column and articlelatest news

’اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے‘ پنجابی زبان و ادب کے صاحبِ اسلوب ادیب اور شاعر شہزاد فراموش

طاہر اصغر

تخلیق کا عمل اپنی آخری شکل میں لفظ کی تلاش کا عمل ہے۔ غالب اس لئے بڑا شاعر نہیں کہ اس نے نئی روشنی کے مرکز کلکتہ کا ذکر کیا بلکہ اس لئے کہ ”ہائے ہائے“ کا اس طرح استعمال کیا کہ پڑھنے والے کے دل میں ایک تیر پیوست ہو گیا۔

غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
رو یئے زاز زار کیا، کیجئے ہائے ہائے کیوں

شکسپئیر کو دیکھیئے ”To be, or not to be“کو کیسا گنجینہ معنی بنا دیا۔”میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے“ میں میر نے ”میاں“ جیسے معمولی لفظ کو کیسے ایک شفیق بزرگ درویشانہ چمکار میں بول دیا۔ ایک لفظ کے اتنے سہ جہتی پہلو ہیں کہ وہ کسی شعر اور جملے میں ایک جہانِ معنی کا درجہ اختیار کر جاتا ہے۔ یہاں منٹو کے افسانے ”کھول دو“کا ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا۔ یہ دو لفظ ”کھول دو“انسانی نفسیات کے عمیق اور اتھاہ اندھیروں میں گم ایک لاشعوری احساس کو ظاہر کرتے ہیں۔ شہزاد فراموش نے پنجابی زبان کے ساتھ کچھ ایسا گہرا عشق کیا ہے کہ بعض مواقع پر وہ متعصب دکھائی دیا لیکن شاید جذباتی کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ منٹو، احمد راہی کی ”ترنجن“ کے فلیپ میں اپنی واحد پنجابی تحریر میں لکھتے ہیں کہ ”ترنجن“ دا ناں سُن دیاں ای میرے دماغ وچ اک ایہو جیہی جگہ دا تصور اُبھرا آندا اے جیہڑی میں اج تیکر نہیں ویکھی۔ جدوں وی کوئی ترنجن دا ذکر کر دا اے، میں اک عجیب قسم دی مسرت محسوس کرنا آں۔ مینوں ایویں لگدا اے میں اک کُڑی آں جو اپنی ہانناں نال بیٹھی چرخہ کت رہی اے۔ ایہنوں تسیں پنجابی پِنڈاں دی فضا دا جادو کہہ لوو یا ایہنوں کوئی ہور ناں دے دیو۔ ایس مجموعے وچ دمڑی دے سَک توں لے کے لکھاں دے کاروبار دا ذکر اے۔ لونگ دے لشکارے توں لے کے اوہناں بجلیاں دِیاں کہانیاں بیان کیتیاں گئیاں نیں۔“
شہزاد فراموش منٹو کی اس اکلوتی پنجابی تحریر کا شیدا ہیں۔

وہ نہ صرف منٹو کا مزید پرستار ہوگیا بلکہ احمد راہی کی پنجابی نظموں کی کتاب ”ترنجن“ کے حوالے سے اس نے احمد راہی پر ایک بہت عمدہ تحریر بھی لکھی ہے۔ شہزاد فراموش نے در حقیقت اپنی تمام علمی کاوش میں اردو بولن والی کُڑی کو وارث شاہ کی ہیر، گاؤں کی چوپال، کنویں کی منڈیروں، یہاں کے ہل اور کھیت، کھلیانوں میں کام کرتے ہوئے افراد کی دلکش زبان سے متعارف کرا دیا ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو شادی بیاہ کے موقع پر وارث لدھیانوی کے گیت ”دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا، امبڑی دے دل دا سہارا،نی وِیر میرا گھوڑی چڑھیا“اور حزیں قادری، خواجہ پرویز، سیف الدین سیف، احمد راہی کے پنجابی فلموں کے شاہکار گیتوں اور کہانیوں کا اظہار ہے۔

شہزاد فراموش کے پنجابی افسانوں کے مجموعے ”چپ،ساہ تے سُفنے“ میں اکیس کہانیاں ہیں،درحقیقت یہ پنجابی زبان کو ”اکیس توپوں کی سلامی“ ہے۔پروین ملک، زاہد حسن اور خالد فرہاد دھاریوال نے شہزاد فراموش کی افسانہ نگاری پر اپنی آراء میں اُسے ایک صاحب اسلوب قرار دیا ہے۔ شہزاد فراموش کی علمی دلچسپی کا محور لاہور کی تاریخ بھی ہے۔ وہ تمام تصانیف اُسے ازبر ہیں جو لاہور کی تاریخ کے بارے میں لکھی گئی ہیں۔ وہ لاہور کے دروبام، گلی، کوچوں، چوباروں اور جھروکوں سے بخوبی آگاہ ہے جنہیں وہ کسی کہانی کار کی طرح سناتا ہے۔ وہ ان راستوں پہ چلتا ہوا ہمیں بتاتا ہے کہ یہاں سے کون کون اہم شخصیت گزری تھی۔ اُس جھروکے کی چلمن کے پیچھے کیا تھا،یہ درسگاہ کیسے تعمیر ہوئی اور زنانِ بازاری ہیرا منڈی کیسے وجود میں آئی۔ آنے والے دنوں میں اس کی لاہور کے بارے میں ایک معرکتہ آلارا کتاب بھی شائع ہورہی ہے جس پر کام جاری ہے، یہ کتاب اس کے نام کا ایک اور بڑا حوالہ ثابت ہو گی۔

ایف سی کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد شہزاد فراموش نے اردو اور پنجابی زبان میں ایم اے کیا ہے، لیکن اس کی نصابی تعلیم سے بڑا کام اُس کا بالغ شعور اور علم ہے جو اُس نے لائبریریوں میں موجود گم شدہ صحیفوں کو کھنگال کر حاصل کیا ہے۔

شہزاد فراموش کسی اعزاز یا ایوارڈ کے لئے کبھی قطار میں کھڑا نہیں ہوا۔ لاہور پریس کلب کی لائبریری کے لئے اس نے ہزاروں کتابیں اشاعتی اداروں سے حاصل کیں۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ صحافیوں کی اکثریت کے ہاتھوں میں کبھی کوئی کتاب نہیں ہوتی بلکہ اپنی ضرورتوں کی لا متناہی فہرست ہوتی ہے۔ لاہور پریس کلب کی کلچرل کمیٹی کے اہم رکن کی حیثیت سے اس نے بے شمار اہم شخصیات کو بلایا اور ان کی زندگی کے سفر کی کہانی کو محفوظ کیا جنہیں حاضرین نے پہلی بار سنا۔پریس کلب میں کتاب میلوں کا انعقاد کیا اور ماں بولی دیہاڑ پر پنجابی فیسٹیول کا اہتمام تن تنہا کیا ہے۔

شہزاد فراموش کا علمی سفر، پنجابی زبان و ادب کے لئے خدمات اور دوست نوازی ناقابلِ فراموش ہے۔ اُس نے کئی ایسے مواقع پر جب میری جیب خالی ہوتی تھی، میری کہیں سے حاصل کی گئیں نئی کتابیں، پرانی کتابیں بیچنے والوں کو فروخت کرنے کیلئے دوڑ دھوپ کی ہے۔اس نے ایک اوسط درجے کے”پنجابی لکھنوی شاعر“ کی شخصیت کی نہ صرف افسانوی حاشیہ آرائی کی ہے بلکہ اُس کی زندہ لاش کے ملبے کو گھر سے اٹھا کر پریس کلب لا کربھی پھینکا اور وہ کلب سے کہیں بھی جانا چاہے تو اُس کی موٹر سائیکل پر سوار ہو جاتا ہے اور فراموش اُس کی تعمیل کرتا ہے۔

شہزاد فراموش لاہورپر یس کلب کا لائف ممبر ہے اور اس برس حلقہ اربابِ ذوق کا بلا مقابلہ جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوا ہے۔ جہاں متعدد اجلاس کی صدارت کے لیے اہم شخصیات کو بلانا اُس کی کاوش ہے اور حلقہ کی لمحہ بہ لمحہ قائم ہوتی ہوئی ادبی روایت کی مشعل کو روشن کرنے کے لئے محنت اس کی ایک نئی ذمہ داری ہے۔شہزاد فراموش علمی اور تاریخی طور پر بھولے بھٹکوں کو درست راستے پر لاتا ہے۔ وہ ایک بے سمت ہجوم میں گم ہے مگر اپنی ذمہ داریوں اور مطالعہ کو کبھی فراموش نہیں کرتا، یہی اس کی انفرادیت ہے۔

شہزاد فراموش کی کہانی ”کوڈی دیاں چیکاں“ میں لفظ کی دریافت بہت عمدہ انداز میں ہوئی ہے۔”اچنچیت، توڑ، تڑاوا، بیلا گان، منگڑی، جنانا، کانسرا، بانٹہ گے“ یہ وہ الفاظ ہیں جو اس کے افسانے میں انگشتری میں نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ ”سب منگتے نیں، عشق دی کُوک، اوکھے پینڈے، کچی مٹی دی مہک، مشیناں وچ گواچا بندہ، وِسریا مُکھ“ اُس کے ایسے افسانے ہیں جو پنجابی کے افسانوی ادب میں گراں قدر اضافہ ہیں۔ پنجابی زبان کے طالب علم اور محقق شہزاد فراموش کی کہانیوں میں ایک ایسے سماج کی تصویر کو دیکھ سکتے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے نہیں دکھائی۔

ایک محقق کی حیثیت سے شہزاد فراموش نے پنجابی زبان کے الفاظ کی درستی اور اصل برتاؤ کو ایسے پیش کیا ہے، جیسے گم شدہ تصور اور تعبیر کو کسی آشنا کی طرح ہم سے ملوایا ہو۔ مجھے اس پر ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ علمی طور پر اتنا مالا مال ہے کہ کسی بھی ادارے بالخصوص پنجابی زبان و ادب کے لئے کام کرنے والے پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں سے ایک بامعنی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک میڈیا گروپ نے پنجابی چینل کا آغاز کیا تو سب جانتے تھے کہ شہزاد فراموش اس چینل کیلئے موزوں ترین شخصیت ہی نہیں ہے بلکہ وہ اس کی افادیت اور مقاصد کو کسی بھی اردو چینل سے زیادہ موثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مگر اُس کا راستہ روکنے والے اُس کے دشمن نہیں بلکہ اُس کے اپنے دوست تھے۔ لہٰذا وہ کسی سفارش اور دستک دینے سے باز رہا کہ یہ اُس کا وطیرہ نہیں ہے۔

پنجابی کے داستانوی ادب میں آج کی ملاوٹ کو وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ حقیقی کہانی کا حصہ نہیں ہے، بلکہ چند نو آموز اور برسرخود فاتر العقل افراد کی کارستانی ہے، لیکن اب غلط العام بھی اصل کہانی کا حصہ بن چکا ہے۔اس ضمن میں ہیر وارث شاہ سب سے زیادہ مظلوم ہے۔کیا پنجاب گورنمنٹ اس بارے میں شہزاد فراموش کی خدمات سے فائدہ اُٹھا سکتی ہے کہ وہ باجرے میں شامل ریت کو الگ کرنے کا ہنر رکھتا ہے، مگر یہ دیوانے کا خواب ہے۔

میں اپنے دوست کی علمی وادبی حیثیت کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈال سکتا ہوں۔وہ ایک استاد کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی پنجابی کلاس کے طالب علموں کو نصاب سے زیادہ پنجابی زبان کے آداب سے بہرہ مند کر سکتا ہے۔ وہ کسی پنجابی یونیورسٹی کے وائس چانسلرکی حیثیت سے ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔ شہزاد فراموش کی دلچسپی کا ایک اور اہم پہلو موسیقی سے شغف ہے۔ علم ِ عروض پر تو اُسے مکمل دسترس ہے، وہ راگوں کی بندش کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔اس نے گلوکاری کو باقاعدہ شعار تو نہیں بنایا لیکن بر صغیر کی فلمی موسیقی کے تمام بڑے موسیقاروں اور گلوکاروں سے وہ اچھی طرح آشنا ہے اور ان کے کام سے بھی آ گاہ ہے۔ہم اس سے محمد رفیع، مناڈے، کشور کمار بھی سن سکتے ہیں اور مکیش کو گنگناتا ہوا بھی بسا اوقات دکھائی دے گا۔

پنجابی زبان کے استاد، شاعر،ڈرامہ نگار نجم حسین سید جو سو سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، وہ خود سو برس کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں، آج ان کی حیثیت ایک برگد کی سی ہے۔اُن کے سائے میں اگر مشتاق صوفی اور عابد عمیق جیسے شاعر اور ناقد پنجابی زبان کی نزاکتوں اور اُس کی صوفیانہ روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں تو دوسری طرف پنجابی فکشن کی شاندار تصویر شہزاد فراموش کے افسانوں میں بھی موجود ہے۔وہ عملی طور پر پنجابی زبان کو تمام عالم میں چڑھدے پنجاب کے فن کاروں کی طرح ایک روشن سورج جیسا دیکھنے کا متمنی ہے۔وہ یہ سمجھتا ہے کہ قومی اور سرکاری زبان کے گنُجھلک میں پنجابی زبان کو اُس کا حق اُسی صورت مل سکتا ہے، جب سب سے بڑے صوبے پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں پنجابی میں کارروائی کا آغاز کیا جائے۔پنجابی زبان نصاب میں اختیاری نہ ہو لازمی ہو، پنجابی لکھنا، پڑھنا،بولنا تحقیر نہ ہو بلکہ فخر کی علامت ہو۔

شہزاد فراموش اس وقت ایک نامور شخصیت کے طور پر اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔ اس کے ذاتی شوق اور تجسس کا سفر پھیلے ہوئے افلاک جیسا اور سمندروں کی گہرائی میں اترنے کے جنون سے عبارت ہے۔اس نے طالب علمی کے دوران ہی نصاب تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ وہ زبان کے ماخذ تلاش کرنے اور فن کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرنے میں مصروف ہو گیا۔شاعری، افسانہ نگاری، تاریخ ِ لاہور اور پنجابی زبان کی خوشبو میں رچی بسی ہوئی اس کی علمیت اُس کی زندگی کا عنوان بن گئی۔وہ اس ہجوم میں گم سہی مگر اپنے کام سے غافل نہیں ہے۔وہ جانتا ہے کہ زندگی کا ہر پل ایک قیمتی لمحہ ہے جسے کسی طور بھی ضائع نہیں کرنا۔آج جس مقام پر وہ موجود ہے وہ اُسے اپنا نقطہ آغاز سمجھتا ہے، یہاں سے اُس نے ایک اڑان بھرنا ہے اور آفاق کی وسعتوں تک اپنا کام اور نام لے جانا ہے۔اُس کا تخیل اور تلاش ہم رکاب ہیں اور اس کا قلم ایک نئی کہانی لکھ رہا ہے جو در حقیقت شہزاد فراموش کے نام کی منفرد پہچان بن جائے گی۔وہ اپنے ذریعہ معاش کیلئے صحافت کے ریگزاروں میں اترا اور یہاں بھی اس نے اپنی حقیقی پہچان کو گم نہیں ہونے دیا، کالم نگاری، ایڈیشن انچارج،ٹی وی پروگرام میں انٹرویوز کے ساتھ ساتھ ایک پنجابی ادبی میگزین ”جنت‘ اور پنجابی ادبی سنگت کے جریدہ ”سنیہا“ کے بھی ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔یہاں شہزاد فراموش کے کام اور نام کے حوالے سے ابھی بہت سارے پہلو باقی ہیں کیونکہ اس کا علمی سفر اور پنجابی زبان سے غیر مشروط تعلق کا سلسلہ ابھی رُکا نہیں ہے۔

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button