column and articlelatest news

سچائی، شفافیت اور باخبر معاشرے کی جستجو ۔۔۔۔ آج معلومات تک رسائی کا عالمی دن ہے

خالد منصور

معلومات انسانی شعور کی وہ روشنی ہے جو جہالت کے اندھیروں کو چھانٹتی، سوالوں کو جنم دیتی اور انسان کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔ کسی بھی مہذب اور باشعور معاشرے کی تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے شہریوں کو اپنے اردگرد کی دنیا، ریاستی اداروں، قوانین، فیصلوں اور اجتماعی معاملات کے بارے میں درست اور قابلِ اعتماد معلومات میسر نہ ہوں۔ اسی بنیادی ضرورت اور انسانی حق کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 28 ستمبر کو معلومات تک رسائی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

یہ دن محض ایک رسمی یادگار نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہے کہ معلومات کو چند ہاتھوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ہر شہری تک پہنچایا جائے، کیونکہ باخبر شہری ہی اپنے حقوق و فرائض کو سمجھ سکتا اور معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

انسانی تاریخ میں معلومات کا سفر ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ ایک زمانہ تھا جب علم اور معلومات مخصوص طبقات، درباروں اور اداروں تک محدود سمجھی جاتی تھیں۔ وقت کے ساتھ انسانی شعور نے یہ حقیقت تسلیم کی کہ معلومات پر چند افراد کی اجارہ داری نہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی ایک صحت مند معاشرے کی ضرورت پوری کرسکتی ہے۔

آزادیِ اظہار اور معلومات تک رسائی کے حق کو عالمی سطح پر بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ جوڑا گیا۔ عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 19 میں ہر انسان کے لیے معلومات اور خیالات تلاش کرنے، حاصل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ اسی سوچ نے دنیا کے مختلف ملکوں میں حقِ معلومات کے قوانین اور ادارہ جاتی نظام کی بنیاد مضبوط کی۔

17 نومبر 2015 کو UNESCO کی جنرل کانفرنس نے 28 ستمبر کو معلومات تک رسائی کے عالمی دن کے طور پر منانے کی منظوری دی، جبکہ 28 ستمبر 2016 کو یہ دن پہلی مرتبہ عالمی سطح پر منایا گیا۔ بعد ازاں 2019 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اس دن کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرلیا۔

یوں 28 ستمبر ایک ایسی عالمی علامت بن گیا جس کا تعلق صرف معلومات کے حصول سے نہیں بلکہ شفافیت، انسانی وقار، جمہوری شعور اور اجتماعی ذمہ داری سے بھی ہے۔ رواں برس کا موضوع اپنے اندر ایک نہایت اہم سوال سموئے ہوئے ہے۔

’’ڈیجیٹل دور میں معلومات کی صحت و صداقت کا تحفظ: معلوماتی انتشار سے نمٹنے میں معلومات تک رسائی کا کردار‘‘

یہ موضوع اس عہد کی سب سے بڑی حقیقت کی طرف ہماری توجہ دلاتا ہے۔ آج معلومات کا قحط نہیں، بلکہ معلومات کی بہتات ہے۔ ایک کلک پر دنیا بھر کی خبریں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں، ایک پوسٹ چند لمحوں میں ہزاروں اور لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے اور ایک وڈیو، تصویر یا پیغام بیک وقت بے شمار ذہنوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

لیکن اس سہولت کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے: کون سی بات سچ ہے اور کون سی محض ایک افواہ؟

ڈیجیٹل دنیا نے معلومات تک رسائی کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر اس کے ساتھ غلط، نامکمل، گمراہ کن اور جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ نے بھی رفتار اختیار کرلی ہے۔ بعض اوقات ایک غیر مصدقہ خبر، ایک جعلی تصویر یا سیاق و سباق سے ہٹایا گیا جملہ اس تیزی سے پھیلتا ہے کہ حقیقت کو اپنی وضاحت کے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے آج معلوماتی انتشار کہا جاتا ہے۔

کسی معاشرے میں جھوٹی خبر صرف ایک غلط اطلاع نہیں ہوتی۔ یہ خوف پیدا کرسکتی ہے، بے یقینی بڑھا سکتی ہے، لوگوں کو غلط فیصلوں پر مائل کرسکتی ہے اور ریاستی و سماجی اداروں پر اعتماد کو متاثر کرسکتی ہے۔

جب سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق دھندلا جائے تو صرف معلومات متاثر نہیں ہوتیں، پورا معاشرتی شعور متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے آج حقِ معلومات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ شہریوں کو ایسی معلومات درکار ہیں جو صرف دستیاب نہ ہوں بلکہ مستند، بروقت، واضح اور قابلِ تصدیق بھی ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ معلومات تک رسائی اور معلومات کی صحت و صداقت اب ایک دوسرے سے جدا موضوعات نہیں رہے۔

معلومات تک رسائی شفاف حکمرانی کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ جب سرکاری ادارے اپنے فیصلوں، پالیسیوں، منصوبوں اور کارکردگی کے بارے میں ضروری معلومات عوام کے سامنے رکھتے ہیں تو ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔عوامی ادارے دراصل عوام ہی کے وسائل سے چلتے ہیں، اس لیے ان کے معاملات میں شفافیت صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک جمہوری تقاضا بھی ہے۔

ایک باخبر شہری سوال پوچھ سکتا ہے، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتا ہے، ریاستی پالیسیوں کو سمجھ سکتا ہے اور قومی معاملات میں زیادہ ذمہ داری سے حصہ لے سکتا ہے۔ یوں معلومات صرف ایک دستاویز نہیں رہتی بلکہ شہری اختیار اور اجتماعی شعور میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

صحافت اور معلومات تک رسائی کا رشتہ بھی نہایت گہرا ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی کے لیے سرکاری دستاویزات، اعداد و شمار، رپورٹس اور عوامی ریکارڈ تک رسائی تحقیقاتی صحافت کا بنیادی وسیلہ بنتی ہے۔

صحافی جب مستند معلومات تک پہنچتا ہے تو وہ افواہ اور حقیقت کے درمیان فرق واضح کرسکتا ہے۔ وہ ایسے سوالات اٹھا سکتا ہے جو عام نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور ایسے معاملات کو منظرِ عام پر لاسکتا ہے جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں۔

تاہم معلومات کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ جس طرح اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ درست معلومات فراہم کریں، اسی طرح صحافت اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں اور غیر مصدقہ مواد کو حقیقت بنا کر پیش نہ کریں۔

ٹیکنالوجی نے دنیا کو معلوماتی اعتبار سے پہلے سے کہیں زیادہ قریب کردیا ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات کے حصول میں جغرافیائی فاصلے تقریباً ختم کردیئے ہیں۔

آج ایک طالب علم دنیا کی کسی بھی معروف لائبریری یا تحقیقی ادارے کے مواد تک گھر بیٹھے رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ ایک عام شہری سرکاری ادارے کی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کرسکتا ہے اور ایک محقق ہزاروں میل دور موجود دستاویزات کا مطالعہ کرسکتا ہے۔

مگر یہی ٹیکنالوجی ایک خطرہ بھی بن سکتی ہے، اگر اسے غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ذرائع نے اس امکان کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کہ حقیقت سے ملتا جلتا جعلی مواد تیار کیا جائے۔ ایسے ماحول میں میڈیا اور معلوماتی خواندگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

پاکستان میں معلومات تک رسائی کو محض اخلاقی اصول نہیں بلکہ آئینی حق کی حیثیت حاصل ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19-A کے تحت ہر شہری کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیا گیا ہے، البتہ قانون کے تحت ضابطے اور مناسب پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

یہ آئینی ضمانت اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان میں شہری اور ریاست کے درمیان تعلق صرف حکمرانی اور اطاعت تک محدود نہیں بلکہ معلومات، شفافیت اور جواب دہی سے بھی عبارت ہے۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن جیسے اداروں کا قیام بھی اسی سوچ کا حصہ ہے کہ شہریوں کو معلومات کے حصول کے لیے ایک باقاعدہ اور مؤثر راستہ میسر ہو۔ سرکاری ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن اور آن لائن معلومات کی فراہمی بھی اسی سفر کی اہم کڑیاں ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ حق صرف قانون کی کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہری کی زندگی میں بھی اس کے عملی ثمرات دکھائی دیں۔ حقِ معلومات کا ذکر آئے تو اسے اکثر سرکاری فائلوں، قانونی دفعات اور ادارہ جاتی اصطلاحات میں سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی اصل اہمیت عام انسان کی زندگی میں سامنے آتی ہے۔

ایک طالب علم کے لیے تعلیمی مواقع سے متعلق درست معلومات، ایک شہری کے لیے سرکاری خدمات کا علم، ایک کسان کے لیے زرعی پالیسیوں کی تفصیل، ایک روزگار کے متلاشی شخص کے لیے مواقع کی خبر اور ایک ووٹر کے لیے عوامی معاملات سے متعلق مستند معلومات ، یہ سب حقِ معلومات ہی کے وسیع دائرے کا حصہ ہیں۔معلومات تک رسائی دراصل انسان کو بے خبری کے اندیشے سے نکال کر شعوری فیصلے کی دنیا میں لے جاتی ہے۔

آج دنیا میں ترقی کا تصور بھی صرف معاشی خوشحالی تک محدود نہیں۔ پائیدار ترقی کے لیے شفاف ادارے، جواب دہ حکومتیں، فعال شہری اور معلومات تک رسائی رکھنے والے معاشرے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں بھی عوامی سطح پر معلومات تک رسائی اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کو اہمیت دی گئی ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ معلومات کا معاملہ محض صحافت یا سرکاری ریکارڈ تک محدود نہیں بلکہ غربت، تعلیم، انصاف، ماحولیات، انسانی حقوق اور معاشی ترقی جیسے وسیع تر موضوعات سے جڑا ہوا ہے۔

28 ستمبر کا دن ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہمارے پاس معلومات کتنی ہیں، اہم سوال یہ ہے کہ ہمیں درست معلومات کتنی آسانی سے دستیاب ہیں۔

ریاستی اداروں کو چاہیے کہ عوامی مفاد کی معلومات بروقت اور واضح انداز میں فراہم کریں۔ میڈیا کو تحقیق اور تصدیق کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مرکز بنانا چاہیے۔ تعلیمی اداروں کو نوجوانوں میں میڈیا اور معلوماتی شعور پیدا کرنا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ڈیجیٹل دنیا میں صحت مند اور ذمہ دار معلوماتی ماحول کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ شہریوں کو بھی کسی خبر، تصویر یا پیغام کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صحت جانچنے کی عادت اپنانا ہوگی۔

معلومات تک رسائی کا عالمی دن دراصل سچ کی تلاش کا دن ہے؛ سوال کرنے کے حق کا دن ہے؛ شفافیت کے عہد کا دن ہے اور اس خواب کی یاد دہانی ہے جس میں ہر شہری کو اپنی زندگی اور اپنے معاشرے سے متعلق درست معلومات میسر ہوں۔

آج کے ڈیجیٹل عہد میں اصل چیلنج معلومات کی کمی نہیں بلکہ درست معلومات اور غلط معلومات میں امتیاز ہے۔ اس لیے ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کرنا ہوگی جہاں معلومات صرف تیزی سے سفر نہ کریں بلکہ صداقت کے ساتھ سفر کریں۔

کیونکہ جب معلومات آزاد، درست اور قابلِ اعتماد ہوتی ہیں تو شعور پروان چڑھتا ہے، اعتماد مضبوط ہوتا ہے، ادارے جواب دہ بنتے ہیں اور معاشرہ ترقی کی زیادہ پائیدار راہوں پر گامزن ہوتا ہے۔

28 ستمبر ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ باخبر شہری محض معلومات رکھنے والا فرد نہیں ہوتا، بلکہ وہ شخص ہوتا ہے جو حقیقت کو پہچاننے، سوال اٹھانے اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے علم کو استعمال کرنے کا شعور بھی رکھتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button