آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستانی وقت کے بجائے گرین وچ معیاری وقت (GMT) کے مطابق 0345 بجے برینٹ خام تیل کے نرخ 63 سینٹ یا 0.6 فیصد اضافے سے 106.32 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 66 سینٹ یا 0.7 فیصد بڑھ کر 94.80 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ کاروبار کے دوران دونوں اقسام کے تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زیادہ اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، تاہم بعد میں کچھ اضافہ کم ہوگیا۔
ایرانی حکام نے نئی حکمت عملی کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے تقریباً 10 روز قبل ان جہازوں کے خلاف حملوں کے لیے مختلف حربے استعمال کرنا شروع کیے جنہیں وہ اپنی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا سمجھتا ہے۔ اہلکار کے مطابق اس تبدیلی کے بعد ایسے جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بردار جہاز اور ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔
فلپ نووا میں مارکیٹ انسائٹس کی سربراہ پریانکا سچدیوہ نے کہا کہ ایرانی حکام کی جانب سے تیل کی قیمتوں پر امریکی کوششوں کو متاثر کرنے سے متعلق بیانات خطے میں جاری امن مذاکرات کے پس منظر پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی جغرافیائی اہمیت اور تیل کی بلند قیمتوں کے عالمی معیشت پر اثرات سے آگاہ ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت توانائی کے مطابق ایران کے اتحادی حوثیوں نے دھہران شہر میں سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ لگ گئی۔
حوثی گروپ نے گزشتہ ہفتے یمنی حکومتی فورسز کی حمایت پر سعودی عرب کے خلاف بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو چار مرتبہ نشانہ بنایا گیا، جبکہ ہفتے کے روز ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔
نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا کے مطابق حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع سے تیل کی رسد کے بارے میں خدشات قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ تاہم، روسی ڈیزل کی برآمدات میں ممکنہ اضافے سے رسد کی صورت حال بہتر ہونے کی توقع قیمتوں میں مزید تیز اتار چڑھاؤ کو محدود کرسکتی ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ترسیل میں رکاوٹوں کے باوجود تیل کی پیداوار بڑھا دی تھی، جس کے نتیجے میں اوپیک پلس ممالک کی مجموعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اوپیک نے منگل کو اس اضافے کی تصدیق کی۔
ادھر روسی حکومت نے کہا ہے کہ اسے یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات اور امریکا کو ڈیزل برآمد کرنے کے معاہدے کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نظر نہیں آتا۔ یہ بیان رائٹرز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی نمائندوں نے یوکرینی حکام کو بتایا کہ اس معاہدے کا ایک مقصد روس کو امن مذاکرات کی طرف واپس لانا بھی ہے۔



