ایران امریکا سے ممکنہ نئی جنگ کے لیے تیار ہے، سفارت کاری کا راستہ بھی کھلا ہے: عباس عراقچی

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم تہران نے سفارت کاری کا راستہ بند نہیں کیا۔ ان کے مطابق جنگ یا مذاکرات میں سے آئندہ راستے کا انتخاب امریکا پر منحصر ہے۔
این بی سی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن امن کے کسی ممکنہ موقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران نے رواں ہفتے امریکا کو ایک تجویز دی تھی جس کے تحت بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر دوبارہ کھولنے اور بحری آمدورفت بحال کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ یہ تجویز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئی۔
عراقچی نے کہا کہ ایران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز مسترد کیے جانے کی اطلاع ملی ہے، تاہم تہران کو ثالثوں کے ذریعے اب تک کوئی باضابطہ جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار ہے۔
ان کے مطابق اس کے بدلے ایران چاہتا ہے کہ امریکا اس کی بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایرانی منجمد اثاثے جاری کرے اور ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دے۔ یہ مطالبات پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم میں شامل رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز مسترد کرنے کے باوجود کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات اسی ہفتے دوبارہ ہوسکتے ہیں۔ امریکی اور علاقائی ذرائع کے مطابق قطر سمیت بعض ثالث دونوں جانب کے درمیان بالواسطہ رابطے بحال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عراقچی نے امریکی مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے کہا کہ ایران ان انتخابات کو اپنی پالیسی کا محور نہیں سمجھتا اور تہران کی توجہ صرف اپنے قومی مفادات پر ہے۔



