
لاہور ہائیکورٹ میں پیر سے پرنسپل سیٹ پر 28 ججز کیسوں کی سماعت کریں گے جبکہ 11 ڈویژن بنچ آئندہ ہفتے سول اور فوجداری اپیلوں پر سماعت کریں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل سید شبیر حسین شاہ نے ترمیمی ججز روسٹر جاری کر دیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ تمام نوعیت کی اپیلوں پر سماعت کرے گا، جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں بنچ بنکنگ و کمرشل اپیلوں، جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں بنچ نیب اور دہشت گردی کیسز، جسٹس فیصل زمان کی سربراہی میں بنچ سول اپیلوں، جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں بنچ قتل سمیت فوجداری اپیلوں، جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں بنچ منشیات اور قتل کیسز، جسٹس صادق محمود خرم کی سربراہی میں بنچ قتل، منشیات اور فوجداری اپیلوں، جسٹس احمد ندیم ارشد اور جسٹس وقار حیدر اعوان کی سربراہی میں بنچز سول اپیلوں، جبکہ جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق کی سربراہی میں بنچز ٹیکس ریفرنسز اور بنکنگ اپیلوں پر سماعت کریں گے، ترمیم شدہ ججز روسٹر 31 اکتوبر تک نافذ العمل رہے گا۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس حسن مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق نےا ٹیکس دہندگان کے خلاف مقدمات درج کرنےکیخلاف آئینی درخواستیں خارج کردیں،عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ آئینی درخواستیں بے بنیاد ہونے کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہیں ،تفتیشی ایجنسی اور عدالت کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے ،تفتیشی ایجنسی اور عدالت متعلقہ مواد اور ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ کرے ، عدالت کا موجودہ فیصلہ کسی عدالت یا تفتیشی ایجنسی پر منفی اثر نہیں ڈالے گا ،عدالت اس مرحلے پر یہ فیصلہ نہیں کررہی کہ درخواستوں گزاروں نے ٹیکس کی رقم ادا کرنی ہے یا نہیں ،ٹیکس کی رقم ادا کرنے سے متعلق تفتیش یا متعلقہ عدالت شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی ، درخواست گزاران کے مطابق ڈی جی کی جانب سے ٹیکس واجب الاد نہ کرنے پر نوٹسز جاری کئے گئے، انکم ٹیکس آرڈیننس 2021 کے ان لینڈ ریونیو کے تحت درخواست گزاروں کے خلاف کاروائی کی گئی ،درخواست گزاران کے مطابق جب معاملہ ٹیکس افسر کے سامنے زیر سماعت ہو تو ایف آئی آرز درج کرنا غیر قانونی ہے ،درخواست گزاروں کے مطابق ایف آئی آرز درج کرنے بے بنیاد ہے ۔
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، درخواست پی ٹی آئی رہنما شیخ امتیاز اور اعجاز شفیع کی جانب سے دائر کی گئی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ پی ٹی آئی نے احتجاج اور دھرنے کی کال دی تھی جس پر حکومت نے پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا، احتجاج کرنا آئینی حق ہے اور اس کے برخلاف دفعہ 144 کا نفاذ غیر قانونی ہے، حکومت کو چاہیے تھا کہ صرف مخصوص خطرے والے اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کرتی مگر اس کے بجائے پورے پنجاب میں نافذ کر دی گئی، پرامن احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی بنیادی آئینی حقوق کے زمرے میں آتی ہے، استدعا کی گئی کہ عدالت پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کو معطل کرنے کا حکم دے۔
لاہور ہائیکورٹ ، شیخوپورہ کے محکمہ صحت کی سپروائزر کی سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کی منسوخی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر ، جسٹس خالد اسحاق سیدہ عقیلہ اسد کی درخواست پر 28 ستمبر کو سماعت کریں گے، عدالت ڈی سی شیخوپورہ سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر چکی ہے اور درخواست گزار کو گھر سے بے دخل کرنے سے روک رکھا ہے، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار شیخوپورہ میں سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن پروگرام میں سپروائزر ہیں اور انہیں جی او آر علامہ اقبال پارک میں گھر الاٹ کیا گیا تھا، اے ڈی سی جی شیخوپورہ نے 20 جولائی کو گھر کی الاٹمنٹ کینسل کر دی، الاٹمنٹ کی منسوخی کا حکم بغیر کسی اطلاع اور موقف سنے جاری کیا گیا جس کے باعث درخواست گزار کو کسی بھی وقت سرکاری گھر سے بے دخل کیا جا سکتا ہے، استدعا کی گئی کہ عدالت درخواست گزار کو گھر سے بے دخل کرنے سے روکے اور سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کی منسوخی کو کالعدم قرار دے۔
لاہور ہائیکورٹ ،چوہنگ پولیس کے اہلکار سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر، چیف جسٹس عالیہ نیلم شہری میاں محمد جمیل کی درخواست پر 29 ستمبر کو سماعت کریں گی، عدالت آئی جی پنجاب سے ایف آئی آر کے معاملے پر رپورٹ طلب کر چکی ہے، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق سیشن کورٹ نے 2021 میں درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جسے درخواست گزار نے چیلنج کیا، ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا تھا، عدالتی احکامات کے باوجود درخواست گزار کے خلاف غیر قانونی مقدمہ درج کیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس سردار اکبر علی نےمغوی امیر خان کو پولیس کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کروانے کی درخواست پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو تفصیلی رپورٹ سمیت 30 ستمبر کو طلب کر لیا، عدالت نے پولیس رپورٹ مسترد کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا دیا گیا ہے، تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے 23 ستمبر 2026 کو نوٹس جاری کئے ، نوٹس جاری ہونے کے فوراً بعد اسی روز مغوی کی گرفتاری ڈال کر شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا دیا گیا، عدالت نے قرار دیا کہ مغوی کی گرفتاری کا وقت اور طریقہ مشکوک ہے اور بادی النظر میں عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے دانستہ یہ کارروائی کی گئی، عدالت نے واضح کیا کہ اگر یہ طرزِ عمل ثابت ہو گیا تو یہ پولیس اختیارات کا سنگین غلط استعمال تصور ہوگا اور اس کارروائی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایڈیشنل سیشن جج غلام مصطفیٰ چوہدری نے جرم ثابت ہونے پر منشیات کیس میں ملزم شکیل کو مجموعی طور پر 57 سال قید اور 23 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی،تمام سزائیں ایک ساتھ ہی چلیں گی ، ٹرائل کے دوران قید بھی اس میں شامل ہوگی ،ملزم کے خلاف تھانہ شمالی چھاؤنی پولیس نے مقدمہ 2023 میں درج کیا گیا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج شاہد سکندر نے9 مئی جلائو گھیرائو کیسوں میں پی ٹی آئی کی سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواستِ ضمانت پر سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کردی،عدالت نے آئندہ سماعت پر وکیل کو دلائل مکمل کرنے اورپراسیکیوشن سے مقدمے کا ریکارڈ بھی پیش کرنیکا حکم دیدیا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج شاہد سکندر نے9 مئی ، جناح ہاؤس، پولیس کی گاڑیاں جلانے کے کیس کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی،عدالت نے گواہان کو بیانات پر جرح کیلئے طلب کر لیا،شاہ محمود قریشی ٫اعجاز چوہدری ٫ ڈاکٹر یاسمین راشد ٫ عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی جیل میں حاضری مکمل کی گئی،پی ٹی آئی رہنماؤں پر کارکنان کو بغاوت اور فسادات پر اکسانے کا الزام ہے۔
صدر مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب رانا ظفر اقبال ایڈووکیٹ اور ترجمان فائزہ عباسی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن الیکشن 2026، ہائیکورٹ بارز، لاہور بار اور ڈسٹرکٹ و تحصیل بارز کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے انڈیپینڈنٹ گروپ کے امیدوارن کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا، مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب نے سپریم کورٹ بار الیکشن میں صدارتی امیدوار سید امجد شاہ اور تمام نامزد پینل کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا، اگر کسی شخص یا مخالف امیدوار کو کسی امیدوار کی قانونی حیثیت پر کوئی اعتراض ہو تو پاکستان بار کونسل سے رجوع کر سکتا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس یونین کے الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا گیا، الیکشن 10 اکتوبر کو لاہور میں منعقد ہوں گے جبکہ امیدواران کی حتمی فہرست یکم اکتوبر کو آویزاں کی جائے گی، شیڈول کے مطابق 13 عہدوں پر امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے جن میں ایک صدر، دو سینئر نائب صدر اور تین نائب صدور کے عہدے، جنرل سیکرٹری، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری ، جوائنٹ سیکرٹری، فنانس سیکرٹری، پریس سیکرٹری اور آفس سیکرٹری کے عہدے شامل ہیں، الیکشن لڑنے کے لیے صدر کے عہدے کی فیس 15 ہزار روپے جبکہ باقی تمام عہدوں کے امیدواروں کے لیے فیس پانچ ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔



