سعودی عرب کو ایرانی حملوں کا سامنا، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کا مکمل حق ہے: فیصل بن فرحان

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ممالک کو ایرانی حملوں کا سامنا ہے، تاہم ریاض کو اپنی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل بن فرحان نے کہا کہ دنیا کو اس وقت غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں اور موجودہ بحران اصولوں پر عمل درآمد میں ناکامی کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات، علاقائی تعاون اور مربوط سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کی بحالی پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی خطے کی سلامتی توانائی کے تحفظ اور عالمی سپلائی چین کے تسلسل سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
یمن کی صورتحال پر انہوں نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیاں علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
فلسطین کے معاملے پر فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور فلسطینی علاقوں کی موجودہ صورتحال تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو درپیش بحران کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔



