کراچی: رابعہ سٹی میں این سی سی آئی اے کے چھاپے، 42 افراد گرفتار
تین کمپنیوں میں مبینہ طور پر فحش اینیمیشنز اور جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے آن لائن سرگرمیوں کا انکشاف، 41 موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی زون نے رابعہ سٹی میں کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر آن لائن پورنوگرافک اینیمیشنز اور فریب پر مبنی سوشل میڈیا سرگرمیوں میں ملوث تین کمپنیوں پر چھاپے مار کر 42 افراد کو گرفتار کرلیا، جبکہ مزید تحقیقات کے لیے 41 موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے۔
حکام کے مطابق کارروائی کا ہدف تین ایسی کمپنیاں تھیں جو مبینہ طور پر غیر ملکی صارفین کو فحش کارٹون اینیمیشنز، جنسی طور پر واضح ڈیجیٹل مواد اور دیگر ڈیجیٹل ڈیزائننگ کی خدمات فراہم کرنے، ان کی تشہیر اور آن لائن فروخت میں ملوث تھیں۔ گرفتار افراد میں کمپنیوں کے مالکان اور ملازمین شامل ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ کمپنیاں آن لائن ایجنٹس کی منظم ٹیموں کے ذریعے کام کررہی تھیں، جو انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر ملکی صارفین سے رابطہ کرتی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر فرضی شناخت، خواتین کے ناموں اور جعلی پروفائلز کے ذریعے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے اور چلائے جاتے تھے۔ ان اکاؤنٹس پر لوگو، بینرز، ڈیجیٹل عکاسی، اینیمیشنز اور جنسی طور پر واضح کارٹون مواد سمیت مختلف خدمات کی تشہیر کی جاتی تھی۔
تفتیشی حکام ان الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ایجنٹس نے غیر ملکی صارفین کو راغب کرنے اور فحش اینیمیٹڈ مواد کے آرڈرز حاصل کرنے کے لیے گمراہ کن شناخت استعمال کی۔
حکام کے مطابق پہلی کمپنی فدا حسین نامی شخص کی ملکیت ہے، جو تقریباً دو سال سے کام کررہی تھی۔ یہ کمپنی بین الاقوامی صارفین کو لوگو ڈیزائننگ، بینر ڈیزائننگ اور دیگر ڈیجیٹل آرٹ ورک کی خدمات فراہم کرتی تھی۔ کارروائی کے دوران اس کمپنی سے 19 موبائل فونز ضبط کیے گئے۔
دوسری کمپنی کے مالک کا نام مبینہ طور پر دانش بتایا گیا ہے۔ یہ کمپنی چار افراد پر مشتمل عملے کے ساتھ کام کررہی تھی اور بنیادی طور پر غیر ملکی صارفین کو لوگو اور بینر ڈیزائننگ کی خدمات آن لائن فروخت کرنے میں مصروف تھی۔ یہاں سے پانچ موبائل فونز قبضے میں لیے گئے۔
حکام کے مطابق تیسری کمپنی مبینہ طور پر محسن اور احسان چلا رہے تھے، جس میں 17 افراد کام کرتے تھے۔ یہ کمپنی بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈیجیٹل ڈیزائننگ، اینیمیشن اور آن لائن مواد کی خدمات فراہم کرتی تھی۔ اس کمپنی سے 17 موبائل فونز ضبط کیے گئے۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ضبط شدہ 41 موبائل فونز کو تکنیکی اور ڈیجیٹل فارنزک تجزیے کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ مشتبہ سرگرمیوں کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کیا جاسکے۔
تفتیش کار گرفتار افراد کے انفرادی کردار کا تعین کرنے اور الزامات کی تصدیق کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ڈیجیٹل پیغامات، مبینہ فحش اینیمیٹڈ مواد اور دیگر الیکٹرانک شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تحقیقات میں یہ پہلو بھی شامل ہے کہ آیا بین الاقوامی صارفین کے ساتھ لین دین کے دوران فرضی یا جعلی آن لائن شناخت استعمال کی گئی اور آیا متعلقہ سرگرمیوں کے ذریعے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی۔
حکام کے مطابق مزید کارروائی ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں کی جائے گی۔



