پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے طالبان سے براہِ راست روابط ہیں، محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض افراد کے طالبان سے براہِ راست روابط ہیں اور اس حوالے سے ثبوت بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو آگاہ کردیا گیا تھا کہ ان کی جماعت کے بعض افراد کے طالبان سے روابط ہیں۔ ان کے بقول، مذاکرات کے دوران یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مراد سعید فیصلے کر رہے تھے، وزیراعلیٰ نہیں۔ ان کے مطابق، صوبائی کابینہ کے بعض ارکان نے بھی شکایت کی تھی کہ مراد سعید کے فیصلوں نے انہیں مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ 25 نومبر 2024ء کے دھرنے کے موقع پر حکومت نے پی ٹی آئی کو جگہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ وہ بانی چیئرمین سے فون پر بات کرکے دھرنا مؤخر کرنے کا فیصلہ کریں گے، تاہم رابطہ کرانے کے بعد پارٹی کے بعض رہنماؤں نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر کو بانی پی ٹی آئی کا ویڈیو بیان ریکارڈ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی، لیکن بیان ریکارڈ نہیں کرایا گیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس بتائیں کہ آئین کے خلاف کیا اقدام کیا گیا ہے، کیونکہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کے تحت نافذ کی گئی ہیں۔
مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے ڈرافٹ کے پیراگراف نمبر 4 میں مجوزہ تبدیلیوں کے بارے میں پوچھا۔ ان کے مطابق، ڈرافٹ میں تین مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ چوتھی مرتبہ مزید چھ تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے تمام چھ تجاویز تسلیم کرلیں، لیکن اس کے باوجود مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔ ان کے مطابق، تمام معاملات طے ہونے کے بعد ڈرافٹ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھیجا گیا، جنہوں نے اسے مراد سعید کو بھجوا دیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فیصلہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کرنا تھا تو وہ مذاکرات میں شریک کیوں نہیں ہوئے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، بعدازاں بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو بیان کی شرط رکھی گئی اور بیرسٹر گوہر سے کہا گیا کہ وہ بیان ریکارڈ کرائیں۔
محسن نقوی نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے شرط رکھی گئی کہ ویڈیو بیان بیرسٹر گوہر کے فون سے ریکارڈ کیا جائے، جسے حکومت نے تسلیم کرلیا۔ ان کے مطابق، اس کے بعد ریکارڈنگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے کرنے کی شرط سامنے آئی، جسے بھی مان لیا گیا، تاہم پھر بیان اگلے روز ریکارڈ کرانے کا کہا گیا۔
وزیر داخلہ نے راجہ ناصر عباس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار نہ ٹھہرائیں بلکہ اپنی جماعت کے اندرونی معاملات کا جائزہ لیں۔



