
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پراپرٹی ٹربیونل سے متعلق درخواست غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو عدالت سے رجوع کرنے کے بجائے متعلقہ ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ تنازعات ازالہ کمیٹی کے غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے عدالت کو فیصلہ جاری کرنا پڑا، جبکہ عدالتی فیصلے کے بعد تحفظِ جائیداد کے قانون میں بھی تبدیلی ہوئی۔
چیف جسٹس نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون پڑھے بغیر درخواستیں دائر کی جاتی ہیں، وکلا کو قانون پڑھ کر متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے یوٹیوبر رجب بٹ کی درخواست نمٹاتے ہوئے انہیں گارڈین کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ پہلے ہی گارڈین کورٹ میں زیر سماعت ہے اور گارڈین کورٹ بچے کی بہتر نشوونما اور مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کرسکتی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ گارڈین کورٹ نے 7 ستمبر کو بیٹے سے ملاقات کا فیصلہ جاری کیا، جسے ایڈیشنل سیشن جج نے بغیر نوٹس اور سماعت کے معطل کردیا۔
لاہور: لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے جعلی ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے میں عظمیٰ بخاری ک ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست پر ایف آئی اے سائبر کرائم، چیف سیکریٹری پنجاب اور دیگر فریقین سے تحریری جواب طلب کرلیا۔
درخواست گزار کے وکیل علی بخاری نے مؤقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث عظمیٰ بخاری کا عدالت میں پیش ہونا ممکن نہیں۔ ٹرائل کورٹ نے تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ طلب کیے بغیر ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست مسترد کردی۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے کر ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی اور بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دی جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسد باجوہ نے لاہور چیمبر آف کامرس کے انتخابات کا پولنگ وینیو تبدیل کرنے کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ پولنگ مقام پر 19 ہزار 87 ایسوسی ایٹ کلاس ووٹرز کے لیے گنجائش ناکافی ہے۔ پولنگ بوتھ کی تعداد 25 سے بڑھا کر 40 کرنے کے باوجود گنجائش کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
درخواست گزار کے مطابق فلیٹی ہوٹل انتظامیہ نے 49 ہزار 500 مربع فٹ کورڈ جگہ اور 7 داخلی و خارجی راستوں کی پیشکش کی ہے۔ درخواست میں 23 اور 24 ستمبر کو ایل سی سی آئی دفتر میں پولنگ روکنے اور الیکشن کمیشن سے متعلق ریگولیٹر کا 16 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
عمران خان کی تین بہنوں کے خلاف نظر بندی کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سی لاہور نے غیر قانونی طور پر نظر بندی کے احکامات جاری کیے اور تھری ایم پی او کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔درخواست میں کہا گیا کہ علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے، جبکہ پولیس مقدمہ نمبر 96/23 میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو بے گناہ قرار دے چکی ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے ڈی سی لاہور کے نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے گرفتار پی ٹی آئی رہنما میاں حماد اظہر سے اہلخانہ اور وکلا کی ملاقات کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔وکیل ابوذر سلیمان نیازی نے مؤقف اختیار کیا کہ اے ٹی سی جج نے اہلخانہ اور وکلا سے ملاقات کی درخواست خارج کرکے پولیس سے رجوع کرنے کی ہدایت کی، تاہم پولیس تھانے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی۔
وکیل نے کہا کہ حماد اظہر کا 20 روزہ ریمانڈ دیا گیا ہے جسے چیلنج کرنا ہے، لیکن ملاقات نہ ہونے کے باعث وکالت نامے پر دستخط نہیں ہو رہے اور آئینی حق متاثر ہورہا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ وکالت نامے پر دستخط کے لیے سپرنٹنڈنٹ جیل کو درخواست دی گئی؟ وکیل نے بتایا کہ حماد اظہر جیل نہیں بلکہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی تحویل میں موجود ملزمان کو بائیومیٹرک کی سہولت دستیاب نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر بائیومیٹرک نہیں ہوسکتی تو کیا ریمانڈ چیلنج نہیں ہوسکتا؟ بعد ازاں عدالت نے وکیل کو تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی۔



