پاکستان کا ہدف ڈبل بی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ حاصل کرنا ہے، وزیر خزانہ

بینکاک: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلسل معاشی بہتری کے ذریعے خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے ڈبل بی درجے میں داخل ہونے کا ہدف رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، مسلسل تین سال پرائمری سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
وزارت خزانہ کے بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے بینکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں اور امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
سٹی میکرو فورم اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے خودمختار سرمایہ کاروں کے اجلاس میں انہوں نے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ حکمت عملی بیان کرتے ہوئے پانڈا بانڈز کے مزید اجرا، سکوک اور روپے میں مالیت جبکہ ڈالر میں ادائیگی والے مجوزہ بین الاقوامی بانڈ کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکمت عملی کا مقصد قرض لینے کی لاگت کم کرنا، قرضوں کی مدت بڑھانا اور قرضوں کی دوبارہ ادائیگی کے لیے مالی وسائل کے انتظام سے متعلق خطرات محدود کرنا ہے۔ انہوں نے رواں مالی سال معاشی نمو 4 فیصد یا اس سے زیادہ رہنے کی توقع بھی ظاہر کی۔
ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے ساتھ ملاقات میں وزیر خزانہ نے ستمبر میں بانڈ کے اجرا، سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت اور آئی ایم ایف پروگرام پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ٹیکس وصولیوں میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور سوئپ و فارورڈ واجبات میں کمی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایس اینڈ پی نے پالیسیوں کے تسلسل، اصلاحات پر عمل درآمد، سود کی ادائیگیوں کے بوجھ میں کمی اور بیرونی مالیاتی تحفظات مضبوط بنانے پر زور دیا۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAP) سے متعلق اجلاس میں محمد اورنگزیب نے 3.7 فیصد معاشی نمو اور 7 اکتوبر کو عملے کی سطح پر طے پانے والے معاہدے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کم آمدنی والے طبقوں کے تحفظ کے لیے ہدفی، بجٹ پر غیر اضافی بوجھ ڈالنے والی اور مقررہ مدت کی سبسڈی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر خزانہ نے توانائی کے ذرائع میں تنوع، علاقائی انضمام اور لاجسٹکس و غذائی نظام میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) کی صدر زو جیا سے ملاقات میں بجلی کی ترسیل کے نظام اور ریلوے کی جدید کاری کو ترجیحی منصوبے قرار دیا گیا۔ بینک نے سال کے اختتام سے پہلے بجلی کی ترسیل کے ایک منصوبے کی منظوری دینے کا ہدف ظاہر کیا۔ ملاقات میں ایم ایل ون ریلوے منصوبے کے کراچی تا روہڑی حصے، ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مشترکہ مالی معاونت اور توانائی و غذائی تحفظ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بجٹ معاونت پر بھی گفتگو ہوئی۔
ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کے منیجنگ ڈائریکٹر تسوتومو یاماموتو سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی بہتر کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے تناظر میں مالی معاونت کی شرائط پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ انہوں نے میگا کی جانب سے قیمتوں اور اخراجات کے تعین میں نظرثانی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ملاقات میں برطانیہ کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت پن بجلی سے متعلق ایک مقدمے کا بھی جائزہ لیا گیا۔
آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے ملاقات میں محمد اورنگزیب نے اصلاحات کے لیے سیاسی حمایت اور ان پر مستقل عمل درآمد کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کے تناسب میں کمی کا بھی ذکر کیا۔
وزیر خزانہ نے امریکی محکمہ خارجہ کے سفیر یون سے بھی ملاقات کی، جس میں تجارتی فریم ورک معاہدے، توانائی کے ذرائع میں تنوع، ریکوڈک منصوبے، اہم معدنیات، بوئنگ طیاروں کے حصول، ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار اور امریکی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن (DFC) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک (EXIM Bank) کی مالی معاونت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔



