سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے بھائی کی پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

پشاور: خیبر پختونخوا کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی نے ان کی فوری بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کا مبینہ اغوا اور مسلسل حراست بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ ان کی گمشدگی کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کرانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
یہ درخواست ایسے وقت میں دائر کی گئی ہے جب 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کے مقام کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس اقدام کے نتیجے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ختم ہوگئی اور اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کردیے گئے۔
سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے اپنے وکیل بشیر خان وزیر کے توسط سے درخواست دائر کی۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کو مسلح اور نقاب پوش افراد اپنے ساتھ لے گئے اور انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ سہیل آفریدی کہاں ہیں، وہ کس کی تحویل میں ہیں اور انہیں کس قانونی اختیار کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مغوی کے اہل خانہ ان کی سلامتی، جسمانی تحفظ اور آزادی کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ عدالت سے مزید استدعا کی گئی ہے کہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کی جائے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں اور انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کا عوامی عہدہ ان کے بنیادی حقوق کو محدود نہیں کرتا، بلکہ موجودہ صورت حال میں متعلقہ حکام کی جانب سے فوری اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں تاکہ ان کے مقام کا تعین اور سلامتی یقینی بنائی جاسکے۔
درخواست میں عدالت سے پولیس حکام کو سہیل آفریدی کا سراغ لگانے کی ہدایت دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر وہ عدالت کے دائرۂ اختیار میں کسی کی تحویل میں پائے جائیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کی حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جاسکے۔



