پی ٹی آئی احتجاج: اسلام آباد میں 25 ہزار اضافی اہلکار تعینات، 24 تعلیمی ادارے بند

اسلام آباد میں 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج اور دیگر سیاسی مارچز کے پیش نظر سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں 25 ہزار اضافی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر کنٹینرز لگائے جارہے ہیں۔
سیکیورٹی پلان کے مطابق پنجاب اور سندھ سے 9،9 ہزار سے زائد جبکہ آزاد کشمیر سے تقریباً 6 ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچیں گے۔ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر ایک ہزار سے زائد کنٹینرز لگانے کی تیاری ہے، جبکہ ریڈ زون، ڈی چوک اور دیگر حساس مقامات پر بھی رکاوٹیں قائم کی جارہی ہیں۔
جڑواں شہروں کے تقریباً 30 داخلی و خارجی راستوں کو ضرورت کے مطابق بند کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جن میں راولپنڈی کے 11 راستے بھی شامل ہیں۔ موٹروے، جی ٹی روڈ اور دیگر اہم راستوں پر بھی سیکیورٹی انتظامات کیے جارہے ہیں۔
احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کے اسپتالوں کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ وفاقی اسپتالوں کو اضافی خون کا ذخیرہ، ایمبولینسز تیار رکھنے اور ہنگامی صورتحال کے لیے اضافی بیڈز مختص کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ہائی الرٹ 30 ستمبر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی اداروں کو سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے استعمال کرنے کے باعث بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق شہر کے تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے علاوہ جماعت اسلامی اور کسان اتحاد نے بھی مختلف احتجاجی پروگرامز کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں و اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی انتظامات جاری رہیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب آنے والے مارچ کو روکنے کے لیے حکومت اقدامات کرے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں عوامی سڑکوں، شاہراہوں اور سرکاری عمارتوں پر قبضے یا شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی ہے۔



