Uncategorized

امریکا کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا منصوبہ نہیں، وائٹ ہاؤس

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے کہا ہے کہ امریکا کا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

اینا کیلی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اس بیان پر ردعمل دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری سے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایرانی حکومت کے خاتمے کے مبینہ منصوبوں سے متعلق گفتگو کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔

اس پر اینا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران معاشی اور فوجی دونوں اعتبار سے انتہائی خراب صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناکہ بندی پوری شدت کے ساتھ برقرار رہے گی، جبکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ریکارڈ مقدار میں ترسیل جاری رہے گی۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کے امکان کو بھی مسترد کردیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے اور نہ ہی وہاں امریکی فوجی دستے بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کے حوالے سے سامنے آنے والے فوکس نیوز کے سروے میں ان کی مجموعی کارکردگی پر عوامی ردعمل کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔

سروے کے مطابق 64 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ 36 فیصد نے ان کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سروے میں 55 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کو بھی مسترد کردیا۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات کی تیاری جاری ہے اور ایران سے متعلق امریکی پالیسی، مہنگائی اور ملکی معیشت اہم عوامی موضوعات بنے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button