بھارتی سپریم کورٹ میں ٹریفک چالان بجلی کے بل میں شامل کرنے کی تجویز زیرِ غور

بھارتی سپریم کورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانوں اور ای چالان کی رقم بجلی کے بلوں سمیت دیگر سرکاری واجبات کے ذریعے وصول کرنے کی تجویز زیرِ غور آئی ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جے بی پاردی والا نے ریمارکس دیے کہ اگر شہری ٹریفک چالان ادا نہیں کرتے تو جرمانوں کی وصولی کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے، جس میں بجلی کے بل کے ذریعے وصولی کی تجویز بھی شامل ہوسکتی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ بھارتی ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں تقریباً 45 ہزار کروڑ بھارتی روپے کے ای چالان واجب الادا ہیں، جن میں سے تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔
سماعت کے دوران زیرِ التوا چالان والی گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تجدید روکنے، ملکیت کی منتقلی اور ڈپلیکیٹ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے اجرا پر پابندی سمیت مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
اس کے علاوہ فٹنس سرٹیفکیٹ اور پی یو سی سرٹیفکیٹ کے اجرا، ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید اور گاڑیوں کی اچانک چیکنگ سے متعلق اقدامات بھی زیرِ بحث آئے۔
عدالت نے واضح کیا کہ بجلی کے بل میں ٹریفک چالان شامل کرنے کی بات صرف ایک تجویز کے طور پر کی گئی تھی، اس حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔



