اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تیار ہونے والی مصنوعات پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے جواب میں مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے منگل کو کہا کہ برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیوں کے اعلان کے ردعمل میں اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں قائم برطانوی قونصل خانہ بند کر رہا ہے۔
گیڈون سار نے کہا کہ برطانیہ کو اب غزہ کے لیے امریکی قیادت میں کام کرنے والے رابطہ مشن میں شرکت کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کو دی جانے والی برطانوی تربیت بھی ختم کردی جائے گی، جبکہ بعض منتخب برطانوی عہدیداروں اور شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے گی۔
برطانوی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں قائم برطانوی قونصل خانہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ میں برطانوی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے برطانوی تجارتی پابندیوں کے اعلان سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں پر تجارتی پابندیاں عائد کیں تو امریکا کی جانب سے ردعمل سامنے آسکتا ہے اور امریکی ریاستوں میں برطانوی کاروبار کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت 12 ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے یا ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کے اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
مشترکہ بیان کے مطابق ان ممالک نے بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دی گئی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر قومی سطح پر پابندیاں عائد کرنے یا یورپی پابندیوں کی حمایت کا عزم ظاہر کیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دارالعوام میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا پر تجارتی پابندی کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ اب ناانصافی پر محض ’’آواز اٹھانے‘‘ تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی مخالفت میں ’’عملی اقدام‘‘ کا وقت آ گیا ہے۔



