پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی ایران امریکا مفاہمت کی حمایت

اسلام آباد: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت کی حمایت کرتے ہوئے خلیج میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعے کو استنبول میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کا حل صرف بات چیت اور سفارتی ذرائع سے تلاش کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے شہریوں، شہری تنصیبات اور بحری جہازوں پر حملے روکنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے شرکت کی۔
مشترکہ اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس پیش رفت کو ایران تنازع کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کی اہمیت کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے بعد ازاں یورپی وزرائے خارجہ کے ساتھ توسیعی اجلاس میں اپنے ہم منصبوں کو پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
استنبول میں ہونے والے اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ چار علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ نے پہلی مرتبہ بڑی یورپی طاقتوں کے ساتھ بھی مشاورت کی۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ اٹلی نے بھی اجلاس میں شرکت کی، جس سے یہ آٹھ ممالک کی مشاورت بن گئی۔
اجلاس میں ایران کی صورت حال، آبنائے ہرمز، یمن، فلسطین اور بحری سلامتی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دے گی۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں فوجی مداخلت کسی صورت مسئلے کا حل نہیں اور اس وقت کوئی بھی اس کی حمایت نہیں کرتا۔
اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی اجلاس سے قبل خبردار کیا تھا کہ خلیج میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے خدشات موجود ہیں، اس لیے نئی جنگ روکنا فوری ترجیح ہونی چاہیے۔
چاروں ممالک نے آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے محفوظ، غیرمشروط اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت جلد مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں قانونی بحری آمدورفت پر پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ سمندری راستوں میں خلل سے توانائی، خوراک اور کھاد کی فراہمی سمیت عالمی سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے۔
اجلاس میں یمن کی صورت حال پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔ چاروں ممالک نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں، بالخصوص شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔
اعلامیے میں سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثیوں پر زور دیا گیا کہ وہ فوجی کارروائیاں روک کر سیاسی عمل کی طرف واپس آئیں۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اگست میں دستخط کیے گئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بھی شراکت دار ہیں۔ اسحاق ڈار اور حاقان فیدان نے استنبول میں دوطرفہ ملاقات کے دوران سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی اور دفاعی معاہدے کے تحت قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
فلسطین کا معاملہ بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔ چاروں ممالک نے اسرائیلی قبضے کو علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجوہات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے تشدد اور یہودی بستیوں کی سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ وزرائے خارجہ نے غزہ میں انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی اور تعمیر نو کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزارتی مشاورت کے بعد شریک ممالک کے وزرائے خارجہ نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ اسحاق ڈار نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورت حال پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا اور مسلسل مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
اس سے قبل اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا تھا کہ چار ملکی گروپ (آر فور) علاقائی عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے ایک اہم فورم بن کر ابھرا ہے، جس کا دائرہ اب یورپی ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے وسیع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ بات چیت میں سمندری راستوں سے محفوظ آمدورفت، یمن، حوثیوں اور آبنائے ہرمز سمیت پورے خطے کو متاثر کرنے والے معاملات زیر بحث آئیں گے۔ ان کے مطابق بنیادی مقصد امن و استحکام کو فروغ دینے اور مجموعی صورت حال میں کشیدگی کم کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کرچکے ہیں، جبکہ ترکیہ میں اس سلسلے میں ضروری قانونی کارروائی جاری ہے۔
ان کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت رکھتا ہے۔ کسی حملے کی صورت میں معاہدے کی اجتماعی دفاع سے متعلق شقوں کو نافذ کرنے کا فیصلہ تینوں شراکت دار ممالک معاہدے کی شرائط کے مطابق کریں گے۔



