latest newsPolitics

خیبر پختونخوا میں عملاً ایمرجنسی ہے: اسد قیصر

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے مطابق خیبر پختونخوا میں عملاً ایمرجنسی کی صورتحال ہے اور صوبائی حکومت کی رٹ اور حقوق کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

اسد قیصر نے کہا کہ وزیراعلیٰ صوبے میں امن و امان کے ذمہ دار ہیں، تاہم ان کے مطابق وزیراعلیٰ کے عمل دخل کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے اور اپنے مسائل حکومت کے سامنے رکھ چکی ہے۔ ان کے مطابق گورنر راج، ایمرجنسی نافذ کرنے یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نااہل کرنے کی صورت میں پارٹی ایوانوں سے نکلنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

اسد قیصر نے خواجہ آصف کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں صورتحال سنجیدہ ہے۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں وزرا اور ارکان اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔

سابق اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں ڈی پی اوز کی تعیناتی میں وزیراعلیٰ سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اضلاع میں پولیس کے لیے 30 ارب روپے درکار تھے، جن میں سے 10 ارب وفاق نے فراہم کرنے تھے، تاہم وفاقی بجٹ میں اس کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی۔

اسد قیصر کے مطابق صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا پولیس کے بجٹ میں 41 فیصد اضافہ کیا، پولیس کانسٹیبلز کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے برابر جبکہ افسران کی تنخواہیں بلوچستان پولیس کے برابر کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے وقت کیے گئے مالی وعدے پورے نہیں کیے گئے اور امن و امان و دہشت گردی کے خاتمے کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button