CNN، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کا وائٹ ہاؤس کے خلاف مقدمہ، ٹرمپ کا سخت ردعمل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں رسائی پر پابندی کے بعد CNN، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ تینوں اداروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صحافیوں کی اسناد منسوخ کرنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادیٔ صحافت کی خلاف ورزی ہے۔
مقدمے میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر وائٹ ہاؤس حکام کو پابندی پر عمل درآمد سے روکا جائے۔ میڈیا اداروں کے مطابق ان کے صحافیوں کی اسناد بغیر پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے منسوخ کی گئیں۔
ٹرمپ نے مقدمے پر ردعمل دیتے ہوئے تینوں میڈیا اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی رپورٹنگ کو ’فیک نیوز‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ممکنہ طور پر اس مقدمے کے خلاف اپیل بھی کرے گی۔
ادھر CNN، اے بی سی، سی بی ایس، فاکس نیوز اور این بی سی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ عوام کو حکومت کے بارے میں درست اور آزاد معلومات حاصل کرنے کا حق ہے اور کسی انتظامیہ کو اپنی رپورٹنگ پر اعتراض کی بنیاد پر کسی نیوز ادارے کی رسائی محدود نہیں کرنی چاہیے۔
پابندی کے بعد وائٹ ہاؤس کی ٹی وی پریس پول کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ CNN کو صدر ٹرمپ کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک کے دورے کی کوریج سے بھی الگ کردیا گیا، جس کے بعد بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے مشترکہ طور پر پول کوریج معطل کردی۔
ٹرمپ نے 18 ستمبر کو CNN، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس سے روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ہفتے کے روز تینوں اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکا گیا اور بعض کے پریس بیجز بھی ضبط کرلیے گئے۔
یہ معاملہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادیٔ صحافت اور وائٹ ہاؤس تک میڈیا کی رسائی کے حوالے سے قانونی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔



