latest newsWorld

عالمی یومِ سیاحت: تاریخ، پس منظر اور اہمیت

عالمی یومِ سیاحت ہر سال 27 ستمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد سیاحت کی معاشی، سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کرنا، مختلف اقوام کے درمیان باہمی روابط اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور ذمہ دار و پائیدار سیاحت کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے UN Tourism کے مطابق سیاحت اقتصادی ترقی، جامع ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

عالمی یومِ سیاحت کی تاریخ عالمی سیاحت کے ادارہ جاتی ارتقا سے جڑی ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر سیاحت کے لیے ایک منظم بین الاقوامی ادارے کے قیام کے بعد سیاحت کو محض تفریح اور سفر کے بجائے اقتصادی و سماجی ترقی کے ایک اہم شعبے کے طور پر دیکھنے کا رجحان مضبوط ہوا۔

27 ستمبر کو عالمی یومِ سیاحت کے لیے منتخب کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسی تاریخ کو عالمی سیاحت کی تنظیم کے بنیادی دستور کو 1970 میں منظور کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عالمی سیاحت کی تنظیم نے اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا۔ عالمی یومِ سیاحت پہلی مرتبہ 1980 میں منایا گیا۔ اس کے بعد سے ہر سال 27 ستمبر کو یہ دن مختلف موضوعات اور سرگرمیوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

اس دن کے ذریعے دنیا بھر میں حکومتوں، سیاحتی اداروں، نجی شعبے، مقامی آبادیوں اور مسافروں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ سیاحت صرف سفر یا تفریح کا نام نہیں بلکہ یہ روزگار، کاروبار، ثقافتی تبادلے، علاقائی ترقی اور قدرتی و تاریخی ورثے کے تحفظ کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

سیاحت دنیا کے مختلف ممالک کی معیشتوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سیاح جب کسی ملک یا علاقے کا سفر کرتے ہیں تو وہ ہوٹلوں، ریستورانوں، ٹرانسپورٹ، مقامی بازاروں، دستکاری، رہنمائی اور تفریحی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں پر اخراجات کرتے ہیں۔ اس طرح سیاحت براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔

خصوصاً دیہی اور دور دراز علاقوں میں سیاحت مقامی لوگوں کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کر سکتی ہے۔ UN Tourism کے مطابق دیہی سیاحت روزگار پیدا کرنے، قدرتی و ثقافتی وسائل کے تحفظ اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

سیاحت کا ایک اہم پہلو مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور روایات کو ایک دوسرے سے متعارف کرانا ہے۔ جب لوگ تاریخی مقامات، عجائب گھروں، قدیم شہروں، مذہبی مقامات اور ثقافتی مراکز کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں مختلف معاشروں کی تاریخ اور طرزِ زندگی کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

اسی طرح سیاحت مقامی دستکاری، روایتی کھانوں، موسیقی، لباس، فنون اور دیگر ثقافتی روایات کو زندہ رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ UN Tourism کی موجودہ دیہی سیاحت کی کاوشوں میں بھی ثقافت اور روایات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور مقامی برادریوں کو مواقع فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

عالمی یومِ سیاحت کا ایک اہم مقصد پائیدار سیاحت کے تصور کو فروغ دینا بھی ہے۔ سیاحت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ قدرتی ماحول، پہاڑوں، جنگلات، جھیلوں، ساحلی علاقوں اور جنگلی حیات پر دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے جدید سیاحتی پالیسیوں میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ سیاحتی سرگرمیوں سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

UN Tourism پائیدار سیاحت کے حوالے سے قدرتی و ثقافتی وسائل کے تحفظ، وسائل کے مؤثر استعمال، فضلے میں کمی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔

سیاحت صرف بڑے شہروں اور معروف تفریحی مقامات تک محدود نہیں۔ دیہی علاقوں میں قدرتی مناظر، روایتی طرزِ زندگی، مقامی خوراک، دستکاری اور ثقافتی روایات سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بن سکتے ہیں۔

اسی تصور کے تحت UN Tourism نے Best Tourism Villages پروگرام شروع کیا، جس کا مقصد ایسے دیہی مقامات کو نمایاں کرنا ہے جہاں سیاحت ثقافت اور روایات کے تحفظ، مقامی مواقع پیدا کرنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں کردار ادا کرتی ہے۔ 2026 میں اس پروگرام کے نیٹ ورک میں دنیا کے مختلف خطوں کے سینکڑوں دیہی مقامات شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے عالمی یومِ سیاحت خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک میں قدرتی، تاریخی، ثقافتی اور مذہبی سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ شمالی علاقوں کے پہاڑ، وادیاں، جھیلیں اور قدرتی مناظر، جبکہ موئن جو دڑو، ٹیکسلا، گندھارا تہذیب کے آثار اور دیگر تاریخی مقامات پاکستان کے ثقافتی و سیاحتی ورثے کا حصہ ہیں۔

اسی طرح پاکستان مذہبی سیاحت کے حوالے سے بھی مختلف مذاہب سے وابستہ اہم مقامات رکھتا ہے۔ سکھ، بدھ اور دیگر مذہبی و تاریخی ورثے سے متعلق مقامات بین الاقوامی سیاحوں اور زائرین کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں سیاحت کے فروغ سے مقامی آبادیوں کے لیے روزگار، چھوٹے کاروبار، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور دیگر خدمات کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے لیے بہتر انفراسٹرکچر، محفوظ سفری ماحول، صاف ستھرے سیاحتی مقامات، مؤثر رہنمائی، ڈیجیٹل سہولیات اور تاریخی و قدرتی ورثے کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

عالمی یومِ سیاحت دراصل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاحت صرف گھومنے پھرنے کا نام نہیں بلکہ لوگوں، ثقافتوں اور معیشتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ذمہ دارانہ انداز میں سیاحت کو فروغ دیا جائے تو یہ روزگار پیدا کرنے، مقامی معیشت مضبوط کرنے، ثقافتی ورثہ محفوظ رکھنے اور قدرتی ماحول کی حفاظت میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

آج دنیا میں سیاحت کے حوالے سے توجہ صرف سیاحوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ سیاحت کے فوائد مقامی آبادی تک پہنچیں، قدرتی و ثقافتی وسائل محفوظ رہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی یہ اثاثے برقرار رہیں۔ UN Tourism کی موجودہ پالیسی اور دیہی سیاحت کے پروگراموں میں بھی لوگ، خوشحالی اور کرۂ ارض کے باہمی تعلق کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

یوں 27 ستمبر کا عالمی یومِ سیاحت دنیا بھر میں سفر کے شوق کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس سوال کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ سیاحت کو کس طرح معاشی ترقی، ثقافتی ہم آہنگی، مقامی خوشحالی اور ماحول کے تحفظ کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button