latest newsShowbiz

ہم نور جہاں کو بھی بھول گئے، 100 ویں سالگرہ گزر گئی

پاکستان کی بین الاقوامی شہرت کی حامل گلوکارہ و اداکارہ ملکۂ ترنم نور جہاں کی 100ویں سالگرہ 21 ستمبر کو گزر گئی، تاہم اس موقع پر ملک میں کوئی بڑی سرکاری تقریب منعقد نہیں کی گئی۔

معروف صحافی مبشرحسن  نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نور جہاں جیسے قومی ثقافتی اثاثے کی صدی مکمل ہونے پر کوئی بڑا قومی جشن، پی ٹی وی پر خصوصی پروگرام، دستاویزی فلم، نمائش، کتاب یا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔

اداکارہ ماہرہ خان اور حنا خواجہ بیات سمیت دیگر فنکاروں نے بھی نور جہاں کی عدم پذیرائی پر افسوس کا اظہار کیا۔ ماہرہ خان نے اسے افسوسناک قرار دیا جبکہ حنا خواجہ بیات نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی ہیروز کو وہ پذیرائی نہیں دیتا جس کے وہ مستحق ہیں۔

نور جہاں کے پوتے احمد علی بٹ نے بھی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی پر کوئی خصوصی پروگرام نشر نہیں ہوا اور نہ ہی لاہور کی لبرٹی میں ان کی 100ویں سالگرہ کے حوالے سے کوئی پوسٹر نظر آیا۔

1926 میں قصور، پنجاب میں جنمی اور بےبی نور جہاں سے میڈم نور جہاں تک کا سفر طے کرنے والی ملکہ ترنم  نے 1930 کی دہائی میں گلوکاری اور اداکاری کا آغاز کیا۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے اردو، پنجابی اور سندھی سمیت دیگر زبانوں میں تقریباً 10 ہزار گیت ریکارڈ کیے۔

معروف ادیب اور صحافی شہزاد فراموش نے بتایا کہ نور جہاں نے پاکستانی فلمی صنعت میں بھی اہم کردار ادا کیا اور 1951 میں فلم ’’چن وے‘‘ کی ہدایت کاری، اداکاری اور گلوکاری کی۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔ بھارتی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر نے بھی نور جہاں کو اپنا رول ماڈل قرار دیا تھا۔

نور جہاں کا فن آج بھی پاکستان اور برصغیر میں موسیقی کے شائقین میں مقبول ہے، تاہم ان کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر سرکاری سطح پر بڑی تقریب نہ ہونے پر فنکاروں اور ثقافتی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button