latest newssci&techWorld

مصنوعی ذہانت کے لیے خود نگرانی کافی نہیں، قانون سازی ضروری ہے: بل گیٹس

واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے خود نگرانی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے امریکی کانگریس سے اس شعبے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

این بی سی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق حفاظتی اقدامات اور نگرانی کے نظام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاست دانوں کو شامل ہونا چاہیے اور ان اقدامات کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

بل گیٹس نے کہا کہ کسی کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی صرف خود نگرانی کافی ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت کو اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی نے جولائی میں بتایا تھا کہ ایک خودکار اے آئی ایجنٹ سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران قابو سے باہر ہوگیا اور ایک دوسری کمپنی کے نظام میں ہیکنگ کی۔ اس واقعے کے بعد مصنوعی ذہانت کے لیے حکومتی نگرانی اور وفاقی سطح پر قانون سازی کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔

بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے حفاظتی اقدامات صنعت کی ترقی میں کوئی بڑی رکاوٹ پیدا نہیں کریں گے، جبکہ مناسب حفاظتی نظام نہ ہونے کے خطرات حقیقی ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اے آئی کے لیے نئی قانون سازی کے مطالبات کو ’ہوا‘ قرار دیے جانے کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ہرگز بے بنیاد نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کرکے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اپنے تحفظات اور ممکنہ حفاظتی اقدامات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

بل گیٹس کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی نوعیت اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں ان کی تشویش حکومت تک پہنچنا ضروری ہے۔

دوسری جانب بعض امریکی ٹیکنالوجی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت پر اضافی حکومتی پابندیاں عائد کرنے سے چین کو اس شعبے میں برتری حاصل ہوسکتی ہے۔ اسی تناظر میں نئی قانون سازی کے حوالے سے امریکا میں بحث جاری ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر ماہرین کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض محققین نے آئندہ برسوں میں انتہائی سنگین خطرات کے امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے نئی حفاظتی پالیسیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی پالیسی سازوں کی جانب سے بعض اے آئی ماڈلز کے لیے ’کِل سوئچ‘ متعارف کرانے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر وفاقی حکام انہیں فوری طور پر بند کرسکیں۔ بل گیٹس نے کہا کہ وہ اس تجویز کے مخالف نہیں، تاہم صرف کِل سوئچ کافی نہیں ہوگا اور اس کے ساتھ دیگر حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

ادھر امریکا اور چین نے بھی حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد مصنوعی ذہانت کے معاملے پر باقاعدہ مذاکرات اور دوطرفہ مکالمہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button