latest newsPoliticsWorld

ٹرمپ کا ایران کو انتباہ، جوہری معاہدہ یا ’تباہی‘ کا آپشن زیرِ غور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بڑا فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا اسے تباہی کی طرف دھکیلا جائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے، اس کی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور امریکی سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومت کی معاشی اور داخلی سلامتی سے متعلق پالیسیوں کو بھی سراہا۔

ایران کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے امریکا کے ساتھ معاہدے کی پیشکش مسترد کی اور ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کے امکانات نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد پیدا ہوسکتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 2025 کی جنگ بندی کا بھی ذکر کیا اور ایک مرتبہ پھر اس میں اپنے کردار کا حوالہ دیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

امریکی صدر نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر بھی تنقید کی اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت سے علیحدگی اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو ایسے ٹریبونلز کے سامنے پیش ہونے کی اجازت نہیں دے گا جنہیں وہ امریکا مخالف سمجھتے ہیں۔

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی امریکی بحریہ کے کردار کا ذکر کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی افواج کی نگرانی میں تقریباً 1,500 تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جو تقریباً 75 کروڑ بیرل خام تیل لے کر گئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button