ادبِ ایشیا کے نوبیل چراغ: گاؤ شِنگ جیان: روح کی تلاش کا مسافر
خالد منصور

ادب کی دنیا میں بعض نام صرف کسی ایک ملک، زبان یا ادبی روایت تک محدود نہیں رہتے۔ ان کی تحریریں سرحدوں سے نکل کر انسانی وجود کے ان گوشوں تک پہنچتی ہیں جہاں زبانیں خاموش ہو جاتی ہیں اور انسان خود سے سوال کرنے لگتا ہے۔ گاؤ شِنگ جیان بھی ایسے ہی منفرد تخلیق کار ہیں، جنہوں نے چینی ادب، ڈرامے اور مصوری کو ایک نئے تجرباتی شعور سے روشناس کرایا۔

گاؤ شِنگ جیان 4 جنوری 1940ء کو چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے شہر گانژو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بینک سے وابستہ تھے، جبکہ والدہ شوقیہ اداکارہ تھیں۔ والدہ کی تھیٹر سے وابستگی نے گاؤ شِنگ جیان کے ننھے ذہن میں بہت پہلے ہی اداکاری، ڈرامے اور تحریر سے دلچسپی پیدا کر دی تھی۔ وہ ایسے عہد میں بڑے ہوئے جب چین جاپانی حملے کے اثرات اور بعد ازاں سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے ایک ہنگامہ خیز دور سے گزر رہا تھا۔
ان کی ابتدائی تعلیم چین کے تعلیمی اداروں میں ہوئی اور 1962ء میں بیجنگ کے انسٹی ٹیوٹ آف فارن لینگویجز سے فرانسیسی زبان میں ڈگری حاصل کی۔ زبانوں کے مطالعے نے ان کے ادبی شعور کو وسعت دی اور انہیں چینی روایت کے ساتھ ساتھ مغربی ادب اور جدید ادبی و ڈرامائی رجحانات سے بھی آشنا کیا۔
گاؤ شِنگ جیان کی زندگی اور ادب کو چین کے سیاسی و سماجی حالات سے الگ کرکے سمجھنا مشکل ہے۔ ثقافتی انقلاب (1966ء تا 1976ء) کے دوران انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ نوبل انعام کی سوانحی معلومات کے مطابق وہ جبری مشقت اور نظریاتی تربیت کے کیمپوں میں بھیجے گئے اور انہیں اپنے قلمی مسودات کا ایک پورا سوٹ کیس جلانے پر مجبور ہونا پڑا۔ یوں ان کی ابتدائی تخلیقی زندگی کا ایک حصہ لفظوں کے ساتھ نہیں بلکہ ان لفظوں کو جلتے ہوئے دیکھنے کے تجربے کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔
یہ تجربہ ان کے بعد کے ادب میں انسانی آزادی، فرد کی داخلی خودمختاری اور سیاسی دباؤ سے دور ایک آزاد آواز کی تلاش کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے۔ برسوں بعد نوبل لیکچر میں بھی انہوں نے ادب کو فرد کے انسانی شعور کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ قرار دیا۔
ثقافتی انقلاب کے بعد گاؤ شِنگ جیان نے دوبارہ ادبی دنیا میں قدم رکھا۔ 1979ء سے ان کی تحریریں شائع ہونا شروع ہوئیں اور اسی عرصے میں انہیں بیرونِ ملک سفر کا موقع بھی ملا۔ 1980ء کی دہائی میں انہوں نے افسانے، مضامین، ڈرامے اور ادبی تنقید لکھی۔ جدید ناول کی تکنیک پر ان کی تحریریں چین میں جدیدیت کے حوالے سے ہونے والی ادبی بحث کا حصہ بنیں۔

اسی زمانے میں ان کا ڈرامائی فن بھی نمایاں ہونے لگا۔ 1982ء میں Signal Alarm اور 1983ء میں Bus Stop جیسے ڈراموں نے انہیں جدید چینی تھیٹر میں ایک منفرد مقام دیا۔ Bus Stop نے خاص طور پر توجہ حاصل کی، اگرچہ ان کے تجرباتی اور روایتی تصورات سے ہٹ کر لکھے گئے ڈرامے شدید تنقید کا بھی نشانہ بنے۔
Bus Stop میں انتظار صرف بس کا انتظار نہیں رہتا۔ بس اسٹاپ پر کھڑے کردار دراصل زندگی کی کسی منزل، کسی موقع، کسی تبدیلی اور شاید کسی ایسی نجات کے منتظر دکھائی دیتے ہیں جو مسلسل ان سے دور ہوتی جاتی ہے۔
گاؤ شِنگ جیان کے ڈرامے کی یہی خصوصیت اسے محض واقعاتی تھیٹر سے بلند کرتی ہے۔ عام زندگی کے ایک معمولی منظر میں وہ انسانی بے یقینی، امید، ناکامی اور وقت کے گزرنے جیسے بڑے سوالات تلاش کرتے ہیں۔

1986ء میں ان کے ڈرامے The Other Shore پر پابندی عائد کر دی گئی اور اس کے بعد چین میں ان کے مزید ڈراموں کی پیش کش ممکن نہ رہی۔ اس صورتحال کے بعد گاؤ شِنگ جیان نے چین کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں کا ایک طویل سفر کیا۔ انہوں نے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں تقریباً دس ماہ گزارے اور دریائے یانگ زی کے راستے کا بھی سفر کیا۔ یہی تجربات بعد میں ان کے عظیم ناول کے تخلیقی پس منظر کا حصہ بنے۔
یہ سفر محض جغرافیہ کا سفر نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے ادیب کا سفر تھا جو اپنے گرد موجود سیاسی شور سے دور ہو کر انسان، فطرت، روایت، لوک دانش اور اپنی ذات کے درمیان ایک نیا رشتہ تلاش کر رہا تھا۔
گاؤ شِنگ جیان نے 1987ء میں چین چھوڑ دیا اور اگلے سال فرانس میں سکونت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ فرانسیسی شہری بن گئے۔ 1989ء کے تیانان مین اسکوائر واقعے کے بعد انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کی تحریر Fugitives میں تیانان مین کے سانحے کا پس منظر موجود ہے، جس کے بعد چین میں ان کی تحریروں پر مزید پابندیاں عائد ہوئیں۔
فرانس میں انہیں اپنے تخلیقی کام کے لیے نسبتاً آزاد ماحول ملا۔ انہوں نے لکھنے کے ساتھ ساتھ مصوری، ڈراما اور ادبی تنقید کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ نوبل انعام ملنے کے وقت وہ فرانس میں مقیم تھے۔

گاؤ شِنگ جیان کی سب سے معروف تخلیق Soul Mountain ہے۔ یہ ناول محض ایک مسافر کے سفر کی داستان نہیں بلکہ انسان کی اپنے آپ تک پہنچنے کی کوشش ہے۔
ناول جنوبی اور جنوب مغربی چین کے دور افتادہ علاقوں میں کیے گئے سفر کے مشاہدات سے تشکیل پاتا ہے۔ اس میں مختلف لوگوں، مقامی روایات، لوک داستانوں، قدیم رسوم اور فطرت کے مشاہدات ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔ نوبل کمیٹی کے مطابق یہ ناول مختلف اصناف اور تکنیکوں کا امتزاج ہے اور اس میں بدلتے ہوئے بیانیہ زاویے اور سفر میں ملنے والے مختلف کردار شامل ہیں۔
ناول کا اصل حسن یہ ہے کہ خارجی سفر بتدریج داخلی سفر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پہاڑ، جنگلات، دریا اور دور افتادہ بستیاں صرف منظر نہیں رہتیں بلکہ انسانی روح کی تلاش کے استعارے بن جاتی ہیں۔
گاؤ شِنگ جیان کے فن کا ایک اہم وصف ان کا تجرباتی اسلوب ہے۔ وہ روایتی انداز میں ایک ہی مرکزی کردار کے ذریعے پوری داستان بیان کرنے کے بجائے ’’میں‘‘، ’’تم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کو بھی تخلیقی تکنیک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ان کے نزدیک ایک ہی کردار کو مختلف ضمیروں کے ذریعے دیکھنے سے انسانی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔
نوبل لیکچر میں انہوں نے خود بتایا کہ ان کی فکشن میں ضمائر کا یہ استعمال کردار سے ایک خاص فاصلہ پیدا کرتا ہے اور یہی تکنیک انہوں نے اپنے ڈراموں میں بھی استعمال کی۔ یوں ان کی تحریر میں ’’میں‘‘ صرف مصنف نہیں رہتا، ’’تم‘‘ صرف مخاطب نہیں رہتا اور ’’وہ‘‘ محض کوئی دوسرا شخص نہیں ہوتا یہ تینوں انسانی وجود کو دیکھنے کے مختلف زاویے بن جاتے ہیں۔

گاؤ شِنگ جیان کے ہاں فطرت محض پس منظر نہیں۔ پہاڑ، دریا، جنگل، دھند اور خاموش راستے انسانی تجربے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ فطرت کے مناظر میں ایک ایسی خاموش زبان موجود ہے جو انسانی گفتگو سے کہیں زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے۔
Soul Mountain میں انسان جس فطرت سے گزرتا ہے، وہ اسے اس کی اپنی کمزوری، تنہائی اور محدودیت کا احساس بھی دلاتی ہے۔ پہاڑ اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، دریا بہتے رہتے ہیں، جنگلات اپنی خاموشی میں سانس لیتے رہتے ہیں، جبکہ انسان اپنی مختصر زندگی، یادوں اور سوالات کے ساتھ ان کے درمیان سے گزر جاتا ہے۔
گاؤ شِنگ جیان کے سفر میں چین کے دور افتادہ علاقوں کی ثقافت اور لوک روایت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قدیم داستانیں، مقامی عقائد، شمن ازم کی قدیم رسومات اور تاؤ مت کے تصورات ان کے ادبی منظرنامے کو گہرائی عطا کرتے ہیں۔
وہ جدید انسان کو اس کے ماضی سے کاٹ کر نہیں دیکھتے۔ ان کے ہاں ماضی ایک ایسی خاموش موجودگی ہے جو حال کے ہر لمحے میں کسی نہ کسی صورت سانس لیتی رہتی ہے۔اسی لیے Soul Mountain میں سفر صرف جغرافیائی فاصلوں کا طے ہونا نہیں بلکہ یادداشت کے راستوں پر چلنے کا نام بھی ہے۔
گاؤ شِنگ جیان کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ان کی مصوری ہے۔ وہ سیاہی کی مصوری کے فن سے وابستہ رہے اور ان کے فن پاروں کی بین الاقوامی سطح پر متعدد نمائشیں بھی ہوئیں۔ وہ اپنی کتابوں کے سرورق بھی خود بناتے رہے۔ ان کے لیے ادب اور مصوری دو الگ دنیائیں نہیں بلکہ ایک ہی تخلیقی شعور کے دو اظہار ہیں۔ لفظ جہاں کسی منظر کو بیان کرتا ہے، وہاں لکیر اور سیاہی اسی منظر کو خاموشی میں محسوس کراتی ہے۔
جیان کے ادب کا بنیادی سوال انسان کی آزادی اور اس کی داخلی خودمختاری سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے کردار ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہیں اور سفر کرتے ہوئے بھی اپنے اندر کسی منزل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ان کے ہاں تنہائی ہمیشہ منفی کیفیت نہیں۔ کبھی یہی تنہائی انسان کو اپنے آپ سے ملاقات کا موقع فراہم کرتی ہے۔ جب بیرونی دنیا کا شور کم ہوتا ہے تو اندر کی آواز زیادہ صاف سنائی دینے لگتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ گاؤ شِنگ جیان کے لیے ادب محض سماج کی اصلاح کا وسیلہ نہیں بلکہ انسانی شعور کو محفوظ رکھنے کی ایک صورت بھی ہے۔ نوبل لیکچر میں انہوں نے ادب کو انسان کے اپنے وجود اور شعور کی طرف متوجہ ہونے کے عمل سے جوڑا۔

گاؤ شِنگ جیان کو 2000ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔ نوبل کمیٹی نے ان کے کام کو ’’عالمگیر معنویت‘‘، گہری بصیرت اور لسانی جدت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تخلیقات نے چینی ناول اور ڈرامے کے لیے نئے راستے کھولے۔
یہ اعزاز صرف ایک ناول یا ایک ڈرامے کا اعتراف نہیں تھا بلکہ کئی دہائیوں پر محیط اس تخلیقی سفر کی پذیرائی تھی جس میں ناول، ڈراما، افسانہ، تنقید، ترجمہ اور مصوری ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔
گاؤ شِنگ جیان کی زندگی خود ایک ناول کی طرح ہے جس کا آغاز چین کے ایک شہر گانژو سے ہوتا ہے، ثقافتی انقلاب کے ہنگامہ خیز زمانے سے گزرتا ہے، مسودوں کے جلنے کا دکھ دیکھتا ہے، چین کے پہاڑوں اور جنگلوں میں بھٹکتا ہے، جلاوطنی کے راستے فرانس پہنچتا ہے اور بالآخر ادب کے سب سے بڑے عالمی اعزاز تک جا پہنچتا ہے۔مگر ان کی اصل منزل شاید نوبل انعام بھی نہیں۔ ان کی اصل منزل وہ ’’روح کا پہاڑ‘‘ ہے جہاں خارجی سفر ختم ہو کر داخلی سفر شروع ہوتا ہے۔
ان کا ادب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کبھی کبھی پوری دنیا گھومنے کے بعد بھی اپنے آپ سے دور رہتا ہے، اور کبھی ایک خاموش پہاڑی راستے پر چلتے ہوئے اپنے وجود کے سب سے قریب پہنچ جاتا ہے۔
گاؤ شِنگ جیان ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ادب کا سب سے بڑا سفر شاید وہی ہے جس میں انسان دنیا کو دیکھتے دیکھتے خود کو دیکھنا شروع کر دے۔ ان کے الفاظ میں سفر ختم نہیں ہوتا، وہ قاری کے اندر ایک نئے سوال، ایک نئی تصویر اور ایک نئی خاموشی کی صورت زندہ رہتا ہے۔



