column and articlelatest news

امیر مینائی: سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

خالد منصور

اردو شاعری کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جن کی شہرت ان کی زندگی تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کے اشعار نسل در نسل زبان زدِ عام رہتے ہیں۔ امیر مینائی بھی ایسے ہی قادرالکلام شاعر تھے جن کے بے شمار اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت، درد و غم، زندگی کی ناپائیداری، انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور روحانی کیفیات کی ایسی دل کش ترجمانی ملتی ہے کہ قاری بے اختیار داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اتنے اشعار کم ہی شاعروں کے مشہور ہوئے جتنے امیر مینائی کے حصے میں آئے۔ ان کا کلام آج بھی محفلوں میں پڑھا، گنگنایا اور روزمرہ گفتگو میں استعمال کیا جاتا ہے۔

امیر مینائی کے اشعار کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب ان کی سادگی، برجستگی، معنویت اور دل نشین اندازِ بیان ہے۔ وہ معمولی سے معمولی تجربے کو بھی ایسے مؤثر شعری پیکر میں ڈھال دیتے ہیں کہ وہ ایک آفاقی حقیقت بن جاتا ہے۔ ان کے ہاں عشق کی تڑپ بھی ہے، زندگی کی بے ثباتی بھی، وفا و جفا کے قصے بھی اور انسانی جذبات کی باریکیاں بھی۔ یہی خصوصیات انہیں اردو غزل کے ممتاز شعرا میں نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔

امیر مینائی 21 فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام امیر احمد تھا۔ ان کے والد مولوی کرم محمد کا تعلق مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھا، اسی نسبت سے وہ امیر مینائی کہلائے۔ امیر مینائی نے ابتدائی اور درسی تعلیم مفتی سعد اللہ اور فرنگی محل کے علما سے حاصل کی۔ شاعری میں انہوں نے اسیر لکھنوی کی شاگردی اختیار کی، جن کی رہنمائی میں ان کے شعری ذوق کو مزید جلا ملی۔

1852 ء میں امیر مینائی کو نواب واجد علی شاہ کے دربار تک رسائی حاصل ہوئی۔ وہاں انہیں ادبی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا اور نواب کے حکم پر انہوں نے دو کتابیں، ’’شاد سلطان‘‘ اور ’’ہدایت السلطان‘‘ تصنیف کیں۔ 1857ء کے ہنگامہ خیز حالات کے بعد وہ نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رام پور چلے گئے۔ بعد میں نواب کلب علی خاں نے انہیں اپنا استاد مقرر کیا۔ رام پور میں انہیں علمی و ادبی سرگرمیوں کے لیے مناسب ماحول میسر آیا۔

نواب کلب علی خاں کے انتقال کے بعد امیر مینائی کو رام پور چھوڑنا پڑا۔ 1900ء میں وہ حیدرآباد دکن چلے گئے، جہاں کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد 13 اکتوبر کو انتقال کر گئے۔

امیر مینائی کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف انسانی جذبات کی سچی اور مؤثر ترجمانی ہے۔ ان کے ہاں عشق محض محبوب کے حسن کی تعریف کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کی پوری شخصیت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ وہ عاشق کے درد کو کائنات کے دکھ سے جوڑ دیتے ہیں۔

خنجر چلے کسی پہ، تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

یہ شعر امیر مینائی کی حساس طبیعت اور وسیع القلبی کا آئینہ دار ہے۔ شاعر اپنے دکھ کو ذاتی تجربے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ دوسروں کی تکلیف کو بھی اپنا درد سمجھتا ہے۔ یہی جذبہ انسان دوستی کی بنیاد بنتا ہے۔

امیر مینائی کے مزید اشعار دیکھئیے جن کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے ۔

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیر
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے
خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

قریب ہے یارو روزِ محشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستین کا

خونِ ناحق کہیں چھپتا ہے چھپائے سے امیر
کیوں مری لاش پہ بیٹھے ہیں وہ چادر ڈالے

ہوئے نام ور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

زیست کا اعتبار کیا ہے امیر
آدمی بلبلہ ہے پانی کا

امیر مینائی شاعری کو محض الفاظ کی ترتیب نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک اچھا شعر تخلیق کرنے کے لیے شاعر کو اپنے اندر کے جذبات، تجربات اور احساسات کو گہرائی سے برتنا پڑتا ہے۔ اسی تخلیقی عمل کی مشقت کو وہ یوں بیان کرتے ہیں:

خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت

مزید اشعار دیکھیں۔

شاعر کو مست کرتی ہے تعریفِ شعر امیر
سو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں

وائے قسمت، وہ بھی کہتے ہیں برا
ہم برے سب سے ہوئے جن کے لیے

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں، دیکھتے تو ہیں
میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

آہوں سے سوزِ عشق مٹایا نہ جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

تیر پہ تیر لگاؤ، تمہیں ڈر کس کا ہے
سینہ کس کا ہے مری جان، جگر کس کا ہے

آنکھیں دکھلاتے ہو، جوبن تو دکھاؤ صاحب
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

تجھ کو آتا ہے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

لطف آنے لگا جفاؤں میں
وہ کہیں مہرباں نہ ہو جائے

وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

اچھے عیسیٰ ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ

ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سن کے لیے

باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنا ہے ایک کم سن کے لیے

ہے آج جو سرگزشت اپنی
کل اس کی کہانیاں بنیں گی

دل بری سے کام ہے ہم کو، دل آزاری سے کیا
یار کی یاری سے مطلب، اس کی عیاری سے کیا

گرہ سے کچھ نہیں جاتا ہے، پی بھی لے زاہد
ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں

کباب سیخ ہیں ہم، کروٹیں ہر سو بدلتے ہیں
جو جل اٹھتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں
شوقِ دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

ابھی مزار پہ احباب فاتحہ پڑھ لیں
پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے

امیر جمع ہیں احباب، دردِ دل کہہ لے
پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے

امیر اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

تجھ کو آتا ہے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

لطف آنے لگا جفاؤں میں
وہ کہیں مہرباں نہ ہو جائے

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں، دیکھتے تو ہیں
میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

مرغانِ باغ، تم کو مبارک ہو سیرِ گل
کانٹا تھا ایک میں، سو چمن سے نکل گیا

امیر مینائی کی ادبی خدمات صرف شاعری تک محدود نہیں تھیں۔ ان کے دو شعری مجموعے، ’’مراۃ الغیب‘‘ اور ’’صنم خانۂ عشق‘‘ شائع ہوئے۔ ان کی ایک اہم علمی کاوش ’’امیر اللغات‘‘ بھی ہے، جو ایک بڑا لغوی منصوبہ تھا، تاہم یہ کام نامکمل رہ گیا۔ ان کی شاعری، زبان پر قدرت، محاورے کے درست استعمال اور الفاظ کے انتخاب نے انہیں اردو ادب میں نمایاں مقام عطا کیا۔

امیر مینائی کے دور کو دو صدیاں ہونے کو آئیں لیکن ان کے اشعار آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے کئی مصرعے محاوروں کی طرح استعمال ہوتے ہیں اور بہت سے اشعار ایسے ہیں جنہیں سن کر شاعر کا نام فوراً ذہن میں آ جاتا ہے۔ ان کی شاعری کی یہی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے انسانی زندگی کے ان پہلوؤں کو چھوا جن کی اہمیت وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ امیر مینائی کا یہ شعر ان کی شاعری کی روح اور زندگی کے تجربے کو سمیٹتا محسوس ہوتا ہے۔

ہے آج جو سرگزشت اپنی
کل اس کی کہانیاں بنیں گی

واقعی، امیر مینائی کی اپنی سرگزشت بھی اب اردو ادب کی ایک اہم کہانی بن چکی ہے۔ ان کی زندگی ختم ہوئی، مگر ان کے اشعار آج بھی زندہ ہیں۔ یہی کسی شاعر کی حقیقی کامیابی ہے کہ اس کے الفاظ وقت کی گرد میں گم ہونے کے بجائے لوگوں کے دلوں اور زبانوں پر ہمیشہ باقی رہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button