health & Foodlatest news

پہیلیاں اور معمے حل کرنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ کم ہوسکتا ہے، تحقیق

ہر فرد کبھی نہ کبھی چیزیں، نام یا دیگر تفصیلات بھول جاتا ہے، تاہم بار بار ایسا ہونا یادداشت کی کمزوری کی علامت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جینیاتی عوامل کے ساتھ غذا اور طرز زندگی بھی یادداشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پہیلیاں اور معمے حل کرنے سمیت دماغ کو متحرک رکھنے والی سرگرمیاں عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت اور دماغی صلاحیتوں کو بہتر رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

جرنل لانسیٹ پرائمری کیئر میں شائع تحقیق میں 60 سے 85 سال کی عمر کے 11 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا کو تین گروپس میں تقسیم کیا گیا، جن میں ایک گروپ کو غذا، ورزش اور دماغی سرگرمیوں، دوسرے کو اچھی غذا، جسمانی سرگرمی اور پہیلیاں حل کرنے جبکہ تیسرے گروپ کو ٹیلی فون سیشنز میں شامل کیا گیا۔

ایک سال بعد تینوں گروپس کی دماغی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی، تاہم پہیلیاں اور معمے حل کرنے والے گروپ نے دماغی ٹیسٹ میں سب سے زیادہ اسکور حاصل کیا۔

تحقیق کے مطابق اس گروپ میں معمولی دماغی تنزلی میں 8 فیصد جبکہ سنگین دماغی تنزلی کی شرح میں 18 فیصد کمی دیکھی گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ دماغ لچکدار ہوتا ہے اور اسے مسلسل متحرک رکھنا ضروری ہے، جبکہ پہیلیاں اور معمے حل کرنا ایسی آسان سرگرمیاں ہیں جنہیں روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button