احسن اقبال کی آئی ایم ایف مذاکرات میں پلاننگ کمیشن کو شامل کرنے کی سفارش

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم میں پلاننگ کمیشن کے نمائندے کو شامل کرنے کی سفارش کردی۔
احسن اقبال نے کہا کہ 7 ارب ڈالر کا آئی ایم ایف پروگرام صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات اقتصادی ترقی اور عوام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کی نمائندگی سے مذاکرات میں ترقی اور عوامی اثرات کے پہلوؤں کو بھی شامل کیا جاسکے گا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے چوتھے جائزے کا عمل ستمبر 2026 میں طے شدہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اس جائزے کا تعلق جون 2026 کے اختتام تک پروگرام کے اہداف سے ہے۔
احسن اقبال نے جماعت اسلامی، کسانوں اور دیگر سیاسی و سماجی گروہوں سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ منسوخ کرنے کی اپیل بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کے معاشی ترقی کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبات پر احتجاج کر رہی ہے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں، تاہم مارچ مؤخر کرنے کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی حالات سے متاثر ہوتی ہیں، جبکہ شرح سود سے متعلق فیصلے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
احسن اقبال نے سیاسی اختلافات پارلیمنٹ اور عدالتوں کے ذریعے حل کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ سیاسی کشیدگی اور بدامنی سے پاکستان کی معاشی ترقی متاثر ہوسکتی ہے۔



