Uncategorized
nobel
بیوی کی تکلیف کا حل تلاش کرنے نکلا..لوگوں نے پاگل کہا۔ بیوی بھی چھوڑ گئی.مگر وہ نہیں رکا۔
صرف ساتویں جماعت تک پڑھا ایک غریب آدمی، جس نے اپنی بیوی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے خود پر تجربہ کیا اور پھر کروڑوں خواتین کی زندگی بدل دی!
اروناچلم مروگنانتھم (Arunachalam Muruganantham) کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔
تامل ناڈو کے شہر کوئمبتور میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے مروگنانتھم نے صرف 14 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ کھیتوں میں مزدوری کرتی تھیں، اس لیے گھر سنبھالنے کے لیے انہیں کم عمری ہی میں مختلف کام کرنے پڑے۔
مگر یہی شخص آگے چل کر بھارت کا مشہور ’’پیڈ مین‘‘ بننے والا تھا۔
1998 میں شادی کے بعد ایک دن انہوں نے دیکھا کہ ان کی بیوی ماہواری کے دوران سینیٹری پیڈ کے بجائے پرانے کپڑے استعمال کرتی ہیں۔
وجہ صرف یہ تھی کہ تیار شدہ سینیٹری پیڈ ان کے گھر کے بجٹ پر بھاری پڑتے تھے۔ مروگنانتھم کے لیے یہ معمولی بات نہیں تھی؛ انہیں احساس ہوا کہ جس چیز کی ضرورت ہر عورت کو ہے، وہ بہت سی غریب خواتین کی پہنچ سے باہر ہے۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ایک ایسا سستا سینیٹری پیڈ بنائیں گے جو عام عورت بھی خرید سکے۔
مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اس کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ پہلے انہوں نے روئی سے پیڈ بنانے کی کوشش کی، مگر نتیجہ ناکام رہا۔ اپنی بیوی اور بہنوں سے تجربہ کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے بھی انکار کر دیا، کیونکہ ماہواری اس معاشرے میں ایک شدید سماجی ممنوعہ موضوع تھا۔
پھر مروگنانتھم نے وہ قدم اٹھایا جس پر لوگ آج بھی حیران ہوتے ہیں۔
انہوں نے جانور کے خون سے ایک مصنوعی نظام بنایا، اسے اپنے جسم کے ساتھ باندھا اور خود تیار کیے گئے پیڈ کو آزمایا تاکہ سمجھ سکیں کہ عورت کو ماہواری کے دوران کس طرح کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
ان کے اس تجربے نے انہیں اپنے مقصد کے قریب ضرور پہنچایا، مگر ساتھ ہی پورا گاؤں ان کا مذاق اڑانے لگا۔ حتیٰ کہ افواہ پھیل گئی کہ وہ لڑکیوں کا خون پیتے ہیں۔ خاندان اور معاشرے کی شدید مخالفت یہاں تک پہنچی کہ ان کی بیوی بھی کچھ عرصے کے لیے ان سے الگ ہو گئیں۔
لیکن مروگنانتھم رکے نہیں۔
دو سال سے زیادہ تحقیق کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ جدید سینیٹری پیڈ صرف عام روئی سے نہیں بنتا بلکہ اس میں خاص قسم کا سیلولوز استعمال ہوتا ہے، جو لکڑی سے حاصل کیا جاتا ہے۔
بڑے کارخانوں میں اسے تیار کرنے کے لیے انتہائی مہنگا صنعتی نظام درکار تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ایک معمولی تعلیم رکھنے والے شخص نے ایک غیر معمولی کام کرنے کا فیصلہ کیا: اگر بڑی کمپنیوں کی مشین مہنگی ہے تو وہ اپنی مشین خود بنائیں گے۔
کئی سال کی مسلسل محنت کے بعد انہوں نے ایک ایسی کم قیمت مشین تیار کرلی جو نسبتاً چھوٹے پیمانے پر سینیٹری پیڈ تیار کرسکتی تھی۔ ان کا ماڈل صرف پیڈ بنانے تک محدود نہیں تھا۔
وہ چاہتے تھے کہ دیہی خواتین کے گروپ خود یہ چھوٹے یونٹ چلائیں، مقامی سطح پر پیڈ بنائیں، روزگار حاصل کریں اور دوسری خواتین کو بھی سستی اور بہتر ماہواری کی مصنوعات فراہم کریں۔ TED کے مطابق ان کے چھوٹے پیمانے کے یونٹ میں تقریباً 120 پیڈ فی گھنٹہ بنانے کی صلاحیت تھی۔
جہاں عام مارکیٹ میں ایک سینیٹری پیڈ تقریباً 8 بھارتی روپے میں ملتا تھا، وہاں مروگنانتھم کے بنائے گئے کم لاگت نظام سے تیار ہونے والا پیڈ اوسطاً صرف 2.50 روپے میں یعنی تقریباً 70 فیصد کم قیمت پر دستیاب ہونے لگا—
2006 میں ان کی ایجاد کو نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن کے Grassroots Technological Innovations Award سے بھی نوازا گیا۔
2014 میں TIME میگزین نے انہیں دنیا کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں شامل کیا۔
2016 میں بھارت حکومت نے انہیں پدم شری (Padma Shri) سے بھی نوازا۔
ان کی زندگی پر 2013 کی دستاویزی فلم ’’Menstrual Man‘‘ بنی اور بعد میں ان کی کہانی سے متاثر ہو کر اکشے کمار کی فلم ’’Pad Man‘‘ بھی بنائی گئی۔
اس سال ان کا نام بھی نوبل امن انعام کیلئے زیر غور آیا۔
مروگنانتھم کی اصل کامیابی صرف ایک مشین ایجاد کرنا نہیں تھی۔ انہوں نے ایک ایسے موضوع پر بات کرنے کی ہمت کی جس پر معاشرہ خاموش رہنا پسند کرتا تھا۔
انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عظیم تبدیلی ہمیشہ بڑی ڈگری، بڑی کمپنی یا بے پناہ دولت سے نہیں آتی۔ کبھی کبھی ایک عام آدمی کا کسی دوسرے انسان کی مشکل کو اپنا مسئلہ سمجھ لینا ہی انقلاب کی پہلی سیڑھی بن جاتا ہے۔
اروناچلم مروگنانتھم کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر نیت مضبوط ہو تو محدود تعلیم، غربت، ناکامی، مذاق اور مخالفت بھی انسان کو اس راستے سے نہیں ہٹا سکتے جس پر وہ یقین رکھتا ہو۔۔۔
