latest newsPakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کی دفعات 3 اور 16 کو کالعدم قرار دینے کیلئے ایم پی اے شفیع جان کی جلد سماعت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس مقرر کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے وکیل اظہر صدیق کی جانب سے مرکزی درخواست کی آج ہی سماعت مقرر کرنے کی استدعا مسترد کردی، وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ تین مرتبہ درخواستیں دے چکے ہیں لیکن کیس ارجنٹ سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو رہا، استدعا ہے کہ مرکزی کیس کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ میں چیف جسٹس نہیں ہوں جو آفس کو کیس فکس کرنے کی ہدایت دوں، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ بڑی مشکل ہے، کیس فکس نہیں ہو رہا،عدالت نے کہا کہ فکر نہ کریں، ہم آپ کی مشکل آسان کریں گے، وکیل نے مزید کہا کہ انہوں نے نظر بندی کے 15 ہزار آرڈر ختم کرائے ہیں، لاہور ہائیکورٹ کے مختلف ججز کی جانب سے نظر بندیوں کے حوالے سے مختلف فیصلے سامنے آئے ہیں، جسٹس امجد رفیق نے بھی ہزاروں نظر بندی کے آرڈر ختم کیے ہوں گے۔ جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ تمام ججز قابل احترام ہیں، آپ یہاں کسی کی بات نہ کریں۔ وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ٹیکنیکلیٹیز میں پڑ کر انصاف کا راستہ نہیں روکا جا سکتا، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ جو دلائل دے رہے ہیں کیا یہ چیزیں اس درخواست میں موجود ہیں؟

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم اور ڈرائیور کی نظر بندی کیخلاف شاہریز کی درخواست پر نظر بندی کے نوٹیفکیشن سے متعلق فریقین سے رپورٹ طلب کرلی،
ہوم ڈیپارٹمنٹ نے رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علیمہ خانم کی نظر بندی سے متعلق درخواست سماعت کے لیے پیر کے روز مقرر کردی گئی ہے، درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے ایف آئی آر کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے احکامات جاری کئے تھے، جبکہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی اور حقائق کے منافی ہے، استدعا ہے کہ ایس پی اور ڈپٹی کمشنر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرکے عدالت ان سے وضاحت طلب کرے، رانا مدثر عمر نے مزید بتایا کہ ادویات اور کپڑے جیل میں نہیں جانے دیئے جا رہے، عدالت ادویات اور کپڑے فراہم کرنے کے احکامات جاری کرے، عدالت نے ریمارکس دیٹے کہ اس معاملے کے لیے الگ متفرق درخواست دائر کریں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نےنے آئی سی ایس میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود پوزیشن کا اعلان نہ کرنے کیخلاف درخواست پر چیئرمین لاہور بورڈ سے جواب طلب کرلیا، وکیل اسرار الحق نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار نے 1134 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ دو دیگر طلبہ صبحان ظہور اور حاجی عبداللہ نے بھی 1134 نمبر حاصل کئے، لاہور بورڈ نے درخواست گزار کے علاوہ صبحان ظہور اور حاجی عبداللہ کی دوسری پوزیشن کا اعلان کردیا جبکہ درخواست گزار کی دوسری پوزیشن کا اعلان نہیں کیا گیا، جس کے باعث اسکالرشپ نہیں مل رہی، استدعا ہے کہ عدالت لاہور بورڈ کو آئی سی ایس میں دوسری پوزیشن کے لیے اس کے نام کا اعلان کرنے کا حکم دے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد ابن عزیز نے پولیس کی رپورٹ کی روشنی میں 22 سالہ خاتون رخسانہ کی بازیابی کی درخواست نمٹا دی، پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور انہیں بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ رخسانہ مائی کی شادی تقریباً چار سال قبل محمد ثقلین سے ہوئی تھی اور شادی کے بعد مبینہ طور پر اسے محبوس رکھا گیا، رخسانہ مائی نے موقع ملنے پر اپنے والد کو حالات سے آگاہ کیا، جس پر والد نے بیٹی کی بازیابی کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا، رخسانہ مائی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی جان، عزت اور آزادی کو خطرہ لاحق ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس شیریں عمران نے خاتون کیخلاف سسرال سے مبینہ طور پر زیورات اور نقدی چوری کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کے جسٹس آف پیس کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، وکیل ناصر چوہان نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار خاتون نے شوہر سے علیحدگی کے بعد خلع کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے جبکہ سسرالیوں نے خاتون پر گھر سے زیورات اور نقدی چوری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کی، گوجرانوالہ کے جسٹس آف پیس نے حقائق کا درست جائزہ لیے بغیر
درخواست گزار خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی آسامیوں پر تعیناتی نہ ہونے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے غیر مشروط معافی پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کو ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم واپس لے لیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے حافظ سہیل رضا اور محمد شہباز کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ مبشر الثاقب جبکہ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور رضا کاظمی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’’فوڈ اتھارٹی لوگوں کو جرمانے کرتی ہے، آپ کو بھی جرمانہ ادا کرنا چاہیے‘‘، عدالت نے قرار دیا کہ سال 2019 سے پنجاب فوڈ اتھارٹی اپنے دلائل مکمل نہیں کر رہی، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ اتھارٹی نے نئے وکیل کی خدمات حاصل کرلی ہیں، آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کر دیے جائیں گے، غیر مشروط معافی پر عدالت نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی آسامیوں کے لیے درخواستیں دی تھیں، تاہم ان سے کم نمبر لینے والے امیدواروں کو تعینات کر دیا گیا، انٹرویو کے پانچ نمبر مقرر کیے گئے تھے اور انٹرویو میں نمبر نہ لینے والوں کی تعیناتی نہ کرنے کا غیر قانونی حکم جاری کیا گیا، درخواست گزاروں نے انٹرویو کے علاوہ دیگر مراحل میں زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں، عدالت پنجاب فوڈ اتھارٹی کو درخواست گزاروں کی تعیناتی کا حکم دے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button