اسپیس ایکس کا اسٹارشپ 14ویں آزمائشی پرواز میں مدار تک پہنچ گیا، 26 اسٹارلنک سیٹلائٹس بھی لانچ

اسپیس ایکس کا اسٹارشپ اپنی 14ویں آزمائشی پرواز کے دوران زمین کے مدار تک پہنچ گیا، جہاں اس نے 26 اسٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس خلا میں چھوڑ دیے۔
پرواز کے ابتدائی مرحلے میں اسٹارشپ کا ایک ویکیوم انجن بند ہوگیا، تاہم دیگر انجن کام کرتے رہے۔ مشن کنٹرول نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد خلائی جہاز کو مدار میں بھیجنے کا فیصلہ کیا اور ایک انجن کو مختصر وقت کے لیے دوبارہ چلایا گیا۔
اس مشن میں اسٹارشپ کے انجن، ہیٹ شیلڈ، محفوظ واپسی اور مستقبل میں دوبارہ استعمال کی صلاحیت کو جانچا جارہا ہے۔ اسپیس ایکس کے مطابق اسٹارشپ تقریباً 10 گھنٹے میں زمین کے چھ چکر مکمل کرے گا۔
مشن کے دوران تین اسٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس میں خصوصی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں، جو اسٹارشپ کی ہیٹ شیلڈ کی تصاویر زمین پر موجود ماہرین کو بھیجیں گے۔
اسپیس ایکس کے مطابق وی 3 سیٹلائٹس میں وی 2 کے مقابلے میں زمین پر انٹرنیٹ ڈیٹا بھیجنے کی صلاحیت تقریباً 10 گنا، جبکہ صارفین کی جانب سے ڈیٹا وصول کرنے کی صلاحیت 22 گنا زیادہ ہے۔
ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے بھی اسٹارشپ کی پرواز پر اسپیس ایکس کو مبارک باد دی اور مشن کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں مکمل کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
اس مشن کا ایک اہم مقصد اسٹارشپ کی ہیٹ شیلڈ کی کارکردگی جانچنا ہے، کیونکہ مستقبل میں خلائی جہاز کو بار بار استعمال کرنے کے لیے زمین کی فضا میں واپسی کے دوران شدید حرارت برداشت کرنے کے بعد ہیٹ شیلڈ کا دوبارہ قابلِ استعمال رہنا ضروری ہوگا۔



