پی ٹی آئی کے 6 ارکان پارلیمنٹ گرفتار، 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل کشیدگی بڑھ گئی

اسلام آباد میں 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج سے قبل پولیس نے پارٹی کے 6 ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا۔ زیرحراست افراد میں عادل بازئی، سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثنا اللہ مستی خیل، میاں احسن جمال خان، داور خان اور محمد غوث شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں 3 ایم پی او کے تحت جہلم جیل منتقل کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی اقدامات سخت کردیئے گئے ہیں، جبکہ حکومت نے اسلام آباد آنے والے احتجاجی قافلوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں۔
دوسری جانب راولپنڈی ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر کے تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انٹرا سٹی اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بھی بحال رہے گی اور فی الحال کوئی شاہراہ بند نہیں کی گئی۔
لاہور میں پی ٹی آئی بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو بھی 3 ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں پی ٹی آئی رکن اسمبلی شکیل خان کے گارڈ کی مبینہ فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
سیاسی سطح پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ حکومتی رہنماؤں نے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے احتجاجی قافلوں کی ممکنہ آمد کے پیش نظر مختلف داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سیکیورٹی بڑھانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل مزید بڑھ گئی ہے۔



