وزیراعظم شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب، کشمیر، فلسطین، سعودی عرب اور دہشتگردی سمیت اہم امور پر مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن، کشمیر، فلسطین، سعودی عرب کی سلامتی، دہشتگردی اور پاک بھارت تعلقات سمیت مختلف اہم امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کردار ادا کیا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر اور چین سمیت دوست ممالک کی امن کوششوں کو سراہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں اور انہیں تنازع کے مرکز میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔
فلسطین کے معاملے پر شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام کئی نسلوں سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دہشتگردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانیاں دیں اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان، بی ایل اے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور افغان حکام سے اس حوالے سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔



