دسمبر تک نجی ایئرلائنز کے بیڑے میں مزید طیارے شامل ہونے کی توقع

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں سیکریٹری وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ دسمبر تک نجی ایئرلائنز کے بیڑے میں مزید طیارے شامل ہونے کی توقع ہے، جس سے پروازوں کی دستیابی اور سروسز کا معیار بہتر ہوگا۔
سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت اجلاس میں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی صورتحال، پروازوں میں تاخیر اور اس کی وجوہات پر بریفنگ دی گئی۔
سیکریٹری دفاع کے مطابق تکنیکی مسائل بھی پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں، جبکہ ایک طیارے کی تاخیر پورے آپریشنل نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بلوچستان کے ایئرپورٹس پر خصوصی توجہ دی گئی، پروازوں کی تعداد بڑھائی گئی اور کئی ایئرپورٹس پر نائٹ فلائٹ کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی۔
سیکریٹری دفاع نے کہا کہ پشاور ایئرپورٹ کو مکمل تزئین و بحالی اور نئے ٹرمینل کی ضرورت ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا نے پشاور سے سوات اور لاہور کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے اور ڈیرہ اسماعیل خان ایئرپورٹ بحال کرکے کمرشل پروازیں چلانے کی تجویز دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گلگت کے لیے پی آئی اے کے 2 اے ٹی آر طیارے آپریٹ کر رہے ہیں، جبکہ آئندہ سیزن تک مزید طیارے شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ گلگت ایئرپورٹ کے رن وے اور لائٹنگ سسٹم کو بھی جدید اور بحال کردیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق 1800 ایکڑ رقبے پر نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی حتمی مراحل میں ہے، جبکہ حتمی مقام کا انتخاب کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا جائے گا۔
سیکریٹری دفاع کے مطابق پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے بعد نجی ایئرلائنز اپنی آپریشنل صلاحیت بڑھا رہی ہیں، جبکہ علاقائی اور مختصر فاصلے کے روٹس پر چھوٹے طیاروں کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔



