آئی اے ای اے نے 20 سال بعد ایران کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیج دیا

ویانا: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کی جوہری معاہدے کی مبینہ عدم تعمیل کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے کے حق میں قرارداد منظور کرلی۔
قرارداد کے حق میں 23 ارکان نے ووٹ دیا، 3 نے مخالفت کی جبکہ 8 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ روس، چین اور نائجر نے قرارداد کی مخالفت کی۔
قرارداد میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو رپورٹ پیش کریں۔ ایران سے اپنے جوہری پروگرام کی مکمل پُرامن نوعیت پر عالمی اعتماد بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اور بلاشرط مذاکرات کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
آئی اے ای اے کے مطابق ایران اپنے ملک میں یورینیئم کی باقیات سے متعلق مقامات کے معائنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد تقریباً 20 سال بعد پہلا موقع ہے جب ایران کی جوہری رپورٹنگ سے متعلق ذمہ داریوں کی عدم پاسداری کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام بڑی حد تک علامتی نوعیت کا ہے، کیونکہ ایران کے اتحادی روس اور چین سلامتی کونسل میں تہران کے خلاف کسی بھی پابندی کی قرارداد کو ویٹو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم آئی اے ای اے کی شکایت کے بعد ایران پر مزید پابندیوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مغربی حکام کا مؤقف ہے کہ یورینیئم کی باقیات سے ایسے شواہد مل سکتے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ ایران نے 2003 تک ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام جاری رکھا تھا۔
دوسری جانب ایران نے قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ تہران مسلسل جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اسے پُرامن شہری مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔



