خوف کے سائے میں ڈھلتے رستے : آوارہ کتوں اور ریبیز کی دہشت میں الجھے بے بس شہری
ڈاکٹر وقار علی گل

وہ اپنے اسکول کی وردی پہنے، کندھے پر بستہ لٹکائے، صبح کی نرم دھوپ میں گھر سے نکلا تھا۔ ماں نے حسبِ معمول اس کے ماتھے کو چوما، دعاؤں کا حصار باندھا اور دروازے تک چھوڑنے آئی۔ چند لمحے بعد گلی کے موڑ سے ایک ایسی چیخ بلند ہوئی جس نے ماں کے قدموں تلے زمین کھینچ لی۔ چند آوارہ کتوں نے سات سالہ بچے کو گھیر لیا تھا۔ محلے دار دوڑ کر پہنچے، بچے کو بچا لیا گیا، لیکن اس کے جسم پر لگنے والے زخموں سے کہیں گہرے زخم اس کی ماں کے دل پر ثبت ہو گئے۔
یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں۔ یہ پاکستان کے ہزاروں گھروں کی مشترکہ داستان ہے۔ ایسی داستان جس میں خوف ہے، بے بسی ہے، غربت ہے اور ایک ایسا سوال بھی ہے جس کا جواب آج تک کسی سرکاری دفتر، کسی بلدیاتی ادارے اور کسی مقتدر ایوان سے نہیں مل سکا۔ آخر ہماری گلیاں کب محفوظ ہوں گی؟
پاکستان میں غریب آدمی کی زندگی عجیب آزمائشوں سے عبارت ہے۔ اگر وہ بیماری سے بچ جائے تو مہنگائی اسے نگلنے کو تیار بیٹھی ہوتی ہے، اگر مہنگائی سے لڑ لے تو بے روزگاری اس کا راستہ روک لیتی ہے، اور اگر ان سب سے بچ نکلے تو گلی کے نکڑ پر بیٹھا ایک آوارہ کتا اس کی زندگی کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ سگ گزیدگی کے بعد بھی اکثر متاثرین کو فوری ویکسین دستیاب نہیں ہوتی اور کئی خاندان علاج کے لیے در در بھٹکتے رہتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں آوارہ کتوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گاؤں کی گلیوں میں چند کتے دکھائی دیتے تھے جو رات کو پہرے دار کا کردار ادا کرتے تھے، مگر اب صورتحال مختلف ہے۔ شہروں کی پوش کالونیوں سے لے کر دیہات کی کچی آبادیوں تک کتوں کے غول دندناتے پھرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ راہ چلتے افراد، سائیکل سواروں، خواتین اور معصوم بچوں پر بلا اشتعال حملہ آور ہو جاتے ہیں۔
لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، حیدرآباد اور پشاور سمیت ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں سگ گزیدگی کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اخبارات کے صفحات اور ٹیلی ویژن چینلوں کی اسکرینیں ایسی خبروں سے بھری پڑی ہیں جن میں کوئی بچہ شدید زخمی ہوا، کوئی بزرگ خاتون حملے کا شکار ہوئی یا کسی خاندان کی خوشیاں ایک معمولی سی غفلت کے باعث ہمیشہ کے لیے چھن گئیں۔
دلچسپ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسانوں، جانوروں، گاڑیوں اور فصلوں تک کے اعدادوشمار مرتب کر لیے ہیں مگر آوارہ کتوں کی درست تعداد کے بارے میں آج بھی کوئی جامع قومی ریکارڈ موجود نہیں۔ البتہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔
بچے جو من کے سچے اور فطرت کا عین مظہر ہوتے ہیں پہلے کبھی پریوں راجاؤں اور جنگلوں کے قصے سنتے تھے، جنگلی درندوں خوبصورت پرندوں اور پالتو جانوروں کی دلچسپ باتوں سے محظوظ ہوتے تھے اب خود اک لرزتی داستان کا حصہ بن رہے ہیں۔
وہ کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہےکہ اک اور اداس شام ڈھل رہی تھی۔ محلے کی گلی میں بچوں کی ہنسی گونج رہی تھی۔ ایک ماں دروازے پر کھڑی اپنے سات سالہ بیٹے کو کھیلتا دیکھ رہی تھی کہ اچانک چند آوارہ کتے نہ جانے کہاں سے نمودار ہوئے۔ چند لمحوں میں قہقہوں کی جگہ چیخوں نے لے لی۔ بچے کے کپڑے خون سے سرخ تھے اور ماں کی آنکھوں میں خوف، بے بسی اور سوالات تیر رہے تھے۔ سوال صرف یہ نہیں تھا کہ کتے نے بچے کو کیوں کاٹا، بلکہ یہ بھی تھا کہ کیا ہسپتال میں ویکسین مل جائے گی؟ کیا اس کے بچے کی جان بچ جائے گی؟ اور کیا ریاست اس کے خوف کا مداوا کر سکے گی؟
یہ منظر کسی ایک گاؤں، ایک شہر یا ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کے ہزاروں خاندانوں کی مشترکہ داستان بن چکا ہے۔ اس دیس میں غریب کے کیا کہنے جسے گلی میں کتا کاٹتا ہے اور گھر میں غربت ڈستی ہے۔ اگر وہ مزدور یا دیہاڑی دار کسی طرح چند ہزار روپے کما بھی لے تو اسے سرکاری اعداد و شمار میں غریب شمار نہیں کیا جاتا، لیکن جب اس کے بچے کو کتا کاٹ لے اور ہسپتال میں ویکسین دستیاب نہ ہو تو اس کی بے بسی کا بھی کوئی شمار نہیں رہتا۔
پاکستان میں آوارہ کتوں کا مسئلہ اب محض ایک بلدیاتی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سنگین سماجی، طبی اور انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ شہروں کی پوش کالونیوں سے لے کر دیہات کی کچی گلیوں تک، آوارہ کتوں کے غول انسانی زندگی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اکیلے سکول بھیجنے سے گھبراتے ہیں، خواتین شام کے وقت تنہا نکلنے سے کتراتی ہیں اور بزرگ افراد واک کے دوران خوف محسوس کرتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان میں مردم شماری اور مال شماری پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن آوارہ کتوں کی تعداد کے بارے میں کوئی جامع قومی ڈیٹا موجود نہیں۔ البتہ مختلف سرکاری اور طبی رپورٹس اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب میں جنوری 2024 سے مارچ 2026 تک 514,589 افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئے۔ ان میں 232,704 کیس 2024 میں اور 243,299 کیس 2025 میں رپورٹ ہوئے۔
اسی طرح قومی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بعض ہفتوں میں ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ بعض اندازوں کے مطابق سالانہ دس لاکھ تک افراد سگ گزیدگی کا سامنا کرتے ہیں۔کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر کے مطابق روزانہ درجنوں متاثرین علاج کے لیے آتے ہیں جن میں بچوں کی تعداد خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ سندھ میں 2024 کے دوران تقریباً تین لاکھ افراد کو آوارہ کتوں نے کاٹا جبکہ کراچی میں ہزاروں افراد علاج کے لیے مختلف ہسپتالوں سے رجوع کرتے رہے۔
چند ماہ قبل جنوبی پنجاب کے ایک قصبے میں دس سالہ بچے کو سکول جاتے ہوئے کتوں کے غول نے گھیر لیا۔ مقامی لوگوں نے بڑی مشکل سے اسے بچایا لیکن اس کے جسم پر متعدد زخم آئے۔ خاندان کئی دن تک مختلف مراکز صحت میں ویکسین تلاش کرتا رہا۔ اسی طرح سندھ کے ایک دیہی علاقے میں ایک بزرگ خاتون صبح نماز کے بعد گھر کے باہر جھاڑو دے رہی تھیں کہ دو آوارہ کتوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ ایسے واقعات اب خبروں کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔
اصل خطرہ صرف کتے کا کاٹنا نہیں بلکہ اس سے پھیلنے والی مہلک بیماری ریبیز ہے، جسے عرف عام میں باؤلے پن کی بیماری کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق انسانی ریبیز سے ہونے والی تقریباً 99 فیصد اموات کتوں کے ذریعے منتقل ہونے والے وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ جانور کے لعاب کے ذریعے انسان کے جسم میں داخل ہو کر اعصابی نظام کو تباہ کرتا ہے اور علامات ظاہر ہونے کے بعد موت تقریباً یقینی ہو جاتی ہے۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ بروقت علاج اور ویکسینیشن کے ذریعے اس بیماری سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔
پاکستان میں ریبیز کے بارے میں سب سے تشویشناک پہلو پیشہ ورانہ آگاہی کی کمی اور ویکسین کی عدم دستیابی ہے۔ بعض تحقیقی اندازوں کے مطابق ملک میں ہر سال سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد ریبیز کے باعث جان کی بازی ہار سکتے ہیں، اگرچہ درست تعداد اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے کیونکہ رپورٹنگ کا نظام ابھی مکمل نہیں۔
ماضی میں بلدیاتی ادارے آوارہ کتوں کی تعداد کم کرنے کے لیے زہر دے کر یا گولی مار کر مہمات چلاتے تھے۔ بعد ازاں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس طریقہ کار پر شدید اعتراض کیا۔ عدالتوں اور ماہرین نے بھی زیادہ سائنسی حل تجویز کیے۔ چنانچہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی "ٹریپ، نیوٹر، ویکسینیٹ اینڈ ریلیز” یعنی پکڑو، نس بندی کرو، ویکسین لگاؤ اور واپس چھوڑ دو کی پالیسی کو فروغ دیا جانے لگا۔
یہ طریقہ بظاہر متوازن اور انسانی معلوم ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے بڑے مالی وسائل، تربیت یافتہ عملہ، ویکسین اور مستقل نگرانی درکار ہوتی ہے۔ پنجاب میں اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی موجود ہے مگر زمینی سطح پر اس کے نتائج ابھی عوام کی توقعات کے مطابق نہیں۔
ماہرین کے مطابق آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کی ایک بڑی وجہ شہروں اور دیہات میں بکھرا ہوا کوڑا کرکٹ بھی ہے۔ کچرے کے ڈھیر، ہوٹلوں کا بچا ہوا کھانا اور ذبح خانوں کی آلائشیں ان جانوروں کے لیے مستقل خوراک مہیا کرتی ہیں۔ جب خوراک وافر ہو تو آبادی میں اضافہ بھی تیز ہو جاتا ہے۔
اس مسئلے کا ایک اور پہلو ہماری سماجی نفسیات سے جڑا ہوا ہے۔ بہت سے لوگ جذبۂ ہمدردی کے تحت آوارہ کتوں کو کھانا کھلاتے ہیں جو بلاشبہ ایک مثبت انسانی جذبہ ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ نس بندی اور ویکسینیشن نہ ہو تو یہی عمل آبادی میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ رحم دلی اور ذمہ داری دونوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔
عوام کا مطالبہ بھی کوئی غیر معمولی نہیں۔ لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے بچے محفوظ ہوں، گلیاں خوف کی علامت نہ بنیں، ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین ہر وقت دستیاب ہو اور ریاست اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرے۔ یہ مطالبہ کسی طبقے، جماعت یا علاقے کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی شہری کا حق ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ جانوروں پر رحم ایک مہذب معاشرے کی پہچان ضرور ہے، لیکن انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیاتی ادارے صفائی کے نظام کو بہتر بنائیں، محکمہ صحت ویکسین کی مسلسل فراہمی یقینی بنائے، ویٹرنری ماہرین نس بندی اور ویکسینیشن پروگرام کو وسعت دیں اور عوام کو ریبیز سے بچاؤ کے بارے میں مؤثر آگاہی فراہم کی جائے۔
آخر میں سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو ایسی گلیاں دینا چاہتے ہیں جہاں کھیل سے زیادہ خوف ان کا مقدر ہو؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر وقت آ گیا ہے کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کو وقتی مہمات نہیں بلکہ قومی ترجیح سمجھا جائے۔ کیونکہ محفوظ گلیاں ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں اور جب گلیاں خوف بانٹنے لگیں تو ریاست کو خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے۔
دنیا کے مہذب معاشروں نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ انہوں نے جانوروں سے نفرت نہیں کی بلکہ سائنسی بنیادوں پر ان کی آبادی کو کنٹرول کیا، ویکسینیشن کو یقینی بنایا، بلدیاتی نظام کو فعال کیا اور عوام کو ذمہ داری کا احساس دلایا۔ یہی راستہ ہمارے لیے بھی نجات کا راستہ بن سکتا ہے۔
آج ضرورت صرف کتوں کی تعداد کم کرنے کی نہیں بلکہ انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، بلدیاتی ادارے، محکمہ صحت، ویٹرنری ماہرین، سماجی تنظیمیں اور عام شہری ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی یقینی بنائی جائے، نس بندی کے پروگرام کو وسعت دی جائے، کچرے کے ڈھیروں کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو آگاہی فراہم کی جائے۔
مسئلہ صرف کتوں کا نہیں، مسئلہ ان ماؤں کا ہے جو ہر صبح اپنے بچوں کو دعاؤں کے سائے میں گھر سے رخصت کرتی ہیں۔ مسئلہ ان بزرگوں کا ہے جو شام کی سیر کے لیے نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔
مسئلہ ان غریب خاندانوں کا ہے جو ایک انجکشن خریدنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔جانوروں پر رحم یقیناً ایک مہذب معاشرے کی نشانی ہے، مگر انسانوں کی جانوں کا تحفظ اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ جب تک ریاست اس ذمہ داری کو پوری سنجیدگی سے ادا نہیں کرے گی، تب تک ہماری گلیاں بچوں کی ہنسی کے بجائے خوف کی داستانیں سناتی رہیں گی۔اور شاید ہر ماں اپنے بچے کے اسکول جانے کے بعد یہی دعا کرتی رہے گی کہ وہ شام کو صحیح سلامت واپس لوٹ آئے۔



