پاکستان کی آٹو کمپنیوں کے منافع میں 39 فیصد اضافہ

لاہور(عمران اسلم) کے ایس ای 100 انڈیکس میں شامل آٹو موبائل کمپنیوں کے مجموعی منافع میں مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیاد پر 39.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد منافع 28.4 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی فروخت، نئے ماڈلز کی لانچنگ اور آٹو فنانسنگ میں اضافے نے کمپنیوں کی آمدنی اور منافع میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
آٹو سیکٹر کی مجموعی آمدنی 33.7 فیصد اضافے سے 310.9 ارب روپے جبکہ مجموعی منافع 29 فیصد بڑھ کر 46.9 ارب روپے ہوگیا۔ سیکٹر کا مجموعی مارجن 15.1 فیصد اور خالص منافع کا مارجن 9.1 فیصد رہا۔
رپورٹ کے مطابق مسافر گاڑیوں، لائٹ کمرشل وہیکلز اور فور بائی فور گاڑیوں کی فروخت 32.4 فیصد اضافے سے 62 ہزار 416 یونٹس ہوگئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 47 ہزار 155 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔
جون 2026 کے اختتام تک آٹو فنانسنگ 38 فیصد اضافے سے 381.69 ارب روپے ہوگئی، جو گزشتہ سال 277 ارب روپے تھی۔ سیکٹر کی دیگر آمدنی بھی 53.5 فیصد بڑھ کر 11.4 ارب روپے رہی۔
سازگار انجینئرنگ ورکس نے سب سے زیادہ منافع کمایا، جس کی سہ ماہی آمدنی 150.6 فیصد اضافے سے 8.7 ارب روپے ہوگئی۔ اٹلس ہونڈا کا منافع 25.2 فیصد بڑھ کر 6 ارب روپے، ہونڈا اٹلس کارز کا تقریباً تین گنا اضافے سے 2.5 ارب روپے اور ملت ٹریکٹرز کا 36.3 فیصد اضافے سے 1.8 ارب روپے ہوگیا۔
دوسری جانب انڈس موٹرز کا منافع 5.4 فیصد کمی سے 6.1 ارب روپے جبکہ گندھارا آٹوموبائلز کا منافع 14.6 فیصد کمی سے 1.6 ارب روپے رہا۔
رپورٹ کے مطابق ٹریکٹرز کی فروخت 42.6 فیصد بڑھ کر 8 ہزار 499 یونٹس، ٹرکوں کی فروخت 37.2 فیصد اضافے سے 2 ہزار 561 یونٹس جبکہ موٹر سائیکلوں کی فروخت 27.4 فیصد بڑھ کر 5 لاکھ 30 ہزار 481 یونٹس ہوگئی۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان نے کہا ہے کہ پاکستانی آٹو موبائل صنعت کے مستقبل کے لیے مسابقتی مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی میں جدت اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب تیز منتقلی ضروری ہے۔
لاہور ایکسپو سینٹر میں پاکستان انٹرنیشنل آٹو شو 2026 کے موقع پر پی اے اے پی اے ایم سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار کا مقصد صرف ملکی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ معیار، قیمت، قابلِ اعتماد مصنوعات اور عالمی مسابقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی ہر گاڑی ایک وسیع صنعتی سلسلے کو سہارا دیتی ہے، جس میں مینوفیکچررز، وینڈر کمپنیاں، انجینئرز، ٹیکنیشنز اور دیگر کارکن شامل ہیں۔ ان کے مطابق آٹو سیکٹر ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 4 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔
رانا احسان افضل نے کہا کہ حکومت آٹو انڈسٹری کے ساتھ مل کر ایسی پالیسیوں پر کام کرے گی جو مستقل، منصفانہ اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کو اب الیکٹرک گاڑیوں سمیت نئی ٹیکنالوجیز کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔



