latest newsWorld

ایران کا امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ، واشنگٹن نے اسے خراب ڈرون قرار دے دیا

تہران: ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکا کی جدید بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والا زیرِ آب ڈرون پرانا ماڈل تھا جو خراب ہونے کے بعد سمندر میں رہ گیا تھا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق قبضے میں لی گئی آبدوز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اسے امریکی دفاعی کمپنی اینڈوریل نے تیار کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اسے ’ڈائیو ایل ڈی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جدید ترین خودکار زیرِ آب نظاموں میں شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سمندری نگرانی پر مامور ایک ڈرون آبدوز لاپتہ ہوئی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ معمول کے سروے پر مامور ایک پرانا ماڈل تھا جو ایک روز قبل خراب ہوگیا تھا۔ امریکی مؤقف کے مطابق آبدوز میں حساس ڈیٹا، خفیہ ریڈار یا اہم آلات موجود نہیں تھے۔

رائٹرز کے مطابق ڈائیو ایل ڈی تقریباً 6 میٹر لمبی خودکار آبدوز ہے، جس کی قیمت امریکی فوجی حکام نے 2024 میں تقریباً 25 لاکھ ڈالر بتائی تھی۔ یہ مصنوعی ذہانت اور جدید سونار سے لیس ہے اور طویل عرصے تک سمندری نگرانی، جاسوسی اور سمندر کی تہہ کا نقشہ بنانے جیسے کام انجام دے سکتی ہے۔

یہ زیرِ آب ڈرون بارودی سرنگوں کی تلاش اور انہیں ناکارہ بنانے کے علاوہ سمندر میں موجود کمیونیکیشن کیبلز، تیل و گیس کی پائپ لائنز کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کی خاص صلاحیتوں میں کئی روز یا ہفتوں تک بغیر انسانی مداخلت سمندر میں کام کرنا بھی شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ آبدوز تقریباً 6 ہزار میٹر کی گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو 2023 میں ٹائٹینک کے ملبے کی جانب سفر کے دوران تباہ ہونے والی ’ٹائٹن‘ آبدوز کی زیادہ سے زیادہ گہرائی سے تقریباً دوگنی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران کو اس ڈرون کے جدید نظام تک رسائی حاصل ہوئی ہے تو اسے امریکی زیرِ آب ٹیکنالوجی کے بارے میں اہم معلومات مل سکتی ہیں۔ تاہم اینڈوریل کا مؤقف ہے کہ ان ڈرونز کو ممکنہ طور پر گم ہونے کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ڈیزائن کیا جاتا ہے، اس لیے اس واقعے سے ٹیکنالوجی کو بڑا خطرہ لاحق نہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کے ہاتھوں امریکی زیرِ آب ڈرون کے مبینہ قبضے کو تہران کے لیے ایک اہم نفسیاتی اور انٹیلی جنس کامیابی کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button