تحریک انصاف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں: رانا ثناء اللہ

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کردی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عسکری قیادت، سیاسی قیادت اور وفاقی حکومت کا فیصلہ ہے کہ پاکستان پر مسلط کی گئی دہشتگردی کی جنگ کو حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کو بھی دہشتگردی کے خلاف پالیسی اور کارروائی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ رابطے پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ اگر اپوزیشن کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی جائے تو حکومت دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے مطالبات کا ڈرافٹ حکومت کے پاس موجود ہے، حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہوگی تو پی ٹی آئی بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی کہا کہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو مکالمے میں شامل کیے بغیر کوئی بات حتمی نہیں ہوسکتی۔
ادھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کی میز سے اٹھنے کے باوجود دوبارہ بیٹھنے کا راستہ کھلا ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ بھی جاری رہے گا اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات بھی ہونے چاہئیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بھی کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔ تاہم ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
دوسری جانب مذاکرات میں دہشتگردی کے معاملے کو سیاسی معاملات سے جوڑنے پر اپوزیشن کی جانب سے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ سیاسی اور سکیورٹی معاملات کو ایک دوسرے سے نتھی کرنے کے بجائے متفقہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔
حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کے باوجود مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ تاہم دوبارہ باضابطہ مذاکرات کے آغاز کے لیے فریقین کے درمیان دہشتگردی، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق معاملات سمیت مختلف امور پر اتفاق رائے درکار ہوگا۔



