Businesslatest news

پاکستان کی معاشی بحالی اور چین سے تعاون: سی پیک سے حقیقی فائدہ کیسے اٹھایا جائے؟

اسلام آباد: پاکستان طویل عرصے سے معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ متعدد اقدامات، پالیسیوں اور دعووں کے باوجود معاشی نمو کی رفتار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی، قرضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ سماجی اور ترقیاتی اشاریے بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ملک معاشی بحالی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، دوست ممالک اور نئے مالیاتی ذرائع کی جانب دیکھ رہا ہے۔ کرپٹو کرنسی کو بھی بعض حلقوں میں معاشی بحالی کے ممکنہ ذریعے کے طور پر زیرِ بحث لایا جارہا ہے، تاہم یہ اب بھی ایک نسبتاً غیر مستحکم مالیاتی ذریعہ ہے اور اسے ملکی معیشت کی پائیدار بحالی کا متبادل قرار دینا مناسب نہیں۔

پاکستان کے لیے اس مشکل صورتحال میں چین ایک اہم معاشی شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور چین نے مختلف مواقع پر پاکستان کے ساتھ تعاون اور حمایت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے اس طویل معاشی شراکت داری کی واضح مثال ہیں۔

1989 میں پاکستان اور چین کے درمیان باہمی سرمایہ کاری کے تحفظ اور فروغ کا معاہدہ ہوا، جس کے بعد متعدد بڑی چینی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔ ہواوے، چائنا موبائل اور ہائیر سمیت کئی چینی کمپنیاں پاکستان کی مارکیٹ میں آئیں اور اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے نہ صرف مالی وسائل آئے بلکہ ہزاروں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے۔

بعد ازاں بیجنگ ڈیکلریشن 2003، پاک چین آزاد تجارتی معاہدہ 2006 اور توانائی کے شعبے میں فریم ورک معاہدہ دونوں ملکوں کے اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوئے۔ تاہم پاک چین اقتصادی تعاون میں سب سے نمایاں تبدیلی چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک کے آغاز سے آئی۔

سی پیک کو محض سڑکوں، توانائی کے منصوبوں اور انفراسٹرکچر تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں صنعتی، زرعی، تکنیکی اور سائنسی تعاون کے ایسے امکانات موجود ہیں جو پاکستان کی معیشت کو زیادہ پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ سی پیک کے پہلے مرحلے کے تجربات نے اس کی استعداد کو اجاگر کیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، زراعت، ٹیکنالوجی اور سائنس کے شعبوں پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔

یہی وہ شعبے ہیں جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کی معیشت میں بنیادی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صنعت کے فروغ سے برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار بہتر ہوسکتی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی اور تحقیق میں سرمایہ کاری معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو خصوصی اقتصادی زونز کے قیام اور فعالیت کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ ان زونز کا مقصد سرمایہ کاروں کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں انہیں زمین، بجلی، پانی، گیس، انفراسٹرکچر، کسٹمز اور دیگر بنیادی سہولیات ایک مربوط نظام کے تحت دستیاب ہوں۔

صنعتی ترقی کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، نئی صنعتیں قائم ہوں گی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ عمل نوجوانوں میں بے روزگاری کم کرنے، غربت پر قابو پانے اور قومی آمدنی میں اضافے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

تاہم یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا پاکستان موجودہ طرزِ حکمرانی اور انتظامی نظام کے اندر رہتے ہوئے سی پیک اور دیگر معاشی مواقع کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ کسی بھی بڑے معاشی منصوبے کی کامیابی صرف سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ مؤثر انتظام، تیز فیصلوں اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔

2019 میں سی پیک سے متعلق منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے لیے سی پیک اتھارٹی قائم کی گئی تھی۔ اس کا مقصد موجودہ انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنا اور منصوبوں کی نگرانی و سہولت کاری کے عمل کو بہتر بنانا تھا۔

تاہم اگر کسی ادارے کو فیصلہ سازی اور عملدرآمد کے لیے مطلوبہ اختیارات حاصل نہ ہوں تو وہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو محض نئے ادارے بنانے کے بجائے اپنے انتظامی اور فیصلہ سازی کے نظام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

اس حوالے سے چین کے شہر شینزن کی مثال خاص اہمیت رکھتی ہے۔ شینزن نے محدود معاشی وسائل سے آغاز کرکے چند دہائیوں میں خود کو ایک بڑے صنعتی، تجارتی اور ٹیکنالوجی مرکز میں تبدیل کیا۔ اس تبدیلی میں بنیادی کردار صرف سرمایہ کاری کا نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات، فیصلہ سازی میں خودمختاری، جدید انفراسٹرکچر اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں نے ادا کیا۔

شینزن میں حکومت نے سرمایہ کاروں کے لیے منظوری کے مراحل آسان کیے اور مختلف سرکاری خدمات کو ایک ہی جگہ پر دستیاب بنانے کے لیے ون روف ماڈل کو فروغ دیا۔ سرمایہ کاروں کے لیے بجلی، پانی، ٹیکس، درآمد و برآمد اور دیگر انتظامی امور میں سہولت پیدا کی گئی۔

مقامی حکومتوں نے سڑکوں، پانی، بجلی، گیس، نکاسیِ آب اور مواصلاتی نظام سمیت بنیادی ڈھانچے کی فراہمی میں فعال کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں کو اکاؤنٹنگ، قانونی معاملات، کاروباری منصوبہ بندی، مارکیٹنگ، درآمد و برآمد، ہنرمندی کی تربیت اور انتظامی مشاورت جیسی خدمات بھی فراہم کی گئیں۔

اس انتظامی ماڈل کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ سرمایہ کار کو محض اجازت ناموں کی بھول بھلیاں میں نہ الجھایا جائے بلکہ اسے ایسا مکمل کاروباری ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنی توجہ پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مرکوز کرسکے۔

پاکستان کے موجودہ معاشی حالات میں اس تجربے سے تین اہم نکات اخذ کیے جاسکتے ہیں۔

پہلا یہ کہ معاشی مواقع موجود ہیں اور چین کے ساتھ تعاون کو مزید وسیع کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے، لیکن ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو اپنے انتظامی نظام میں اصلاحات اور فیصلہ سازی کے عمل میں تیزی لانا ہوگی۔

دوسرا یہ کہ اگر سی پیک اور دیگر اقتصادی منصوبوں کی مکمل صلاحیت بروئے کار نہ لائی جاسکی تو نہ صرف معاشی مواقع ضائع ہوسکتے ہیں بلکہ پاک چین اقتصادی تعاون کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنے کی گنجائش بھی بڑھے گی۔

تیسرا یہ کہ اقتصادی تعاون کے ساتھ مؤثر ابلاغ اور درست معلومات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان اور چینی سفارتخانے کے تعاون سے انفارمیشن کوریڈور کا آغاز ایک اہم قدم ہے، تاہم اسے محض معلوماتی پلیٹ فارم کے بجائے ایک پیشہ ورانہ اور تحقیق پر مبنی نظام کے طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، جہاں اعداد و شمار، منصوبوں کی پیش رفت اور حقائق کی بنیاد پر معلومات عام کی جائیں۔

پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے محض قرض، عارضی مالی سہارا یا متبادل مالیاتی ذرائع کافی نہیں ہوسکتے۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے صنعتی پیداوار میں اضافہ، برآمدات کا فروغ، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، انسانی وسائل کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور مؤثر حکمرانی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

چین کے ساتھ اقتصادی تعاون اور سی پیک پاکستان کو ان شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے اہم مواقع فراہم کرسکتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب ان منصوبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنے داخلی نظام کو بھی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ فیصلے تیز ہوں، اداروں کے اختیارات واضح ہوں، سرمایہ کاروں کو ایک مربوط نظام کے تحت سہولت دی جائے اور منصوبوں کے عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر ختم کی جائے۔ شینزن کا تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ بڑے معاشی خواب صرف سرمایہ سے حقیقت نہیں بنتے؛ ان کے لیے واضح وژن، مضبوط ادارے، تیز فیصلہ سازی اور مسلسل اصلاحات بھی ضروری ہوتی ہیں۔

پاکستان کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ چین کس قدر مدد کرسکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تعاون سے کتنے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے نظام کو کس حد تک تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہی سوال آئندہ برسوں میں سی پیک اور پاک چین معاشی شراکت داری کے نتائج کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button