بھائی جیسے کالم نگار ہی کو جنم نہیں دیا بل کہ مولانا ظفر علی خان، عطا الحق قاسمی، مولوی محبوب عالم اور شفقت تنویر مرزا جیسے صحافی، رفیق حسین تارڑ اور حامد ناصر چٹھہ جیسے سیاست دان، ن م راشد، کرشن چندر، مظہر الاسلام، سلیم کاشعر اور منظور وزیرآبادی جیسے شاعر و ادیب بھی پیدا کیے یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اور نامور کامیڈین ببو برال کا تعلق بھی وزیرآباد ہی سے تھا۔ اسی وزیرآباد کی گلیوں میں کھیلتے ہوئے منو بھائی نے اپنے دادا میاں غلام حیدر قریشی سے چناب کے کنارے جنم لینے والی عشقیا داستانیں سنیں ان کے دادا جو امام مسجد تھے اور گزر بسر کے لیے کتابت کے ساتھ ساتھ جلد سازی کا کام بھی کرتے تھے پہ دادا کی کتابت، کتابیں اور داستانیں ہی تھیں جن کے درمیان پروان چڑھتے ہوئے منو بھائی کے دل کی شاخ پر حرف کی کونپل پھوٹنے لگی گویا ان کی قوتِ گویائی لڑکھڑائی تو اس کی جگہ قلم بولنے لگا۔ یہ ایک خوب صورت اتفاق ہے کہ جس شہر میں منو بھائی کے دادا امام مسجد تھے وہیں عطا الحق قاسمی کے والد بھی اسی منصب پر فائز تھے حیرت ہے کہ مذہبی پس منظر میں پرورش پانے کے باوجود قاسمی صاحب اور منو بھائی دونوں روشن خیال ادیبوں کے طور پر سامنے آئے صرف یہی نہیں بل کہ یورپ کے عہدِ وسطیٰ کے بڑے بڑے سائنس دانوں اور فلسفیوں کا تعلق بھی کلیسا سے وابستہ کٹر مذہبی گھرانوں سے تھا۔

​جس زمانے میں پاکستان بن رہا تھا منو بھائی کالج کی تعلیم کے لیے وزیرآباد سے کیمبل پور (اٹک) روانہ ہو رہے تھے اکبر اعظم نے کابل و قندھار پر حکمران اپنے بھائی مرزا ہندال کی بغاوت کو اسی جگہ کچلنے کے بعد یہاں ایک قلعہ تعمیر کرایا تھا جس کے آثار اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں، ازاں بعد شہنشاہ نے بنارس سے لائے گئے ماہی گیروں اور بنگال کے کشتی بانوں کو یہاں آباد کیا اور اس بستی کا نام کیمبل پور رکھا جسے انگریزی تسلط کے دوران اٹک کا نام دے دیا گیا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج اٹک میں داخلہ لینے کے بعد منو بھائی کو ایسے نامور اور حکومت کے معتوب اساتذہ کی صحبتوں سے فیض اٹھانے کے مواقع میسر آئے جنہیں غیر معمولی خیالات رکھنے کے جرم میں پنجاب کے آخری ضلع میں تعینات کیا گیا تھا۔

ان اساتذہ میں سب سے نمایاں نام ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا تھا جنہوں نے ابن تیمیہ پر ڈاکٹریٹ کر رکھی تھی وہ "دو قرآن” اور "دو اسلام” سمیت کئی معرکہ آرا کتابوں کے مصنف تھے ڈاکٹر برق نے گمراہ کن اسلامی عقائد اور جھوٹی احادیث و روایات کے خلاف قلم اٹھایا تو ملائیت انہیں منکرِ حدیث قرار دے کر ان کے خلاف صف آرا ہو گئی منو بھائی نے پس ماندگی اور تنگ نظری سے نفرت اور انقلاب اور روشن خیالی سے محبت کرنا انہی سے سیکھا تھا۔

بعض لوگ ممتاز شاعر، نقاد، مترجم، ڈراما نگار اور براڈ کاسٹر مختار صدیقی کو بھی ان کے اساتذہ میں شمار کرتے ہیں میرے خیال میں یہ روایت درست نہیں کیوں کہ صدیقی صاحب نے نوکری کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا تھا اور آگے چل کر وہ سکرپٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ ہو گئے تھے البتہ یہ بات درست ہے کہ جن دنوں وہ ریڈیو راولپنڈی سے منسلک تھے انہوں نے منو بھائی کی شدید لکنت کو معجزانہ طور پر ختم کرتے ہوئے ان کی آواز میں مولانا رومی کی پندرہ حکایات ریکارڈ کی تھیں اور 1955ء میں جب ان کی تنخواہ صرف پچاس روپے تھی انہیں تین سو گناہ زیادہ معاوضہ ادا کر کے (بقول منو بھائی) افراطِ زر کا شکار کر دیا تھا۔ مختار صدیقی اور منو بھائی کے مابین دوستانہ مراسم تھے ایک بار انہوں نے منو بھائی کو کالے بوٹوں کے ساتھ براؤن جرابیں پہنے دیکھا تو انہیں ولیم کا نام دے ڈالا اور بقیہ ساری زندگی وہ انہیں اسی نام سے بلاتے رہے دونوں کی دوستی کا یہ عالم تھا کہ منو بھائی نے بھی ولیم کے نام سے پکارے جانے پر کبھی برا نہیں مانا۔

​رات بھیگ چکی تھی اور ہمارے درمیان مکالمہ ابھی تک جاری تھا زبیر رانا اور منصور آفاق کو گہری نیند میں سوتے دیکھ کر میں نے ایک اور سوال کر دیا "منو بھائی! آپ نے پہلا شعر کب کہا اور پہلے پہل یہ شعر کسے سنایا؟” آسمان کی نیلی چھت کو گھورتے ہوئے بولے "کل ہم بذریعہ ٹرین لاہور جائیں گے اور باقی کہانی میں تمہیں ٹرین میں سناؤں گا” فی الحال اتنا بتا دوں کہ میرے ​خاندان کی ہر دوسری نسل میں کوئی نہ کوئی شاعر ضرور سامنے آتا ہے میرے ماموں شریف کنجاہی کی شاعری جدید پنجابی ادب کا سرمایۂ افتخار ہے میں بہت چھوٹی عمر میں اپنے ماموں کے شاعر ہونے پر فخر کیا کرتا تھا انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز انگریزی تسلط کے خلاف مزاحمت سے کیا تھا اور تقسیم ہند کے بعد وہ پہلے پاکستانی پنجابی شاعر تھے جن کا مجموعہ (جگراتے) ہندوستان سے شائع ہوا، اورینٹل کالج میں پنجابی شعبے کا قیام عمل میں آیا تو وہ 1973ء سے 1980ء تک اس شعبے سے بحیثیت پروفیسر وابستہ رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے مقتدرہ قومی زبان (ادارۂ فروغِ قومی زبان) کے جریدے "اردو اخبار” کے مدیر بھی رہے، نئی روشنیوں کی طرف لپکنے کا فن میں نے اپنے ماموں شریف کنجاہی اور استاد، ڈاکٹر غلام جیلانی برق سے سیکھا ہے” نئی روشنیوں کی ہمنوائی کرنے پر انہیں اسی طرح کالج سے نکالا گیا جیسے حسرت موہانی، منٹو اور احمد راہی سمیت بہت سے بڑے لوگوں کو نکالا گیا تھا وہ گریجویشن مکمل کیے بغیر راولپنڈی پہنچے اور روزنامہ "تعمیر” سے رپورٹر کی حیثیت سے وابستہ ہو گئے۔

یہاں انہیں ترقی پسند فکر رکھنے والے ادیب شفقت تنویر مرزا کی رفاقات میسر آئی اور پھر کچھ ہی عرصے بعد فتح محمد ملک بھی ان سے آ ملے۔ یہاں یہ تینوں دوست شعر کہتے، مضامین لکھتے اور ایک دوسرے کو سنا کر داد وصول کیا کرتے۔ اگلے روز جب لاہور جانے کے لیے ہم ریلوے اسٹیشن پہنچے تو پلیٹ فارم پر قدم رکھتے ہی ان پر وارفتگی سی طاری ہو گئی بولے ‘جواز جعفری! میرا بچپن ریلوے لائنوں کے ساتھ ساتھ بھاگتے اور پلیٹ فارموں پر کھیلتے گزرا ہے میری تحریروں میں جو ثقافتی رنگا رنگی اور انسانی کرداروں کی کثرت نظر آتی ہے وہ پاکستان ریلوے کے ذریعے کیے گئے طویل اسفار کا نتیجہ ہے، میرے والد بابو عظیم ریلوے میں سٹیشن ماسٹر تھے پنجاب کے مختلف شہروں اور قصبوں میں ان کے تبادلے ہوتے رہتے تھے، رات آپ نے پوچھا تھا کہ میں نے پہلا شعر کب کہا اور پہلا سامع کون تھا تو سنو! پہلا شعر میں نے کلورکوٹ کے ریلوے اسٹیشن پر بیٹھ کر کہا تھا اور اس کی پہلی مخاطب کوشلیا تھی” "کوشلیا؟” میں نے حیرانی سے پوچھا "ہاں کوشلیا میری دوست، اس کے ابا کلورکوٹ ریلوے کے اسٹیشن ماسٹر وشنوداس شرما تھے، میرے اشعار سن کر کوشلیا نے خوش ہو کر میرا گال چوم لیا، پہلے ہی شعر پر مجھے ایسی داد ملی کہ میں عمر بھر سرشار رہا، چوہڑ کانہ کے ریلوے پلیٹ فارم پر منو بھائی کے پہلو بہ پہلو ٹہلتے ہوئے میں نے سوال کیا "منو بھائی! پہلا شعر کہتے وقت آپ کی اور کوشلیا کی عمریں کیا تھیں اور آپ نے تخلص کیا استعمال کیا تھا؟” "میں اور کوشلیا چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے اور رہا تخلص …… اس وقت مجھے تخلص کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا میں صرف منیر احمد ہوا کرتا تھا، منو بھائی تو میں بہت بعد میں بنا۔”

​منو بھائی اور چلی کے شاعر پابلو نیرودا میں ایک سے زائد مماثلتیں پائی جاتی ہیں مثال کے طور پر دونوں کے والد سخت گیر تھے، دونوں کے والد ریلوے میں ملازم تھے، دونوں طویل اسفار میں اپنے بیٹوں کو ساتھ لے جاتے انہی سفری تجربوں نے منو بھائی اور پابلو نیرودا کو جنم دیا، منو بھائی ہوں یا پابلو نیرودا دونوں کو شعر کہنے پر والد کی طرف سے سزا کا سامنا کرنا پڑا، پابلو نے تو باپ کے غصے سے بچنے کے لیے اپنے نام کے ساتھ نیرودا لگا لیا (یہ لفظ اس نے کسی ادبی رسالے میں پڑھا تھا) آنے والے دنوں میں جب وہ نامور شاعر بن گیا تو ایک روز اسے اچانک معلوم ہوا کہ نیرودا تو یوگو سلاویہ کا قومی شاعر ہے ان دنوں پابلو امریکہ میں سفیر تھا وہ پھولوں کی چادر لیے نیرودا کی قبر پر گیا جو ایک عمر سے اس کی تخلیقی خدمات کا حصہ تھا۔ ادھر راولپنڈی آنے کے بعد منو بھائی نے شاعری پر بھرپور توجہ دینی شروع کر دی تھی ان کے ماموں شریف کنجاہی کی وجہ سے بڑے بڑے شاعروں سے منو بھائی کی شناسائی ہونے لگی تھی۔

اسی زمانے میں انہوں نے روزنامہ "امروز” لاہور کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی کو اپنی ایک نظم بھیجی، قاسمی صاحب کو نظم پسند آئی انہوں نے شاعر کا نام منیر احمد قریشی کاٹ کر اسے منو بھائی کا نیا تخلیقی نام عطا کیا اور نظم "امروز” کے ادبی صفحے پر شائع کر دی شاعر نے خوش دلی سے نئے نام کا تحفہ قبول کیا اور ہمیشہ کے لیے منیر احمد سے منو بھائی بن گیا یہ نام انہیں اس قدر راس آیا کہ ساری دنیا (ان کی بیگم اعجاز منیر کے علاوہ) انہیں منو بھائی کے نام سے پکارنے لگی۔ روزنامہ "تعمیر” میں رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ انہوں نے کالم نویسی بھی شروع کر دی تھی اس زمانے میں وہ منیر احمد قریشی کے نام سے "اوٹ پٹانگ” لکھا کرتے تھے۔ 1964ء میں پاکستان میں ٹیلی ویژن آیا تو ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک اس ایجاد سے ابھی تک نا بلد تھے نومبر 1964ء میں جس ٹیم نے ریڈیو پاکستان کے پچھواڑے میں ایک ٹین شیٹ لگا کر آزمائشی نشریات کا آغاز کیا اس کے کمانڈر اسلم اظہر تھے جو ازاں بعد پی ٹی وی ​کے پہلے منیجنگ ڈائریکٹر بنے وہی اشفاق احمد، ڈاکٹر انور سجاد، شعیب ہاشمی، شوکت صدیقی اور منو بھائی جیسے لکھنے والوں کو ڈرامہ نویسی کی طرف لے کر آئے اداکاروں میں بیگم خورشید شاہد، نیر کمال، کنول نصیر، طلعت حسین اور قاضی واجد کو بھی انہی نے دریافت کیا تھا۔

منو بھائی نے پی ٹی وی کے لیے "جزیرہ، عجائب گھر، پلیٹ فارم، ابابیل، آشیانہ اور دشت” جیسے سیریل لکھ کر ادبی دنیا میں اپنے نام کی دھاک بٹھا دی، ان کے طویل دورانیے کے کھیل "خوب صورت، گم شدہ، پل شیر خان اور جھوک سیال” لوگوں کی یادوں میں آج بھی تازہ ہیں ان ڈراموں کی مقبولیت کا سبب ورکنگ کلاس کے وہ خواب اور آرزوئیں تھیں جنہیں پہلی بار پردۂ سکرین پر پیش کیا گیا تھا۔

"سونا چاندی” منو بھائی کا وہ ڈرامہ تھا جس نے مقبولیت کے نئے معیار قائم کیے یہ دونوں کردار "سونا اور چاندی” آج بھی اپنے مصنف سمیت ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ شیبا حسن اور حامد رانا ان کرداروں میں ایسے بھائے کہ اس کے بعد وہ پی ٹی وی کے کسی کردار میں جچ نہ سکے شیبا حسن نے تو پھر بھی کچھ عرصہ سٹیج ڈراموں میں کام کیا اور اپنے لچر اور ذومعنی جملوں کی وجہ سے خوب شہرت پائی مگر حامد رانا سونا کا کردار ادا کرنے کے بعد پردۂ سکرین سے ہمیشہ کے لیے غائب ہو گیا۔

​ڈراما نگاری کے ساتھ ساتھ منو بھائی کالم نویسی کی دنیا میں بھی نمایاں ہونے لگے تھے احمد ندیم قاسمی امروز کے ایڈیٹر بن چکے تھے 4 مارچ 1948ء کو امروز کا پہلا شمارہ منظرِ عام پر آیا تو اس کے ایڈیٹر ان چیف فیض احمد فیض، ایڈیٹر مولانا چراغ حسن حسرت اور مالک میاں افتخار الدین تھے وہ ایچیسن کالج اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے 1937ء میں کانگریس اور 1946ء میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے امروز کا سب سے بڑا اختصاص یہ تھا کہ یہ اخبار نظم و نثر لکھنے والے قلمی معاونین کو باقاعدہ معاوضہ ادا کرتا تھا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ زمانۂ طالب علمی میں امروز کے ادبی صفحے کے انچارج مظفر بخاری ہوا کرتے تھے ایک بار انہوں نے ایک نئے شاعر کے طور پر میری دس غزلیں ایک ساتھ شائع کی تھیں انہی دنوں میں جب انہیں ملنے گیا تو انہوں نے کہا کہ "سب سے پہلے اکاؤنٹ میں جا کر اپنی غزلوں کا معاوضہ وصول کر لیں” زندگی میں پہلی بار اپنی تخلیقات کا چھ سات سو روپے معاوضہ پا کر میں بے حد خوش ہوا تھا۔

1958ء میں حکومتِ پاکستان نے پروگریسیو پیپرز لمیٹڈ کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا احمد ندیم قاسمی مدیر بنے تو امروز پاکستان ٹائمز اور لیل و نہار پر حکومتی کنٹرول قائم ہو چکا تھا انہوں نے منو بھائی کو امروز سے وابستہ ہونے کی دعوت دی تو وہ اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے امروز لاہور سے منسلک ہو گئے، انہوں نے رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ اپنا کالم "گریبان” بھی لکھنا شروع کیا جس نے چند ہی برسوں میں پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا انہوں نے ہمیشہ غریب آدمی کے مسائل، حقوقِ انسانی، معاشی و معاشرتی مساوات، عام آدمی کی مشکلات اور خواتین کے استحصال جیسے مسائل کو "گریبان” میں جگہ دی ایک دنیا ان کی کالم نگاری کا لوہا مانتی تھی سچ تو یہ ہے کہ وہ اپنی طرز کے واحد کالم نویس تھے سوشل میڈیا آنے سے پہلے کا زمانہ پرنٹ میڈیا کے عروج کا زمانہ تھا ان دنوں ہر اخبار میں کالموں اور تجزیوں کا جمعہ بازار لگتا تھا مگر ان جیسا کالم کوئی نہ لکھ سکا اور نہ ہی ان جیسی عزت اور عروج کسی کو نصیب ہوا۔ ایک بار میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا منفرد کالم لکھنے کا خیال ان کے ذہن میں کیسے آیا؟ بولے "اچھا کالم لکھنے کا ہنر میں نے ایک ایسی عورت سے سیکھا جس کا اکلوتا بیٹا گم ہو گیا تھا میں نے اخبار میں خبر دینے کے لیے بچے کا نام، عمر اور کپڑوں کا رنگ پوچھا تو عورت بولی ‘کپڑے تو میرے بیٹے کے سفید رنگ کے تھے مگر اب تو میلے ہو گئے ہوں گے، ماں کے اس جملے نے میرا دل چیر کر رکھ دیا میں نے اس عورت کے بیٹے کی گم شدگی پر ایسا کالم لکھا کہ میرے قارئین تڑپ کر رہ گئے، ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ ایسی بات کوئی ماں ہی کہہ سکتی ہے”۔

​”امروز” اپنے آغاز سے بائیں بازو کا اخبار سمجھا جاتا تھا اس زمانے کے بڑے بڑے ترقی پسند صحافی اس سے وابستہ تھے اسی زمانے میں اخبار کی انتظامیہ اور کارکنوں کے درمیان تنخواہیں بڑھانے کے معاملے پر پھڈا ہو گیا منو بھائی کی تربیت چوں کہ نظریاتی بنیادوں پر ہوئی تھی اس لیے اس لڑائی میں انہوں نے کھل کر قائدانہ کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں اخبار کی انتظامیہ نے سزا کے طور پر انہیں ملتان ٹرانسفر کر دیا چنانچہ وہ کافی عرصے تک امروز، ملتان سے وابستہ رہے اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل پا چکی تھی اور حنیف رامے جنرل ایوب خان کی کنونشن لیگ کو چھوڑ کر 1967ء میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے تھے یہ حنیف رامے ہی تھے جو اسلامی سوشلزم کی اصطلاح کو فروغ دینے والوں میں سے ایک تھے اور یہ اصول آگے چل کر پیپلز پارٹی کے منشور کے چار ​بنیادی اصولوں میں سے ایک اہم اصول قرار پایا۔ اسی زمانے میں رامے صاحب پیپلز پارٹی کی ترجمانی کے لیے روزنامہ "مساوات” کی اشاعت کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اس دوران ان کی نظر منو بھائی پر پڑی اور وہ انہیں "مساوات” میں لے آئے۔ ایک روایت کے مطابق "مساوات” کو جوائن کرنے کی دعوت انہیں ذوالفقار علی بھٹو نے دی تھی بھٹو خاندان سے ان کے قریبی نظریاتی تعلقات تھے ایک بار روزنامہ "جنگ” سے وابستگی کے دنوں میں میں نے ان سے بھٹو صاحب کی شخصیت کے بارے میں رائے مانگی تو بولے "بھٹو بہت بڑے لیڈر تھے مگر وہ دوہری شخصیت کے مالک تھے ان کی شخصیت پر ایک ہی وقت میں جاگیردار والد (سر شاہ نواز بھٹو) اور غریب والدہ (خورشید بیگم) کی شخصیت اور تربیت کا اثر تھا کبھی وہ والد کی طرح جاگیردار والا رویہ اپناتے اور کبھی اپنی والدہ کی طرح غریب نواز بن جاتے” 7 جولائی 1970ء کو منو بھائی کا پہلا کالم روزنامہ "مساوات” میں شائع ہوا، اس اخبار میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی نظریاتی سیاست اور عوامی مسائل کے حوالے سے یادگار کالم لکھے۔

لاہور سے روزنامہ "جنگ” کی اشاعت شروع ہوئی تو میر خلیل الرحمن نے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کر لیا یوں ان کا کالم "جنگ” کی وساطت سے گلی گلی اور گھر گھر اپنی خوشبو بکھیرنے لگا۔ جس زمانے میں میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی وہ ایک بار پھر روزنامہ مساوات سے وابستہ ہو چکے تھے مگر اس بار انہیں بھٹو صاحب نہیں بل کہ ان کی بیٹی (بے نظیر بھٹو) لائی تھیں تو انہوں نے ایک تقریب میں پوچھا "منو بھائی! آج کل آپ کہاں لکھ رہے ہیں؟” جواب ملا ‘روزنامہ جنگ میں’، میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنے اخبار (مساوات) میں لکھیں، اگلے ہی روز منو بھائی نے روزنامہ جنگ کو خیر باد کہا اور مساوات میں چلے آئے۔ یہ 1989ء کا زمانہ تھا یونیورسٹی میں میرا آخری سال تھا اور میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ روزنامہ مساوات میں بھی کام کر رہا تھا اس زمانے میں اخبار کے ایڈیٹر سرور سکھیرا تھے جو ماہنامہ "دھنک” کی ادارت کے ذریعے صحافتی حلقوں میں اچھی خاصی ہلچل مچا چکے تھے اس رسالے کے سیاسی مندرجات اپنی جگہ مگر اصل طوفان اس کے فلمی حصے (روپ نگر بہروپ نگر) نے اٹھایا تھا دھنک کے شوبز رپورٹر اور فلم نگر کے درمیان ایسے ایسے معرکے ہوئے کہ "دھنک” کا داخلہ فلم اسٹوڈیوز میں بند کرنا پڑا، نوجوان اس پرچے کو اپنے سرہانوں کے نیچے رکھا کرتے اس رسالے کی بے شمار نقلیں تیار کی گئیں مگر ان میں سے ایک بھی "دھنک” نہ بن سکا۔ سرور سکھیرا آج کل بھی کبھی کبھار ادبی حلقوں میں نظر آ جاتے ہیں ابھی چند روز قبل میں اور الحمرا کے مدیر شاہد علی خاں جم خانہ کلب لاہور میں بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے کہ سفید بالوں والا درمیانے قد کا ایک شخص ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا اونچا سننے کے باعث اس کے ساتھ کی جانے والی گفتگو خاصی بد مزہ اور تکلیف دہ بن گئی تھی میں اسے بالکل نہ پہچان سکا وہ اٹھ کر جا چکا تو معلوم ہوا کہ وہ سرور سکھیرا صاحب تھے انہیں اس حالت میں دیکھ کر دکھ ہوا اور میں دیر تک سوچتا رہا کہ وقت انسان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ "مساوات” سے وابستگی کے دنوں میں میں نے پہلی بار منو بھائی کو ظہیر کاشمیری کے کمرے میں دیکھا (ان دنوں میں بھی اسی کمرے میں بیٹھتا تھا) درمیانہ قد، سر کے سفید ہوتے ہوئے بال، چہرے پر سب سے نمایاں چیز ان کی آنکھیں تھیں جن پر نظر کی عینک لگا رکھی تھی، پیشانی سے لو دیتی ذہانت، ماتھے پر گہری لکیریں اور گفتگو میں ہکلاہٹ تھی اس روز انہوں نے ایک سادہ سے شلوار قمیص پر عام سا کوٹ اور گلے میں سرخ رنگ کا مفلر پہن رکھا تھا، چہرے پر دائمی سنجیدگی مگر ظہیر کاشمیری کے فقروں پر بار بار قہقہے لگا رہے تھے یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی اس دوران وہ صرف ایک بار مجھ سے مخاطب ہوئے "آج کل تم اچھے انٹرویوز کر رہے ہو، میں نے شیخ رفیق احمد، فضل حسین راہی، ایس ایم مسعود، اسلم گور داس پوری، سلمان تاثیر، ضیا اللہ بنگش اور پرویز صالح کے انٹرویوز دیکھے ہیں، بہت عمدہ ہیں” منو بھائی کے یہ الفاظ کئی روز تک میرے کانوں میں گونجتے رہے۔

​اس کے بعد میں نے کئی بار انہیں "مساوات” کے آفس میں دیکھا وہ سہ پہر کے قریب اخبار کے دفتر آتے اور کسی بھی خالی کمرے میں بیٹھ کر "گریبان” لکھنے لگتے یہ ان کے "گریبان” کے عروج کے دن تھے وہ عام آدمی کی محبت میں لبریز دل رکھنے والے حساس انسان تھے، کالم لکھتے، وقت لفظوں میں اپنا دردِ دل شامل کر دیتے تھے، جنرل ضیا الحق کے دور میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ جمہوریت میں مکمل یقین رکھنے والے قلم کار تھے ایک طرف وہ نظریاتی سوشلسٹ اور دوسری طرف غالب کی طرح سیدھے سادھے مسلمان تھے جو شراب تو پیتا ہے مگر سور نہیں کھاتا۔ ان کے اردگرد صحافی دونوں ہاتھوں سے دنیا سمیٹ رہے تھے، کئی اطراف سے تنخواہیں وصول کرنے کے علاوہ محل نما گھروں میں رہ رہے تھے مگر منو بھائی نے شہرت و ناموری کے باوجود عام ​آدمی کی طرح زندگی بسر کی، بڑے بڑے حکمرانوں سے تعلقات کے باوجود کوئی ذاتی فائدہ نہ اٹھایا وہ اپنے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہ چاہتے تھے وہ پانچ مرلے کے گھر میں زندگی بسر کرتے رہے ان کی تنخواہ پچاس روپے سے تین لاکھ روپے تک پہنچ گئی مگر ان کے دوست اور طرزِ زندگی وہی رہا۔ انہوں نے کبھی اپنے قلم کی قیمت وصول نہ کی، اپنے قلم کو ہمیشہ بے نواؤں کی حمایت میں استعمال کیا اور محکوم طبقوں کی آواز بنے رہے وہ اتنے بڑے صحافی ہونے کے باوجود ایک عرصہ کرشن نگر میں کرائے کے مکان میں مقیم رہے بالآخر ریوارز گارڈن میں پانچ مرلے کا گھر بنانے میں کامیاب ہو گئے، اس گھر کا نمبر (364) علاقے کے ہر شخص کو زبانی یاد تھا اس گھر کو یاد رکھنے کی شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اتنے بڑے صحافی کا گھر ہونے کے باوجود اس کا سامنے والا حصہ ہمیشہ پلستر کو ترستا رہا بعض ستم ظریفوں کے نزدیک منو بھائی اگر گھر بنا سکتے تھے تو اس کی سامنے والی دیوار کو پلستر بھی کروا سکتے تھے وہ اسے منو بھائی کی "درویشی” کی نمائش قرار دیتے تھے ان کا کہنا تھا کہ منو بھائی نے گھر کے سامنے والا حصہ پلستر نہ کروا کر اپنے اخبار کے ایڈیٹر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رکھا ہے کیوں کہ ‘جنگ’ کے ایڈیٹر میر خلیل الرحمن نے بھی جنگ کے سامنے ‘آواز’ اور جیو نیوز کے لیے جو جہازی سائز کی عمارت بنوائی تھی کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس کے فرنٹ والے حصے کو پلستر نہیں کروایا تھا تا کہ اپنی "غربت” کے بھرم کو قائم رکھا جا سکے۔ مجھے منو بھائی کے گھر کئی بار جانے کا اتفاق ہوا اس گھر میں ضرورت کی ہر شے موجود تھی بس ذرا سامنے سے ننگا تھا- ان کی بیگم اعجاز منیر ایک مہربان اور میزبان خاتون تھیں، میں 2004ء میں شائع ہونے والے اپنے جنگ مخالف نظموں کے مجموعے ‘موت کا ہاتھ کلائی پر ہے’ کا فلیپ لکھوانے منو بھائی کے گھر گیا تو اعجاز باجی نے میری نظمیں پہلے سے پڑھ رکھی تھیں انہوں نے منو بھائی، جاوید شاہین اور میرے لیے چائے بنائی چائے کا کپ میرے سامنے رکھتے ہوئے بولیں "میں نے آپ کی جنگ مخالف نظمیں پڑھی ہیں آپ اردو شاعری کے محمود درویش ہیں”، اعجاز باجی کے یہ جملے مجھے آج تک یاد ہیں۔


​منو بھائی سے روزنامہ "مساوات” میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا مگر اب وہ دفتر آتے تو ان کے چہرے سے بے دلی اور پریشانی نمایاں نظر آتی تھی انہی دنوں ان کی ملاقات ایک بار پھر وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے ہوئی تو محترمہ نے اپنا پرانا سوال دہرایا "منو بھائی! آج کل آپ کہاں لکھ رہے ہیں؟” منو بھائی خاموش رہے اگلے روز "مساوات” کے دفتر آئے، اپنا استعفیٰ ایڈیٹر کے سپرد کیا اور روزنامہ "جنگ” سے وابستہ ہو گئے ان کے جانے کے چند ہفتے بعد میں بھی ان کے پیچھے پیچھے روزنامہ "جنگ” جا پہنچا یہاں بھی ان سے یادگار رفاقت رہی۔ 1995ء میں جب میں نے ریواز گارڈن کے عوامی فلیٹس میں رہائش اختیار کی تو میں اقبال ساجد اور احمد راہی کے ساتھ ساتھ منو بھائی کا بھی ہمسایہ (چالیس گھروں والی حدیث کی رو سے) بن گیا منو بھائی اور جاوید شاہین قریبی دوست تھے میری جاوید شاہین سے قربت بڑھی تو نتیجتاً منو بھائی سے ملاقاتوں میں بھی تسلسل پیدا ہوتا چلا گیا، جاوید شاہین اور منو بھائی ممنوعہ چشموں کے پانی کے رسیا تھے اس زمانے میں میری ابھی شادی نہ ہوئی تھی اور میں اپنے فلیٹ میں تنہا رہتا تھا دونوں دوست کبھی کبھی ممنوعہ چشموں کے پانی کا مشکیزہ لیتے اور میرے فلیٹ پر چلے آتے، ایک شام جاوید شاہین ساغر و مینا سامنے رکھے بیٹھے تھے کہ منو بھائی آ گئے آتے ہی انہوں نے جاوید شاہین کا جام اٹھایا اور غٹا غٹ پی گئے، میں نے ہنس کر کہا "یہ تو جوٹھا ہے آپ کو نیا جام بنا دوں؟” منو بھائی بولے "گھبراؤ نہیں یہ واحد پانی ہے جو جوٹھا نہیں ہوتا” منو بھائی، جاوید شاہین اور میں نے کئی مشاعرے اکٹھے پڑھے غالباً یہ 2002ء کی بات ہے وہاڑی کی ضلعی انتظامیہ نے میرے ایک کلاس فیلو کے ذریعے ایک مشاعرے کے لیے مجھ سے رابطہ کیا میں نے اس کی صدارت کے لیے منو بھائی کو آمادہ کر لیا اس مشاعرے میں اوکاڑہ سے نامور شاعر ظفر اقبال، لاہور سے ڈاکٹر اختر شمار، ڈاکٹر صغرا صدف، ڈاکٹر شائستہ نزہت، صوفیہ بیدار اور کئی دوسرے شاعر مدعو تھے میں اور جاوید شاہین منو بھائی کے ہمراہ ان کی گاڑی میں روانہ ہوئے، معلوم نہیں کیوں میرے دونوں دوستوں نے مجھے فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا اور خود پچھلی سیٹ پر براجمان ہو گئے گاڑی ابھی لاہور کے مضافات سے نکل نہ پائی تھی کہ گاڑی میں ہر طرف ممنوعہ چشموں کے پانی کی مخصوص خوشبو پھیل گئی میں نے مڑ کر حیرت سے دیکھا دونوں دوست دنیا و مافیہا سے بے خبر جام سے جام ٹکرا رہے تھے۔ رات کو مشاعرہ ختم ہوا تو اکثر شاعر واپس چلے گئے مگر ہم تینوں وہی رک گئے صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ منو بھائی مشاعرے کے لیے طے کیے گئے معاوضے سے خوش نہیں ہیں اور مزید پیسوں کا تقاضا کر رہے ہیں، مجھے منو بھائی سے براہِ راست بات کرنے کا حوصلہ نہ ہوا میں ​نے جاوید شاہین سے پوچھا کہ جب ان کے حسبِ خواہش اعزازیہ ان کو پیش کیا جا چکا ہے تو مزید پیسوں کے تقاضے کا کیا مطلب ہے؟ جاوید شاہین بولے "ان کا کہنا ہے کہ بورے والا سے وہاڑی تک سڑک ٹوٹی ہونے کے باعث ان کی گاڑی کے حصے کو نقصان پہنچا ہے لہذا مرمت کے نام پر انہیں مزید پیسے ادا کیے جائیں”، میں نے اس معاملے کا اپنے کلاس فیلو سے ذکر کیا تو وہ بہت پریشان ہوا کہ ضلعی انتظامیہ تو اپنا فرض ادا کر چکی تھی ویسے بھی ہم نہیں چاہتے تھے کہ ضلعی انتظامیہ کی نظر میں منو بھائی کا امیج خراب ہو جب منو بھائی اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے تو میں نے اپنی فیس سے مطلوبہ رقم ان کے حوالے کر دی اور ان کے ہمراہ لاہور واپس جانے سے انکار کر دیا، ایک عرصے تک میں نے دونوں دوستوں کا سامنا نہ کیا بالآخر دونوں نے مجھ سے اپنے رویے پر معذرت کی اور آہستہ آہستہ ہمارے تعلقات معمول پر آ گئے۔

​منو بھائی نے زندگی میں جتنی نظمیں لکھیں ان میں سے بیشتر پنجابی زبان میں تھیں وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں نے فیض صاحب کے کہنے پر شاعری کے لیے پنجابی زبان کا انتخاب کیا ان کا کہنا تھا کہ شاعری اس زبان میں کرنی چاہیے جس زبان میں انسان خواب دیکھتا ہے، سوچتا ہے؛ لوری سنتا ہے اور بین کرتا ہے، میں نے فیض صاحب کی یہ نصیحت پلے باندھ لی، منو بھائی کے سیاسی کالموں کی ہر طرف دھوم تھی اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ادبی دوستوں کی موت پر جو تعزیتی کالم (جنگل اُداس ہے) لکھے انہیں اردو دنیا آج تک نہیں بھول پائی، برطانیہ کے نوبیل انعام یافتہ شاعر شی مس ہینی نے آئرلینڈ کے حریت پسندوں کے ہاتھوں مرنے والے اپنے قریبی دوستوں کے قتل کی مذمت کرنے کی بجائے ان کے نوحے لکھ کر بے پناہ شہرت حاصل کی تھی مگر منو بھائی کے تعزیتی کالم محض نوحے نہ تھے، ان میں صرف افسوس کا اظہار نہ تھا بل کہ اس تاثر کو ابھارا گیا ہے کہ مرنے والے کتنے قیمتی لوگ تھے اور ان کی موت سے ہماری تہذیبی زندگی کو کتنا بڑا نقصان پہنچا ہے؟ ان جیسے تعزیتی کالم پھر کوئی نہ لکھ سکا وہ اس فن کے پہلے اور آخری آدمی تھے۔

منو بھائی نے کم وبیش 84 برس عمر پائی مگر وہ اپنی اصل عمر سے ہمیشہ کم عمر دکھائی دیتے تھے وہ ایک ایسے عمر چور مرد تھے جن کی اصل عمر کے بارے میں عورت جیسی گھاگ مخلوق بھی دھوکہ کھا جاتی تھی۔ ماں کے چہرے پر پڑنے والے تھپڑ سے شروع ہونے والی عورت کی حمایت انہوں نے ساری زندگی جاری رکھی انہیں اپنی ماں سے عشق تھا وہ بچپن میں اپنی ماں کے حق میں تو آواز نہ اٹھا سکے لیکن مرتے دم تک عورت کے حق میں آواز بلند کرتے رہے انہوں نے عورت کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے خود کو وقف کیے رکھا۔ منو بھائی کے چیف ایڈیٹر مظہر علی خان کی بیگم طاہرہ مظہر علی خان سے بڑی دوستی تھی وہ معروف سیاسی کارکن، خواتین کے حقوق کی علمبردار اور بے نظیر بھٹو کی استاد تھیں وہ اپنے شوہر کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیوں کا حصہ رہیں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی مزاحمت کرنے پر انہیں جیل بھی جانا پڑا تھا منو بھائی نے عورتوں کے حقوق اور ان کی امتیازی حیثیت کے خاتمے کے لیے طاہرہ مظہر علی کے شانہ بشانہ اتنا کام کیا کہ انہوں نے عورتوں کے لیے منو بھائی کی خدمات کے پیشِ نظر انہیں "اعزازی عورت” کا خطاب دے رکھا تھا جسے منو بھائی نے شکریے کے ساتھ قبول بھی کیا تھا،

ایک بار منو بھائی نے طاہرہ مظہر علی سے کہا کہ ‘اعزازی عورت’ کا خطاب تو قبول ہے مگر انہیں بچے پیدا کرنے کے فریضے سے استثنا دیا جائے اس پر طاہرہ مظہر علی نے ہنس کر کہا "آپ کو استثنا دیا جاتا ہے کیوں کہ اعزازی ڈگری رکھنے والے ڈاکٹر سے کوئی بھی علاج نہیں کراتا”، منو بھائی نے ڈراما اور کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ پنجابی شعر کہے اور محمود درویش اور قبانی کی شاعری کے تراجم بھی کیے ان کے علاوہ دو مزید کتابیں "محبت کی ایک سو ایک نظمیں” اور ‘انسانی منظرنامہ’ بھی ان کے تراجم پر مشتمل ہیں، "جنگل اُداس ہے”، "فلسطیں فلسطیں” اور ‘اجے قیامت نہیں آئی’ انہیں قلم کاروں کی اگلی صف میں جگہ دینے کے لیے کافی ہیں۔ منو بھائی کی انہی علمی و ادبی خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے 2007ء میں انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی اور 2018ء میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ حکومتی اعزازات کے علاوہ انہیں ادبی اور عوامی حلقوں سے بھی بے پناہ محبت ملی ہمارے ایک شاعر دوست عامر بن علی نے ان کے نام پر "منو بھائی فرینڈز کلب” بنا رکھا تھا ایک بار عامر نے ان کے کالموں کی تحقیق و تدوین کے حوالے سے دلچسپی کا اظہار کیا تو منو بھائی ہنس کر بولے "ایک بار نوجوان صحافی قیصر زیدی نے یہ کام شروع کیا تھا وہ جواں مرگ ثابت ہوا ازاں بعد ایک اور طالبِ علم نے اس کام کا بیڑا اٹھایا تو وہ بھی جوانی میں چل بسا اب میں کسی اور نوجوان کی موت کا سبب نہیں بننا چاہتا، اس کے باوجود عامر بن علی نے نہ صرف ان ​کے کالموں کی تدوین کی بل کہ انہیں ‘باغ سے بازار تک’ کے عنوان سے شائع بھی کیا۔ منو بھائی کے کالموں کی عوامی مقبولیت ہر دور میں قائم رہی لیکن عمر کے آخری حصے میں بائیں بازو کے سرگرم دانشور لال خاں سے ان کی گاڑی چھننے لگی تھی لہذا ان کے کالموں میں عالمی سیاست کے داؤ پیچ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لوٹ مار کے قصوں کی بڑھتی ہوئی مقدار نے ان کے کالموں کو عام آدمی کے لیے غیر دلکش بنا کر رکھ دیا تھا۔

​منو بھائی ایفاءِ عہد کے حوالے سے خاصی اچھی شہرت رکھتے تھے 2014ء میں میں نے ایم اے او کالج لاہور میں ایک بہت بڑے مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں لاہور کے تمام بڑے بڑے شاعر شریک ہوئے، مہمانِ شعراء پرنسپل آفس میں جمع ہو رہے تھے کہ اتنے میں عطا الحق قاسمی اندر داخل ہوئے مجھے دیکھتے ہی بولے "جواز جعفری! آج کے مشاعرے میں تمہارے منو بھائی نہیں آئیں گے”، میں نے وجہ پوچھی تو قاسمی صاحب بولے "آج میں نے انہیں گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں واکر کے سہارے چلتے دیکھا ہے”، میں نے عرض کیا "قاسمی صاحب! اگر وہ بیماری کی حالت میں گورنر ہاؤس گئے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ اس فقیر کے ہاں بھی ضرور آئیں گے”، اس روز قاسمی صاحب بڑے عرصے کے بعد ایم اے او کالج آئے تھے لہذا خوب چہک رہے تھے کہنے لگے "میں شرط لگانے کو تیار ہوں”، میں نے عرض کیا "آپ میرے بڑے بھائی ہیں اس لیے میں نہیں چاہتا کہ آپ عمر کے اس حصے میں شرط ہار جائیں”، میری بات ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ منو بھائی واکر کے سہارے آتے ہوئے دکھائی دیے، انہیں دیکھ کر قاسمی صاحب میرے کان کے قریب منہ کر کے بولے "مجھے آج پتہ چلا منو بھائی تم سے کتنی محبت کرتے ہیں”، یہ مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا اور منو بھائی اپنی زخمی ٹانگ سمیت آخری لمحے تک مشاعرہ گاہ میں موجود رہے۔ ان کی کمٹمنٹ سے میرے پرنسپل اتنے خوش ہوئے کہ اگلے روز انہوں نے مشاعرے کے اعزازیے کے برابر رقم کا ایک اور لفافہ تیار کروایا اور بولے "آپ آج منو بھائی کی عیادت کرنے ان کے گھر جائیں اور یہ مزید اعزازیہ ان کی خدمت میں پیش کریں”۔
​غالباً 1974ء میں منو بھائی حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری منتخب ہوئے اپنی صحافتی مصروفیات کے باعث وہ بہت کم جلسوں میں شریک ہوتے لہذا ان کے جوائنٹ سیکرٹری حسن جعفری زیدی کو عملاً اکیلے ہی حلقہ چلانا پڑا۔

منو بھائی ایک کتاب دوست انسان تھے انہوں نے زندگی میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب جو کتابیں جمع کر رکھی تھیں وہ آخری دنوں میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیں۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ منو بھائی ایک بہت بڑے سوشل ورکر بھی تھے وہ ہیموفیلیا، تھیلیسیمیا اور خون کی بیماریوں کے خلاف سرگرم تنظیم "سندس فاؤنڈیشن” کے اعزازی چیئرمین تھے یہ تنظیم لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، سیالکوٹ، میرپور اور اسلام آباد میں واقع جدید لیبارٹریز سے لیس اپنے ہسپتالوں کے ذریعے سالانہ اسی ہزار کے قریب مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کر رہی ہے چوں کہ یہ مرض کزن میرج سے پھیلتا ہے اس لیے سندس فاؤنڈیشن واحد ادارہ ہے جو شادی کے خواہش مند افراد کو تھیلیسیمیا کیریئر ٹیسٹ کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے منو بھائی بیماری کے باوجود فنڈ ریزنگ کے لیے مختلف شہروں کے دورے کرتے، خون کی بیماریوں سے متعلق آگہی فراہم کرنے کے لیے سیمینار کا اہتمام کرتے اور اپنے بلڈ ڈونرز کے اعزاز میں تقریبات بھی منعقد کیا کرتے تھے غالباً 2006ء میں انہوں نے ورلڈ ہیموفیلیا ڈے کے موقع پر مجھے اور جاوید شاہین کو سندس فاؤنڈیشن آنے کی دعوت دی ہم دونوں فاؤنڈیشن کے آفس/ہسپتال پہنچے تو یہاں سیکڑوں بچے جمع تھے ان میں پانچ سے دس سال کے بچوں کی اکثریت تھی جو بیماریوں کو بھلا کر کھیل کود میں مصروف تھے آج یہ بچے علاج کے لیے نہیں آئے تھے بل کہ وہ اس سالانہ تقریب کے مہمان تھے آج انہیں کھانے، تحائف، پتلی تماشا اور میجک شو کے لیے مدعو کیا گیا تھا، میں نے دور سے دیکھا منو بھائی ان بچوں کے درمیان تحائف تقسیم کر رہے تھے اور بچوں کی آنکھوں اور دلوں میں منو بھائی کی محبت کے دریا بہہ رہے تھے منو بھائی کا یہ وہ سچا روپ تھا جو میں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا انسانیت کی خدمت کا یہ ایسا موقع تھا جسے انہوں نے ضائع نہ کیا تھا، ایک وقت آئے گا جب ان کی شاعری کے الفاظ مدہم پڑنے لگیں گے اور ان کے کالم بھی بھلا دیے جائیں گے مگر منو بھائی خون کی بیماریوں میں مبتلا ان بچوں کی امیدوں اور دعاؤں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button