سینیٹرز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور، ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو سہولت دینے کی مخالفت

اسلام آباد: سینیٹ نے ارکان پارلیمنٹ کو تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے اور استعمال کرنے کا حق دینے سے متعلق پاسپورٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ بل میں سابق ارکان پارلیمنٹ کو بھی بلیو پاسپورٹ رکھنے کی سہولت دینے کی تجویز پیش کی گئی، جبکہ ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو یہ سہولت دینے کی تجویز پر اختلاف سامنے آیا۔
سینیٹر عبدالقادر نے پاسپورٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا، جس کے مطابق ایسا ریٹائرڈ پارلیمنٹیرین جس نے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہو، وہ اپنی مدت مکمل کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر بلیو پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے اور استعمال کرنے کا حق دار ہوگا۔
بل میں ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز شامل تھی۔
بل پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ ریٹائرڈ سرکاری افسران، سیکرٹریز اور ججوں کے بلیو پاسپورٹ منسوخ کیے جانے چاہئیں۔
سینیٹر عبدالقادر نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر گریڈ 22 کے سرکاری افسران کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دیا جاتا ہے تو ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو یہ سہولت دینے پر اعتراض کیوں ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سابق سیکرٹریز کے بچوں کو جاری کیے گئے بلیو پاسپورٹ واپس لینے کے لیے بھی حکومت بل لائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گرین پاسپورٹ کی عالمی ساکھ ریڈ اور بلیو پاسپورٹ کی تعداد سے متاثر ہوتی ہے۔ جب پاکستان دوسرے ممالک سے ویزا فری انٹری کی بات کرتا ہے تو وہاں سے سوال کیا جاتا ہے کہ ملک میں بلیو پاسپورٹ کتنے ہیں۔
طلال چوہدری کے مطابق پاکستان کی جانب سے بلیو پاسپورٹ کی تعداد 75 ہزار بتائی جاتی ہے، جس کے باعث ویزا فری انٹری سے متعلق بات آگے نہیں بڑھ پاتی۔
وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بھی ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کی مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ سرکاری حیثیت کی علامت ہے اور ریٹائر ہونے والے سرکاری افسران کے بچوں کے بلیو پاسپورٹ ختم کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا جائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بچوں کو اپنا کریئر خود بنانے دینا چاہیے، کیونکہ بلیو پاسپورٹ سے عزت میں اضافہ نہیں ہوتا۔